رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی۔   طرف سے عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جس میں بندۂ مومن کے لیے ہدایت، رحمت، مغفرت اور نجات کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جس نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف رہنمائی عطا کی۔ رمضان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دن کے وقت روزہ فرض کیا گیا اور راتوں کو قیام کی عظیم عبادت عطا فرمائی گئی، جسے ہم نمازِ تراویح کے نام سے جانتے ہیں۔
نمازِ تراویح درحقیقت قیامِ رمضان ہے، جس کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمائی۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ یہ بشارت اس بات کی دلیل ہے کہ تراویح محض ایک اضافی عبادت نہیں بلکہ رمضان کی روح اور مغفرت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس نماز کو ادا فرمایا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے ہمیشہ اہتمام کے ساتھ زندہ رکھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اس نماز کا باقاعدہ جماعت کے ساتھ اہتمام کیا گیا، جو امت کے اجماع اور تعامل سے ثابت ہے۔
رمضان المبارک تین عشروں پر مشتمل ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کا، دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اب جب ہم رمضان کے دوسرے عشرے میں داخل ہونے جا رہے ہیں تو یہ مرحلہ خاص طور پر غور و فکر، توبہ و استغفار اور اپنی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ مغفرت کا مفہوم محض گناہوں کی معافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ خاص عنایت ہے جس میں بندے کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اس کے عیب چھپا دیے جاتے ہیں اور اسے سزا سے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے گناہگار بندوں کو مایوسی سے بچاتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں، کیونکہ وہ تمام گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
عشرۂ مغفرت میں سب سے زیادہ زور توبہ اور استغفار پر دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، جو معصوم عن الخطا تھے، دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار فرمایا کرتے تھے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہم جیسے خطاکار بندوں کے لیے استغفار کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ یہی عشرہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، دل سے ندامت محسوس کریں اور آئندہ زندگی کو درست کرنے کا پختہ عزم کریں۔
نمازِ تراویح اس عشرے میں خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ وہ عبادت ہے جس میں بندہ قرآن سنتا ہے، اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس کا دل نرم ہوتا ہے۔ تراویح دراصل مغفرت کی طرف جانے والا ایک عملی راستہ ہے۔ افسوس کہ آج کے دور میں بہت سے لوگ سستی، مصروفیت یا دنیاوی مشاغل کو ترجیح دے کر تراویح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حدیثِ مبارکہ میں سخت تنبیہ آئی ہے کہ وہ شخص بڑا محروم ہے جس نے رمضان پایا مگر مغفرت حاصل نہ کر سکا۔

رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ احساس دلاتا ہے کہ یہ مہلت ہمیشہ کے لیے نہیں۔ یہ راتیں، یہ قیام اور یہ مواقع بار بار نہیں آتے۔ نہ معلوم اگلا رمضان نصیب ہو یا نہ ہو۔ اس لیے عقل و ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس عشرۂ مغفرت کو غنیمت سمجھیں، نمازِ تراویح کی پابندی کریں، استغفار کو اپنی زبان کا ورد بنائیں، دلوں کی صفائی کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توبہ کے ساتھ رجوع کریں۔
اگر ہم نے اس عشرے میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کر لی تو یہی کامیابی ہماری آخرت کی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ رمضان ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ بندہ اگر خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹ آئے تو اس کے لیے مغفرت، رحمت اور نجات سب کچھ ممکن ہے۔