*شیر مقابل میں آئے کوئی بات نہیں منافق پیچھے سے بھی گزرے تو ڈر لگتا ہے*
زندگی کا یہ جنگل محض درختوں، کانٹوں اور درندوں کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانوں کے چہروں، لہجوں، نیتوں اور ارادوں کا گھنا اور پُراسرار جنگل ہے، یہاں ہر قدم پر ایک نیا چہرہ ملتا ہے، ہر چہرے کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوتی ہے، ہر مسکراہٹ کے اندر ایک راز ہوتا ہے، کوئی خلوص کا پیکر بن کر آتا ہے اور کوئی خیرخواہی کا لبادہ اوڑھ کر، مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ ہر ظاہر باطن جیسا نہیں ہوتا، اس جنگل میں اصل خطرہ کانٹوں سے نہیں بلکہ اُن ہاتھوں سے ہوتا ہے جو پھول پیش کرتے ہوئے بھی چبھن چھپا لیتے ہیں۔
کھلا دشمن وہ ہے جس کی آنکھوں میں نفرت صاف لکھی ہوتی ہے، جس کے تیور بتا دیتے ہیں کہ اس کے ارادے کیا ہیں، اس کا لہجہ سخت ہوتا ہے، اس کی گفتگو میں کاٹ ہوتی ہے، وہ سامنے آکر اختلاف کرتا ہے، اعلانِ مخالفت کرتا ہے، وار کرنے سے پہلے تیاری دکھاتا ہے، اس کی موجودگی سے دل دھڑکتا ضرور ہے مگر ذہن غافل نہیں ہوتا، انسان سنبھل جاتا ہے، اپنے حصار مضبوط کر لیتا ہے، اپنے قدم جما لیتا ہے، اگر شیر سامنے ہو تو اس کی دھاڑ سنائی دیتی ہے، اس کے پنجوں کی حرکت دکھائی دیتی ہے، حملہ اگر ہوگا تو سامنے سے ہوگا، نقصان ممکن ہے مگر دھوکہ نہیں ہوگا۔
ایسا دشمن انسان کو کمزور نہیں کرتا بلکہ چوکنا کرتا ہے، اس کے مقابلے میں انسان اپنی صلاحیتیں جمع کرتا ہے، حکمتِ عملی بناتا ہے، قوتِ برداشت پیدا کرتا ہے، تاریخ میں جتنی بڑی جنگیں ہوئیں وہ کھلے دشمنوں کے خلاف ہوئیں، مگر ان جنگوں نے قوموں کو بیدار بھی کیا، صفوں کو منظم بھی کیا، کردار کو مضبوط بھی کیا، کھلا وار اگرچہ تکلیف دیتا ہے مگر انسان کو تیار بھی کر دیتا ہے، اس میں کم از کم یہ اطمینان ہوتا ہے کہ حملہ کس سمت سے آئے گا۔
مگر اصل اندھیرا وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں دشمن چہرہ بدل لیتا ہے، جہاں وار اعلان کے بغیر ہوتا ہے، جہاں زہر خوشبو میں لپٹا ہوتا ہے، منافق نہ دھاڑتا ہے نہ للکارتا ہے، وہ مسکراتا ہے، تعریف کرتا ہے، آپ کی باتوں پر سر ہلاتا ہے، آپ کے دکھ میں شریک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آپ کی کامیابی پر مبارکباد دیتا ہے، اور پھر موقع ملتے ہی پیٹھ موڑتے ہی وار کر دیتا ہے، وہ سامنے سے نہیں گراتا بلکہ اندر سے کمزور کرتا ہے، وہ دیوار کو باہر سے نہیں توڑتا بلکہ بنیادوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔
منافق کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی دو رُخی ہے، ایک چہرہ آپ کے سامنے اور دوسرا آپ کی غیر موجودگی میں، ایک زبان تعریف کے لیے اور دوسری بدنامی کے لیے، ایک ہاتھ مصافحے کے لیے اور دوسرا خنجر کے لیے، یہی وہ کردار ہے جس سے انسان کانپ اٹھتا ہے، کیونکہ کھلے دشمن سے لڑا جا سکتا ہے مگر چھپے دشمن سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے، اس کا وار جسم پر کم اور اعتماد پر زیادہ ہوتا ہے، اور اعتماد کا قتل سب سے بڑا قتل ہوتا ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کھلے دشمنوں نے کم نقصان پہنچایا اور منافقین نے زیادہ، مدینہ کے دور میں بھی سب سے بڑا خطرہ باہر کے لشکروں سے کم اور اندر کے سازشیوں سے زیادہ تھا، قرآن مجید نے منافقین کے بارے میں واضح انداز میں خبردار کیا، ان کی علامات بیان کیں، ان کے رویّوں کو بے نقاب کیا، اور بتایا کہ *یہ وہ لوگ ہیں جو زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دلوں میں انکار چھپائے رکھتے ہیں، عبداللہ بن اُبی بن سلول اس کردار کی نمایاں مثال تھا، جو بظاہر ساتھ تھا مگر اندر ہی اندر کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہا۔*
منافق کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ وہ آپ کے قریب آ جاتا ہے، وہ اجنبی نہیں رہتا بلکہ اپنا بن جاتا ہے، وہ آپ کے راز جان لیتا ہے، آپ کی کمزوریاں سمجھ لیتا ہے، آپ کے خوابوں سے واقف ہو جاتا ہے، اور پھر انہی کو آپ کے خلاف استعمال کرتا ہے، اس کا وار خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے، اس کی سازش آہستہ ہوتی ہے مگر تباہ کن ہوتی ہے، وہ شور نہیں مچاتا مگر نتائج چھوڑ جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں انسان کے لیے سب سے بڑی ضرورت بصیرت ہے، نہ ہر شخص پر اندھا اعتماد کیا جائے اور نہ ہر ایک کو دشمن سمجھا جائے، دل میں نرمی ہو مگر عقل بیدار ہو، محبت ہو مگر احتیاط کے ساتھ، تعلق ہو مگر شعور کے ساتھ، کیونکہ زندگی کا جنگل صرف طاقت سے نہیں بلکہ سمجھ سے پار کیا جاتا ہے، یہاں بازو سے زیادہ آنکھ کی بیداری کام آتی ہے۔
یاد رکھو، تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر اعتماد کے ٹوٹنے کی آواز دیر تک سنائی دیتی ہے، جسم کے زخم پر مرہم رکھا جا سکتا ہے مگر دل کے زخم کا علاج مشکل ہوتا ہے، کھلا دشمن تمہیں زخمی کرے گا مگر منافق تمہیں تمہارے اپنے سائے سے ڈرنا سکھا دے گا، اور یہی اس کا سب سے بڑا وار ہے۔
میں تو کہتا ہوں:
دو رنگی چھوڑ کر ایک رنگی ہو جا
سراسر موم یا سراسر سنگ ہو جا۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*