ایک بادشاہ کا غلام غرور کے نشے میں گھوڑے پر سوار چلا آ رہا تھا۔
اچانک سامنے ایک بزرگ آگئے۔
انہوں نے اس مغرور غلام سے کہا:
“یہ اکڑ اور غرور اچھا نہیں ہوتا۔”
غلام نے اور زیادہ اکڑ کے ساتھ جواب دیا:
“میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں۔
وہ مجھ پر بہت بھروسہ کرتا ہے۔
جب وہ سوتا ہے تو میں اس کی حفاظت کرتا ہوں،
جب اسے بھوک لگتی ہے تو میں اسے کھانا دیتا ہوں،
اور جب کوئی حکم دیتا ہے تو فوراً بجا لاتا ہوں۔”
بزرگ نے نرمی سے پوچھا:
“اور جب تم سے کوئی غلطی ہو جائے تو؟”
غلام نے جواب دیا:
“تو مجھے کوڑے لگتے ہیں۔”
یہ سن کر بزرگ بولے:
“پھر تو مجھ سے زیادہ اکڑ تمہیں کرنی چاہیے… نہیں،
بلکہ مجھے اکڑنا چاہیے۔”
غلام حیران ہو کر بولا:
“وہ کیسے؟”
بزرگ نے کہا:
“میں ایسے بادشاہ کا غلام ہوں
کہ جب میں بھوکا ہوتا ہوں تو وہ مجھے کھلاتا ہے،
جب بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے،
جب میں سوتا ہوں تو وہ ہر طرح میری حفاظت کرتا ہے۔
اور جب مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے
اور میں اس سے معافی مانگ لوں
تو وہ بغیر سزا دیے
اپنی رحمت اور مہربانی سے مجھے بخش دیتا ہے۔”
یہ سن کر مغرور غلام کا غرور ٹوٹ گیا۔
اس نے عاجزی سے کہا:
“پھر تو مجھے بھی اسی بادشاہ کا غلام بنا دیں۔”
بزرگ فوراً بولے:
“بس پھر… اللہ کا ہو جا۔
ایسا مالک تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔ 💯♥️”
✨ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔