مسلم کے ہاتھوں مسلم کا خون ایک لرزہ خیز المیہ


✍🏻 محمد عادل ارریاوی

_______________________________


آج کا دور وہ دور ہے جس میں امتِ مسلمہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو تباہ کر رہی ہے سوڈان کی زمین جو کبھی امن علم اور بھائی چارے کی علامت تھی مگر افسوس آج خونِ مسلم سے رنگین ہو چکی ہے مظلوم بھی لا الٰہ الا اللہ پڑھنے والا ہے اور ظالم بھی وہی کلمہ گو یہ منظر دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے

کیا ہم نے قرآن کی وہ آیت بھلا دی وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (نساء آیت 29 ) اپنے آپ کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر مہربان ہے؟

مگر آج ہم خود اپنے بھائی کا خون بہا کر سمجھتے ہیں کہ ہم غالب آگئے حالانکہ دراصل ہم اپنے ایمان اپنی غیرت اپنی انسانیت سب کچھ ہار چکے ہیں یہ وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں توبہ کریں اور امت کے زخموں پر مرہم بنیں اگر آج ہم نے اپنے دلوں میں محبت رحم اور اتحاد کی شمع نہ جلائی تو کل ہماری باری بھی آ سکتی ہے دل خون کے آنسو روتا ہے جب جب دیکھتا ہوں بےقصور مسلمانوں کو ٹڑپا تڑپا کر گولیوں کا نشانہ بنارہے ہیں اور ہمیں بےحد شرمندگی ہے کہ ظالم بھی مسلمان اور مظلوم بھی مسلمان ہاۓ اللہ یہ کیسا المیہ ہے ؟

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ سوڈان سمیت پوری امتِ مسلمہ پر اپنا رحم فرمائے دلوں کو جوڑے اور ہمیں ظالم نہیں مظلوم کا سہارا بننے کی توفیق دے

آمین یارب العالمین

----------------------------------------------