ختم قرآن چندہ ، ہدیہ اور حفاظ کرام
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماہ رمضان میں تراویح ایک اہم عبادت سمجھی جاتی ہے،جس میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے اور ہر خاص و عام اس کی قرأت وتلاوت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ،وہ لوگ جو قرآن پڑھنا نہیں جانتے اور نہ ہی انہیں باضابطہ قرآن سننے کا موقع ملتا ہے ،تراویح کی برکت اور حافظ قرآن کی محنت سے انہیں بھی قرآن کی برکات نصیب ہوجاتی ہیں-
تراویح ایک اہم عبادت ہے جس کی نیکیوں سے تمام سعادت مند مؤمن لطف اندوز ہوتے ہیں
لیکن ؛گزشتہ چند برس سے تکمیل قرآن کے موقع پر کچھ عجیب وغریب صورت حال پیدا ہوگئی ہے،
تکمیل قرآن کے موقع پر کچھ نئی خرافات عام ہوگئی ہیں ،جن میں قرآن اور حافظ قرآن کے نام پر چندہ جمع کرنا ہے ،پورے علاقے میں شور وہنگامہ برپا کرتے ہیں ،بعض علاقے میں گھر گھر عورتوں سے بھی چندہ اکٹھا کیا جاتاہے، جس کا ماضی میں کوئی ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی عقل ونقل اور آیات وآثار سے اس کا ثبوت ملتا ہے ،ہدیہ وتحائف دیے جاتے ہیں ،مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں ،مساجد میں شور وہنگامہ ہوتاہے ،مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے ،یہ طریقہ کسی بھی طریقے سے صحیح نہیں ہے اور تاویل کی بھی گنجائش نہیں ہے-
آج کل تنزلی کا یہ دور ہے کہ حافظ قرآن کو رمضان کےلیے دولہا بنایا جاتاہے ،بعض علاقے میں ان کی قیمت لگائی جاتی ہے ،دس ہزار ،پندرہ ہزار ،بیس ہزار اس کی بولی لگائی جاتی ہے ،حافظ قرآن بھی مجبوری کہ وجہ سے نہ سناۓ تو قرآن بھول نہ جاۓ اس ڈر سے کہیں جگہ مل جاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرتے ہوۓ تراویح سنانے اور قرآن کو سینے میں محفوظ رکھنے کےلیے رمضان کے مقدس مہینے میں بھی گھر چھوڑ کر دور دراز کے علاقے کا سفر کرتے ہیں -
لیکن؛ عوام اس کا جو صلہ دیتی ہے وہ حافظ قرآن کو رسوا کردیتی ہے، دینے کا طریقہ بھی غلط اور جو ہدیہ دیتے ہیں وہ اس کی توہین کےلیے کافی ہے-
حافظ قرآن کی عزت بھی صرف اسی ماہ میں ہوتی ہے ،سلام ودعا اسی ماہ میں ہوتی ہے ،تراویح جس دن ختم ہوتی ہے،اگلے دن حافظ کی عزت پہلے کی طرح ہوجاتی ہے ،ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہوتاہے، تراویح کے موقع پر جب راقم نے یہ سوال اٹھایا کہ آپ تراویح میں حافظ قرآن کو پیسہ کیوں دیتے ہیں؟ تو ایک صاحب نے جواب دیا کہ تاکہ حافظ کا حوصلہ بڑھے یہ اتنا بھونڈا جواب ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ،میں نےکہا اگر علاقے میں کوئی حافظ و عالم بیمار پڑجاۓ تو آپ ان کی علاج کرکے حوصلہ کیوں نہیں بڑھاتے ،انہیں کوئی خاص ضرورت پڑجاۓ تو ان کی تعاون کرکے ان کا حوصلہ کیوں نہیں بڑھاتے ،یہ چھوڑیے غیر رمضان میں کچھ اپنی طرف ہدیہ کیوں نہیں دیتے تاکہ حوصلہ بڑھے تو وہ صاحب خاموش مورتی بن گیے
ہمیں کچھ احباب کے توسط سے یہ شکایتیں بھی موصول ہوئی کہ بعض علاقے میں کھانا بھی خود حافظ صاحب کوبنانا پڑتاہے کتنی افسوس کی بات ہے اور کچھ علاقے میں ہدیہ اتنا ملتاہے کہ آمد ورفت کا کرایہ بھی مشکل سے ہوپاتا ہے،یہ صورت حال رمضان میں تراویح سنانے والے حفاظ کرام کا ہے-
کچھ ہمارے حضرات بھی اس میں غفلت کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں وہ مقام نہیں ملتا جو ان کا حق ہے -
کیا ہی اچھا ہو کہ حافظ قرآن تھوڑا اپنے دل پر پتھر رکھیں ،پورےسال جس طرح صبر وتحمل سے کام لیتے ہیں اسی طرح اس ماہ میں بھی صبر کا مظاہرہ کریں اور تراویح کے موقع پر ملنے والے رقومات وہدایا اور تحائف سے صرف نظر کرتے ہوۓ تکمیل قرآن کے موقع پر ہونے والے چندے پہ روک لگائیں -
ہدایہ وتحائف لینے سے منع کردیں اور جگہ کی فکر نہ کریں ،جگہ نہ ملنے کی صورت میں اپنے گھر پہ اپنے اہل خانہ کو تراویح سنائیں تو عوام کے دل میں مزید قدر بڑھے گی اور آپ کھل کر عوام کے سامنے حق بات رکھ سکیں گے -
اپنی کچھ مفاد کی وجہ سے ہم عوام الناس کے سامنے کچھ بولنے سے کتراتے ہیں -
الحمدللہ تین سال سے راقم عاصی تکمیل قرآن پر ہونے والے چندے کے خلاف کھڑا ہے ،اس کے رقم کو لینے سے منع کررہا ہے -
اس لیے؛ اب یہ عاجز جگہ کی بالکل بھی فکر نہیں کرتا کیونکہ ذہن میں رہتاہے کہ گھر پہ سنائیں گے
اگر تمام حفاظ کی یہ سوچ بن جاۓ تو پھر حافظ کی قدر وقیمت میں اضافہ ہوگا
اور عوام ان کوقدر کی نگاہ سے بھی دیکھے گی-
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن اور صاحب قرآن کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے