اسرائیل کو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنے کا توراتی حق ہے۔ (امریکی سفیر مائیک ہکابی)
ضیاء چترالی
برطانوی اخبار دی گارڈین (The Guardian) کے مطابق اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لے تو یہ اس کا “توراتی حق” ہوگا، جو کہ قابل قبول ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میرے اس مؤقف کی بنیاد بائبل کی وہ تشریحات ہیں جو امریکا کے عیسائی قوم پرست حلقوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ بیان ہکابی نے امریکی صحافی ٹاکر کارلسن (Tucker Carlson) کو دیئے گئے انٹرویو میں دیا ہے۔ کارلسن نے گفتگو کے دوران وضاحت کی کہ عہدِ قدیم میں ایک نص کے مطابق حضرت ابراہیمؑ سے ایک ایسے علاقے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو “وادیٔ مصر سے دریائے فرات” تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے بقول اس میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی موجودہ ممالک کے حصے شامل ہو سکتے ہیں، جن میں اردن، شام، لبنان کے علاوہ سعودی عرب اور عراق کے بعض علاقے بھی شامل ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ہکابی نے اس جغرافیائی حد بندی کی مکمل تصدیق نہیں کی، تاہم اس نے کہا کہ بات “بہت بڑے رقبے” کی ہو رہی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اسرائیل وہ زمین ہے “جو خدا نے اپنے منتخب لوگوں کو عطا کی”۔ اس بیان کو مذہبی بنیاد پر دیا گیا مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کارلسن نے اس سے براہِ راست پوچھا کہ کیا اسرائیل کو ان تمام علاقوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے، تو ہکابی نے جواب دیا: “اگر وہ سب لے لیں تو یہ قابلِ قبول ہوگا۔” مبصرین کے مطابق یہ بیان روایتی سیاسی مؤقف سے آگے بڑھ کر ایک واضح نظریاتی اور مذہبی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جس کے بھیانک نتائج اور مضمرات کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ انٹرویو اسرائیل میں کارلسن کے دورے کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔ اس دورے کے دوران کارلسن نے دعویٰ کیا کہ بن گوریون ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ “غیر معمولی” سلوک کیا گیا۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی حکام نے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ وہ معمول کے سیکورٹی مراحل سے گزرے۔ اسرائیلی ایئر پورٹس اتھارٹی نے بھی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ کارلسن کو نہ حراست میں لیا گیا، نہ انہیں روکا گیا اور نہ ہی غیر معمولی پوچھ گچھ کی گئی۔ باقی کارسن کے اسرائیل مخالف موقف پر ہم انہی صفحات میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
یہ بیانات بھی ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کارلسن کے سیاسی مؤقف میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق وہ اب امریکی حمایت برائے اسرائیل کی سطح پر سوال اٹھا رہے ہیں، جس کے باعث وہ “میک امریکا گریٹ اگین” یعنی ماغا (MAGA) تحریک کے مرکزی حلقے سے کسی حد تک دور ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب مائیک ہکابی کو امریکا کے قدامت پسند اور خاص طور پر دائیں بازو کے انجیلی عیسائی حلقوں کا مضبوط نمائندہ سمجھا جاتا ہے، جو اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اس تنازع میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ (Naftali Bennett) نے بھی ردِعمل دیا۔ اس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کارلسن کو “منافق” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اسرائیلی معاملات کا ماہر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ہکابی نے اسرائیل کے سیکورٹی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کی طرح اسرائیل میں بھی مسافروں کے پاسپورٹ چیک کیے جاتے ہیں اور سیکورٹی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ امریکی خارجہ پالیسی اور مذہبی بیانیے کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر اسرائیل کے معاملے میں۔ ساتھ ہی یہ امریکی دائیں بازو کے اندر اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل مغربی کنارے میں آبادکاری کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے ابتدائی منظوری کے طور پر ایسے فیصلوں کی توثیق کی ہے جن کا مقصد مغربی کنارے کے قانونی اور شہری ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کرنا ہے۔ ان اقدامات میں اس اردنی قانون کا خاتمہ بھی شامل ہے جو فلسطینی زمین کی یہودیوں کو فروخت پر پابندی عائد کرتا تھا۔ اس کے علاوہ زمینوں کے ریکارڈ کو عام کرنا اور حساس علاقوں، خاص طور پر الخلیل میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات اسرائیلی سول انتظامیہ کو منتقل کرنا بھی شامل ہے۔
اسی طرح نگرانی اور مسماری کے اختیارات کو “اے” اور “بی” زونز تک بڑھا دیا گیا ہے۔ تعمیراتی خلاف ورزیوں یا پانی اور آثارِ قدیمہ سے متعلق معاملات کو بنیاد بنا کر ایسے علاقوں میں بھی مسماری اور زمین ضبطی کی کارروائیاں کی جا سکیں گی جو انتظامی اور سیکورٹی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں سمجھے جاتے تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک بڑی قانونی تبدیلی ہے جس سے مستقبل میں واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی دراصل ایک قدامت پسند عیسائی مذہبی پس منظر رکھتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک ایونجیلیکل (Evangelical) عیسائی ہے اور ماضی میں وہ باقاعدہ طور پر بیپٹسٹ پادری (Southern Baptist pastor) رہ چکا ہے۔ یہ امریکا کی سب سے بڑی پروٹسٹنٹ مسیحی تنظیم ہے۔ وہ کئی برس تک امریکا میں بطور مذہبی مبلغ خدمات انجام دیتا رہا، اس کے بعد سیاست میں آیا۔ یہ لوگ بائبل کی لفظی تعبیر (Biblical literalism) کے قائل سمجھے جاتے ہیں۔ اسرائیل کے بارے میں ان کا مؤقف مذہبی بنیادوں پر مضبوط ہے، خصوصاً اس عقیدے کے تحت کہ یہ زمین خدا کی طرف سے یہودی قوم کو عطا کی گئی ہے۔ ہکابی ان امریکی ایونجیلیکل رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے جو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ سیاسی طور پر بھی وہ ریپبلکن جماعت سے وابستہ ہے اور پہلے ریاست آرکنساس کا گورنر رہ چکا ہے۔ گوکہ وہ یہودی نہیں، لیکن ایک سخت گیر ایونجیلیکل پروٹسٹنٹ عیسائی ہے، جس کا اسرائیل کے بارے میں مؤقف مذہبی عقیدے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
امریکہ میں ایونجیلیکل پروٹسٹنٹ عیسائی اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اس رجحان کو عموماً “کرسچن زایونزم” (Christian Zionism) کہا جاتا ہے۔ یہ مکمل طور پر یکساں یا لازمی عقیدہ نہیں ہے، لیکن امریکی ایونجیلیکل حلقوں کے ایک بڑے حصے میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ بائبل میں بنی اسرائیل سے کیے گئے وعدے آج بھی سیاسی طور پر معتبر ہیں۔ اسرائیل کی ریاست کا قیام خدائی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کی حمایت کرنا مذہبی ذمہ داری ہے۔ البتہ یہ بات بھی اہم ہے کہ تمام ایونجیلیکل عیسائی صہیونی نظریات کے حامی نہیں ہوتے۔ یورپ اور لاطینی امریکہ میں ایونجیلیکل تحریک کا رویہ مختلف ہو سکتا ہے۔
مائیک ہکابی طویل عرصے سے اسرائیل کا سخت حامی سمجھا جاتا ہے اور اس کا مؤقف صرف سفارتی نہیں بلکہ مذہبی و نظریاتی نوعیت کا رہا ہے۔ اس نے ماضی میں کہا تھا کہ "فلسطینی" دراصل کوئی الگ قوم نہیں بلکہ ایک "سیاسی اصطلاح" ہے۔ اس بیان پر شدید تنقید ہوئی تھی کیونکہ اسے فلسطینی قومی شناخت کی نفی سمجھا گیا۔ اس نے کئی مواقع پر فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی ہے اور دو ریاستی حل کو غیر مؤثر قرار دیا ہے۔ وہ "ویسٹ بینک" کے بجائے بائبلی اصطلاحات "یہودیہ اور سامریہ" استعمال کرتا رہا ہے، جو اسرائیلی دائیں بازو کے مذہبی بیانیے سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اس نے اسرائیلی آبادکاری (settlements) کی کھل کر حمایت کی ہے اور بعض مواقع پر مغربی کنارے کی بستیوں کا دورہ بھی کیا۔ وہ بارہا کہہ چکا ہے کہ اسرائیل کی زمین خدا کی عطا کردہ ہے، یہی بیانیہ حالیہ انٹرویو میں بھی سامنے آیا۔