*"مسجدِ رشید" میں رمضان کا دوسرا جمعہ*


بقلم: معاذ حیدر

٩/ رمضان ١٤٤٧ھ


  دارالعلوم دیوبند کی مساجد میں *"مسجدِ رشید"* سب سے بڑی اور نہایت ہی خوب صورت ہے، اس کی تعمیر وسیع وعریض رقبے پر ہوئی ہے، اس کی ہر چیز انوکھی ہے، مشرقی جانب ایک کشادہ صحن ہے، جہاں سے مسجد کا حسین منظر نگاہوں کو مسحور کردیتا ہے، وہ نظارہ واقعی دل فریب ہوتا ہے۔

  اس دیار میں اللہ تعالیٰ نے عجیب جاذبیت رکھی ہے، یہاں ایک مقناطیسی کشش اور غیر معمولی کھچاؤ محسوس ہوتا ہے، اس حرم کی زیارت کے بعد دل بے قابو سا ہوجاتا ہے، قساوت مٹنے لگتی ہے، رقت پیدا ہوجاتی ہے، جو یہاں آتا ہے ہمیشہ کے لیے اس کا اسیر بن جاتا ہے۔

   آج جمعہ کا دن تھا، نماز کی ادائیگی کے لیے *"مسجدِ رشید"* پہنچا تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملا، وقت سے پہلے ہی "پہلی منزل" پُر ہوچکی تھی، "دوسری منزل" پر پہنچا تو وہاں بھی پیر رکھنے کی جگہ نہیں تھی، مسلمانوں کا ایک سیلاب اُمڈ آیا تھا، زمین تنگی کی شکایت کر رہی تھی، بمشکل صحن میں جگہ نصیب ہوئی۔

  رقت آمیز ماحول تھا، ہر گوشہ نمازیوں سے بھرا ہوا تھا، روحانیت اپنے عروج پر تھی، *مفتی عفان صاحب منصورپوری -دامت برکاتہم-* کی خوش الحانی سے دل پھٹنے کے قریب تھا، بیل بوٹے بھی گویا سر ملا رہے تھے، دل کی گندگیاں صاف ہوتی محسوس ہو رہی تھیں، آنکھیں بے قابو تھیں اور اشک رواں تھا، جسم کا ہر ذرہ متاثر تھا، ہر عضو زبانِ حال سے یہی کہہ رہا تھا:

"اے اللہ! اخلاص کے اس تاج محل کو باقی رکھیے، اور اس مجمع کی برکت سے ہماری کوتاہیوں کو درگزر فرما دیجیے۔" 

    نماز کے بعد جب مشرقی دروازے سے باہر نکلا تو چند برادرانِ وطن کو مصلیوں کے استقبال میں کھڑا پایا، وہ پھولوں کے ذریعے اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر خوشی ہوئی، ہر سمت حفاظتی دستہ موجود تھا، حکومتی عملہ ہر دروازے پر نگرانی کر رہا تھا۔

  یہ میرا پہلا تجربہ تھا، ہر چیز نئی معلوم ہو رہی تھی، بلاشبہ دیوبند کا رمضان یہاں کے بقیہ گیارہ مہینوں سے بالکل جداگانہ کیفیت رکھتا ہے۔