--------------------------------

 *روزہ کی نیت کے مسائل* 

نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ اگر دل میں ارادہ کر لیا کہ آج میر اروزہ ہے تو روزہ درست ہے۔ زبان سے روزہ کی نیت کا اظہار کرنا ضروری نہیں البتہ بہتر ہے۔ روزہ کی نیت کے حوالے سے چند مسائل ملاحظہ  فرمائیں ۔

*رمضان المبارک کے روزے کی نیت *

افضل یہ ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کی نیت صبح صادق سے پہلے پہلے کر لی جائے۔ اگر صبح صادق سے پہلے رمضان المبارک کا روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں تھا، صبح صادق کے بعد ارادہ ہوا تو اگر کچھ کھایا پیا نہ ہو تو نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے روزہ رکھنے کی نیت درست ہے۔ نصف النہار شرعی یہ ہے کہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے۔ پہلے نصف حصے سے پہلے پہلے نیت کر لی جائے۔

قضاء، نزر غیر معین اور کفارے کے روزے کی نیت 

 قضاء نذرِ غیر معین اور کفارے کے روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے پہلے کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد نیت کی تو شرعاً معتبر نہ ہو گی۔

* نفل اور نزر معین کے روزے کی نیت *

 نفل اور نذرِ معین کے روزے کی نیت کا حکم ادائے رمضان کے روزوں کی طرح ہے یعنی اگر صبح صادق سے پہلے نیت نہ کی ہو تو نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے کی جاسکتی ہے بشرطیکہ صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔

کتاب الفقہ جلد 01 صفحہ 185 📚

 از متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ