*شرعی معذور کسے کہتے ہیں؟* 
فقہِ حنفی میں شرعی معذور (مَعذور شرعی) اُس شخص کو کہتے ہیں جس کو کوئی ایسا عذر لاحق ہو جائے کہ پورے ایک وقتِ نماز میں اتنا بھی وقفہ نہ ملے جس میں وہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکے۔
یہ عذر عموماً درج ذیل صورتوں میں ہوتا ہے:
مسلسل پیشاب کے قطرے آنا۔
استحاضہ (عورت کو حیض و نفاس کے علاوہ خون آنا)۔
مسلسل ہوا خارج ہونا۔
زخم سے برابر خون بہنا۔

 *شرعی معذور بننے کی شرائط* 
 *(1) ابتداءً معذور بننے کی شرط* 
کسی شخص کو معذور قرار دینے کے لیے شرط یہ ہے کہ:
> پورا ایک نماز کا وقت اس طرح گزر جائے کہ عذر بند نہ ہو، اور اتنا وقفہ بھی نہ ملے جس میں وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکے۔

 حوالہ:
الدر المختار مع رد المحتار
> (وَيَثْبُتُ الْعُذْرُ بِاسْتِيعَابِهِ وَقْتًا كَامِلًا)
الہدایہ، کتاب الطہارة

 *(2) معذور باقی رہنے کی شرط* 
جب ایک بار معذور بن گیا تو آئندہ ہر نماز کے وقت میں اگر ایک مرتبہ بھی عذر پایا جائے تو وہ معذور برقرار رہے گا۔
 حوالہ:
الفتاویٰ الهندية، جلد 1
بدائع الصنائع

( *3) معذوری ختم ہونے کی شرط* 
جب پورا ایک نماز کا وقت اس طرح گزر جائے کہ عذر بالکل ظاہر نہ ہو تو اب معذوری ختم ہو جائے گی۔
 حوالہ:
رد المحتار

 *شرعی معذور کے طہارت کے احکام* 
 *وضو کا حکم* 
معذور ہر نماز کے وقت کے داخل ہونے کے بعد نیا وضو کرے گا۔
اس وضو سے وہ اس وقت میں جتنی چاہے فرض، نفل، تلاوت، سجدۂ تلاوت وغیرہ کرسکتا ہے۔
وقت ختم ہوتے ہی وضو بھی ختم ہو جائے گا۔
 حوالہ:
الدر المختار
بدائع الصنائع

 *کپڑے اور بدن کا حکم* 
اگر نجاست عذر کی وجہ سے بار بار لگتی رہے اور بار بار دھونے میں بیماری کا اندیشہ ہے تو ہر بار دھونا ضروری نہیں، پوچھ لینا چاہیے۔
بہتر ہے کہ نماز سے پہلے جہاں تک ممکن ہو پاک کرلے۔
حوالہ:
الفتاویٰ الهندية

 *شرعی معذور کے نماز کے احکام* 
1. ہر نماز کے وقت میں نیا وضو ضروری۔
2. اگر نماز کے دوران عذر جاری ہوجائے تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔
3. جماعت میں شریک ہوسکتا ہے۔
4. قضا نمازیں بھی اسی وضو سے ادا کرسکتا ہے (جب تک وقت باقی ہو)۔
 حوالہ:
الہدایہ
رد المحتار

 *شرعی معذور کے روزے کا حکم* 
شرعی معذور ہونے کا روزے پر کوئی اثر نہیں۔
اگر عذر (مثلاً استحاضہ) ہو تو روزہ صحیح ہوگا۔
البتہ اگر کوئی ایسی بیماری ہو جس سے روزہ نقصان دہ ہو تو الگ حکم ہوگا۔
 حوالہ:
الفتاویٰ الهندية
بدائع الصنائع

واللہ اعلم بالصواب