*دارالعلوم کا داخلہ*
بقلم: معاذ حیدر
٢/ رمضان ١٤٤٧ھ
دارالعلوم ایک الہامی ادارہ ہے، یہاں کا انتخاب مشیتِ ازدی کے بغیر ممکن نہیں، اس کے لیے داخلہ امتحان کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، اس امتحان کی تیاری بڑے زور و شور سے ہوتی ہے۔
مدارس میں پورے سال اس کی تیاری کروائی جاتی ہے، صوبوں میں اس کی خاطر عارضی درسگاہیں لگائی جاتی ہیں، ایک تعداد رمضان ہی میں یہاں کا رختِ سفر باندھ لیتی ہے، انہیں بہت سی پرخار وادیوں کو طے کرنا پڑتا ہے، قیام وطعام بھی ایک مستقل مسئلہ بنا رہتا ہے۔
یہ جماعت دن و رات کا فرق کیے بغیر اس مرحلے کو طے کرتی ہے، کل چاند کی خبر کے بعد گردشِ ایام میں ایک تبدیلی رونما ہوئی، سرگرمیوں میں بدلاؤ آیا، ماحول میں انقلاب بپا ہوا، بازار میں گاہکوں کے انتخاب بدلے، فضا میں ایک گونج پیدا ہوئی؛ لیکن نودرے میں خیمہ زن یہ جماعت اپنے معمول میں مصروف، اپنے مقصد میں منہمک نظر آئی، دارالعلوم کا یہ حصہ دوسرے حصوں کے مقابلے میں ممتاز دکھائی دیا، یہاں علم کا چرچہ ہو رہا تھا، چراغِ قاسمی سے روشنی حاصل کرنے کی لیاقت پیدا کر رہے تھے، انقلابِ زمانہ نے ان کی یکسوئی کو ذرہ برابر مس نہیں کیا۔
یہ منظر دیکھ کر رقت طاری ہوگئ، آنکھیں بھر آئیں، دل سے دعائیں نکلیں۔