حسن معاشرت کیسے قائم ہو؟

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

      آج کے اس بگڑتے معاشرے میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ حسن معاشرت کیسے قائم ہو ؟ایسامعاشرہ کیسے بنے؟ جہاں پیار ،محبت ،امن وامان ،عزت و قار ،تہذیب وثقافت کاحسین امتزاج ہو-

    ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان صحابہ جیسی جماعت ہو ، صدیق جیسا باوفا رفیق ہو ،عمر جیسا عادل حکمران ہو،عثمان جیساپیکر حیا و سخا ہو،علی جیسا بہادر ہو
خالد بن ولید جیسا مجاہد ہو ،
عبداللہ بن عباس جیسا مفسر ہو،عبداللہ بن مسعود جیسا فقیہ ہو،ابوھریرہ جیسا حافظ حدیث ہو،
ائمۂ دین جیسے فقہاء ہوں،بخاری ومسلم ،ترمذی وطحاوی جیسے عظیم محدث ہو ،حسن بصری وابو منصور ماتریدی جیسے متکلم ہو ،
قادر و جنید جیسے ظل الٰہی ہوں ،
مجدد الف ثانی و شاہ ولی اللہ ، قاسم و رشید ،اشرف و اصغر جیسے گہری نظر رکھنے والے علماء ہوں ، مدنی ومحمود جیسے سیاسی بصیرت رکھنے والے فرد کامل اور ولی کامل ہوں -
ذرا سوچیے!
ایسے افراد کی وجود کےلیے ہم کتنے کوشاں ہیں -
کیا یہ لوگ یونہی پیدا ہوگیے نہیں بلکہ ایسی ماؤں اور ایسے باپ کی تربیت کا ثمرہ ہے جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت میں کسی طرح کی کوتاہی کو روا نہیں سمجھا ،خود کو قربان کیا ،رات آہ سحر گاہی ،شب وروز کی جد وجہد اور حلال رزق ان کے منھ میں ڈال کر امانت و دیانت کے ساتھ ان پرورش کی-

اونچےخواب دیکھنا کافی نہیں بلکہ اس کی صحیح تعبیر کےلیے صحیح معبراوردرست کوشش بھی ضروری ہے

ایسا نہیں ہم کوشش نہیں کررہے ہیں بلکہ اہل خیر اور صاحب دل حضرات اس کےلیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ،لیکن جو شرعی اصول و قوانین اختیار کرنے چاہیے اس کو ہم نظر انداز کررہے ہیں ،اس لیے ہم اس میں ناکام ہیں -

    شریعت کا جوحسین گلدستہ ہمارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دییے ہیں اگرہم اس کو اختیار کرلیں تو ہم اپنے سوال کا جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے،

سوچیے !
کیسے عبد المطلب کے لاڈلے،عبداللہ کے لخت جگر ،آمنہ کے نور نظر نے اکیلے ہی ہزاروں لاکھوں افراد کی اصلاح کرکے پوری دنیا کےلیے حسن معاشرت کی مثال قائم کردی- 

   حسن معاشرت ایک خوبصورت لفظ ہے جو امن وسکون ،طہارت ونظافت ،عفت وعصمت ،حیاو پاکدامنی ،عزت واحترام ،شرافت و کرامت ،تعظیم و تکریم ،شفقت ومحبت ،احسان وایثار ،ہمدردی وغمگساری جیسے اہم خوبیوں کا مجموعہ ہے،اس سے متصف ہونےوالے افراد سے حسن معاشرت تشکیل پاتا ہے 
، یہ وصف افراد میں اس وقت آتاہےجب ہروالدین اپنے نونہالوں کی حسن تربیت کرکے انہیں عادات رذیلہ سے محفوظ رکھیں ،اوصاف حمیدہ کا خوگر بنائیں ،غلط صحبت اور بری باتوں سے متنفر کریں ، غورو فکر ،شعور و آگہی ، معاشرتی ہم آہنگی ،اتحاد واتفاق ،تلون مزاجی کے باوجود صبر وتحمل ،تعلیم وثفافت جیسی عظیم صفات کا درس دیں ،عملی نمونہ پیش کریں -

 انہیں بتائیں !
کہ اختلاف کے باوجود ہمارے درمیان محبت کیسے قائم رہے ،ایک دوسرے کے وقار اور عزت نفس کا خیال کیسے رکھیں، جب والدین اپنے لخت جگر کو ان باتوں کی تعلیم دیں گے توفرد کی اصلاح سے افراد کی اصلاح ہوگی اور افراد کی اصلاح سے حسن معاشرت تشکیل پاۓ گا-
   ہم اصلاح معاشرہ کے عنوان بہت سی محفلیں قائم کرتے ہیں ،اسٹیج سجاتے ہیں ،خطباء بلاتے ہیں ،پوری پوری رات بیانات ہوتے ہیں اور نتیجہ فجر کی نماز میں خالی مسجدوں کی صورت میں ظاہر ہوتاہے - 

   آخر ہم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کیوں نہیں کرتے؟
بچوں کے سامنے والدین اپنے کردار کا عملی نمونہ کیوں نہیں پیش کرتے ؟
خرابی اسی وقت سے شروع ہوتی ہےجب ہم اپنے بچوں کے نکاح کے لیے جوڑے کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم فخر و مباہات اور نمائش کے خاطر دین کی ترجیحات ،رسول اللہ کی تعلیمات کو نظر انداز کرکے اپنے خواہشات کے مطابق نکاح جیسی دینی عبادت کو مذاق بناتے ہیں ،نہ مرد دین دار عورت تلاش کرتاہے جس سے بچوں کی دینی تربیت ہوسکے اور نہ عورت اپنے لیے دیندار شوہر کا انتخاب کرتی ہے جس کے سرپرستی میں ان کے بچے دین دار بنیں اور دینی سانچے میں ڈھل سکے-

   اس سلسلے میں 
مرد وخواتین کے والدین کا کم قصور نہیں وہ بھی اعلی خاندان ،مال ودولت کے چکر میں دینی تفوق کو نظر انداز کردیتے ہیں جوکہ نسل نو کی تربیت کے لیے بنیاد ہے ،اگر والدین ہی غلط رخ پر ہوں گے تو بتائیں کہ اس کے زیر تربیت آنے والی نسلیں کیسے صحیح رخ طےکرسکتی ہیں ،والدین اولاد کےلیے مثل چراغ ہوتے ہیں ،اسی قندیل سے بچے راستے پر چلتے ہیں ،اگر والدین صحیح نہ مل سکے تو ان کی زندگی غلط رخ کا انتخاب کرلیتی ہے پھر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں صحبت صالح سے اپنی زندگی درست کر پاتے ہیں 

  اس لیے ؛
ہمیں چاہیے کہ اصلاح معاشرہ اور حسن معاشرت کےلیے عملی طور پر فرد کی اصلاح پر زور دیں ،ان کےلیے اصول و ضابطے بنائیں ،پیار ومحبت کی روشنی میں ان کی تعلیم وتربیت کریں -
اپنے بچے بچیوں کو تعلیم قرآن ، تعلیم رسول ،حافظ وحافظہ بنائیں، عالم وعالمہ فقیہ فقیہا بنائیں تاکہ دینی شعائیں مسلمانوں کے دلوں کو روشن رکھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عملی محبت سکھائیں ،بچپن سے عبادت وریاضت کا ذوق دیں ،حلت وحرمت پر توجہ دیں ،انہیں بتائیں کہ حلال کیا ہے ،حرام کیا ہے اس سے نقصان کیا ہوتاہے اور روحانی قوت میں کیا فرق پڑتا ہے ،غلط بات پر پیار سے روک لگائیں اور صحیح بات پر انعام و اکرام اور تعریف وتوصیف کریں -

   کوشش کریں کہ آپ کےبچے آپ کی زیر نگرانی ابتدائی تعلیم پائیں ،والدین گھر میں خود سے اپنے بچوں کو پڑھائیں، بطور خاص مائیں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت اس لیے کریں تاکہ میرا لخت جگر ہمارے لیے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے- 

     اگر ؛مذکورہ باتوں کا خاص خیال رکھیں گے تو ہمیں الگ سے کسی اجتماعی محنت کی ضرورت نہیں پڑے گی ،اور نہ ہی جلسے جلوس کے نام پر اسٹیج سجانے کی ضرورت پڑےگی-

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین