*دور حاضر کا پردہ اور اسلام کا حکم*
آج کا موضوع نہایت ہی اہم اور اسلام کی عروجیت، اور عورت کی عزت و وقار کا منہ بولتا ثبوت ہے:
اسلام نے عورت کو عزت، عصمت اور وقار کی بلند ترین منزل عطا کی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے پردے کا حکم دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پردہ صرف ایک لباس یا ظاہری کپڑا نہیں بلکہ ایک مکمل اسلامی نظام حیا ہے جس کے ذریعے عورت کو ہر طرح کے فتنوں، بری نگاہوں اور سماجی آلودگیوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے دین اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی، اور بیوی، کے مقدس رشتوں میں ایک عظیم مقام بخشا ہے، اور اسی مقام و منزلت کے تقاضے کے طور پر پردے کو لازم قرار دیا ہے تاکہ عورت اپنی اصل پہچان اور حقیقی شرافت کے ساتھ زندگی بسر کر سکے، پردہ نہ صرف عورت کی عفت و عصمت کا محافظ ہے بلکہ پورے معاشرے کو گناہوں اور بے حیائی سے بچانے کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ عورت کا وقار ٹوٹنے سے معاشرتی اخلاقیات کمزور ہوتی ہیں اور فتنے جنم لیتے ہیں، اسی لیے قرآن و حدیث میں بار بار پردے کی تاکید کی گئی ہے اور اسے ایمان و پاکیزگی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَیٰ جُیُوبِهِنَّ.
یعنی:اے محبوب ﷺ:اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں، مگر جو اس میں سے ظاہر ہو، اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں)
یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْهِنَّ مِن جَلَابِیبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن یُعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ ۗ
یعنی : اے نبیﷺ: اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔
اسلام کے ان واضح احکام سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پردہ محض ایک رسم یا ثقافتی روایت نہیں بلکہ ایک الٰہی حکم ہے جو عورت کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے اتارا گیا ہے، پردہ عورت کے وقار، عفت اور حیا کا سب سے بڑا حصار ہے، اگر عورت اپنے لباس اور طرزِ زندگی میں اسلامی پردے کو اپنائے تو نہ صرف وہ خود فتنے اور برائیوں سے محفوظ رہتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں پاکیزگی اور سکون قائم رہتا ہے، پردہ مرد و عورت کے درمیان حد فاصل کھینچ دیتا ہے اور اس طرح ان کے تعلقات کو اعتدال پر قائم رکھتا ہے، دراصل عورت کا حسن اور اس کی زینت اس کے لیے اللہ کی طرف سے ایک قیمتی امانت ہے، اور پردہ اس امانت کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔
پردے کی افادیت یہ بھی ہے کہ یہ عورت کو محض ایک جسمانی نمائش بننے سے ہی نہیں روکتا بلکہ اسے عزت و عظمت کی بلندی پر فائز کرتا ہے، ایک پردہ دار عورت خود کو بازاروں، فیشن کی دوڑ اور غیر محرم مردوں کی نظروں سے بچا لیتی ہے، اس کے برعکس جب پردے کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو نہ صرف عورت اپنی عزت کھو بیٹھتی ہے بلکہ پورا معاشرہ بے حیائی اور بدکاری کی لپیٹ میں آ جاتا ہے، پردہ دراصل عورت کو اس کی حقیقی آزادی دیتا ہے، ایسی آزادی جو اسے فحاشی، جنسی استحصال اور غیر اخلاقی نظریں برداشت کرنے سے نجات دلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے پردے کو عورت کی پہچان اور اس کی حفاظت کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ کوئی بدکار یا بد نیت شخص اس کو تکلیف نہ پہنچا سکے، اور پردہ کسی بوجھ کا نام نہیں یا قیدی کا نام نہیں یا تعلیم و تربیت کو روکنے کا نام نہیں بلکہ انسان کے شعوری ہونے کی علامت ہے اسلیے کہ جب لوگ بےشعور تھے تو وہ ننگے رہتے تھے۔
اب میرا سوال ہے ان لڑکیوں سے جنہیں پردہ بوجھ لگتا ہے، جو کہتی ہیں کہ ہمیں بند (Cover) کر دیا گیا ہے آپ بے Cover تو اس وقت تھی جب جنگلوں میں رہا کرتی تھی، جب شعور و عقل،تعلیم و تربیت وثقافت نا تھی،جب یہ سب آ گیا تب عورت نے اپنے آپکو کور کرنا سیکھ لیا اور بتایا ہاں مردوں سے زیادہ ہمیں کور میں رہنے کی ضرورت ہے تو معلوم ہو جو لڑکیاں پردہ نہیں کرنا چاہتی حقیقتاً وہ شعور سے عاری ہیں ورنہ شعور نے عورت کو اپنے اپکو محفوظ رکھنا سکھایا ہے۔۔۔
*کیا دور حاضر کا پردہ اسلام کے آئین کے مطابق ہے*
یہ بھی ایک اہم نقطہ ہے۔
ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کے بہت سی لڑکیاں الگ الگ فیشن کے برقعے میں نظر آتی ہیں، اور ایسے برقعہ جنکی ہیئت و شناخت کو دیکھ کر ایک عجیب ہی ماحول نظر آتا ہے، کیا اس فیشن کا نام پردہ ہے؟ اگر اسلامی آئین کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دور حاضر کا برقعہ اسلام کے آئین کی مخالفت کرتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ اسلام نے جس پردے کا حکم دیا ہے وہ یہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ جس سے کوئی مرد جب اسکو دیکھے تو اسکی طرف مائل نا ہو، لیکن اس وقت حالت بلکل مختلف ہے کیونکہ اس قدر فیشن اور شناخت کے برقعے چل رہے ہیں مرد اس طرف زیادہ مائل (Attrection) ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور حقیقت حال یہ ہے کہ جس پردے کا اسلام نے حکم دیا یہ وہ پردہ نہیں، اسلام نے حکم دیا ہے ایسے پردے کا جسکو اٹھارہ سال کی لڑکی بھی پہنے تو بوڑھی معلوم ہو تاکہ اسکی طرف کوئی مرد مائل نا ہو، لیکن مسئلہ اس کے بر خلاف ہے، اب تو برقعہ پہن کر بوڑھی بھی جوان نظر آتی ہے، ایسے ایسے ڈیزائن نا دیکھنے والا بھی دیکھتا،اسلام نے تحفظ اور امانت کی حفاظت کا ذکر کیا ہے خدارا محفوظ رکھیں،ورنہ یاد رکھنا اللہ کی بارگاہ میں سزا کی مستحق ہونا پڑے گا۔
نوٹ: یہ میرا نظریہ فکر ہے اگر کسی کو کوئی اختلاف ہو بلکل ممکن ہے، لیکن بھائی مجھے بتانا ہوگا وہ کونسا پردہ ہے جسکا اسلام نے حکم دیا ہے۔
*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*