کاش! میں اگر ہوتا۔۔۔
 کاش  لفظ نہیں، بلکہ انسانی خواہشات کا وہ اتھاہ کا سمندر ہے جس نے اپنے اندر اَن گنت تمنّاؤں کو سمو رکھا ہے۔ اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ انسان کی تمام ادھوری امنگیں اور بے نام حسرتیں اسی ایک لفظ کے گرد طواف کرتی رہ جاتی ہیں۔

افلاس کی تپتی دھوپ میں: کاش! میرے پاس دولت کی چھاؤں ہوتی۔
بیماری کی نقاہت میں: کاش! میں صحت و توانائی سے مالا مال ہوتا۔
گمنامی کے اندھیروں میں: کاش! میرے نام کا بھی اجالا (شہرت) ہوتا۔
محتاجی کی زنجیروں میں: کاش! میں خود مختار اور غنی ہوتا۔
اضطراب کے عالم میں: کاش! میرا دامن ہر غم سے خالی ہوتا۔

انسانی زندگی کی دوڑ "کاش" سے شروع ہوتی ہے اور اسی کی بازگشت پر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ اگر ہم نے اس فانی زندگی میں دین کو اپنی اساس نہ بنایا اور شریعت کی پیروی نہ کی، تو یہی "کاش" آخرت میں ایک ہولناک پچھتاوے کی صورت اختیار کر لے گا۔
قرآنِ مجید اس دردناک انجام کی منظر کشی کچھ یوں کرتا ہے کہ جب انسان اپنی تمام تر دنیاوی دوڑ دھوپ کو
رائیگاں پائے گا، تو پکار اٹھے گا:

"يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا"  (اے کاش! میں مٹی ہوتا)

یہ وہ مقام ہوگا جہاں تمام "کاش" ختم ہو جائیں گے اور صرف ابدی ندامت رہ جائے گی۔ اس سے پہلے کہ ہماری زندگی محض ایک حسرت بن کر رہ جائے، ہمیں "کاش" کے سراب سے نکل کر "عمل" کی حقیقت کو اپنانا ہوگا

از قلم:زا-شیخ