*Allah Banday release ہونے والی فلم*
کل ایک وائز میسیج کے ذریعے یہ خبر میرے کانوں تک پہنچی کہ انڈیا میں بننے والی فلم *اللہ بندے* میں اسلام کے مقدس جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے اور نعوذباللہ اس میں محمد ﷺ کے کردار کو اداکاری کی صورت میں پیش کیا گیا ہے، یہ خبر سنتے ہی دل جیسے لرز گیا، آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ایمان کی رگوں پر ضرب لگا دی ہو، یہ صرف ایک فلم نہیں، یہ ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے، یہ ہمارے ایمان کی سرحد ہے، یہ ہماری محبتِ رسول ﷺ کا امتحان ہے، مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺ کی ذات کوئی تاریخی کردار نہیں جسے کیمرے کے سامنے ادا کیا جائے، وہ ہمارے دلوں کا نور ہیں، ہمارے ایمان کی بنیاد ہیں، ہمارے لیے جان سے بڑھ کر محبوب ہیں، قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے کہ رسول کی تعظیم اور توقیر ایمان کا حصہ ہے، اور جب ربِ کائنات خود تعظیم کا حکم دے رہا ہے تو کوئی انسان کس جرات سے اس مقام کو اداکاری کے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرے؟ کیا رسالت کو اسکرپٹ میں لکھا جا سکتا ہے؟ کیا وحی کی روشنی کو کیمرے کی لائٹ سے ماپا جا سکتا ہے؟ کیا عقیدت کو تفریح بنایا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
یہ مسئلہ آزادیِ اظہار کا نہیں، یہ مسئلہ حدود کا ہے،ہر معاشرے میں کچھ سرخ لکیریں ہوتی ہیں جنہیں عبور کرنا تہذیبی جرم سمجھا جاتا ہے *اگر کسی اور مذہب کی مقدس شخصیت کو اس طرح پیش کیا جائے تو عالمی سطح پر ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے، سفارتی بیانات آ جاتے ہیں، مقدمات قائم ہو جاتے ہیں* تو پھر اسلام کے معاملے میں یہ دوہرا معیار کیوں؟ کیا مسلمانوں کے جذبات کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا ڈیڑھ ارب انسانوں کے ایمان کو چیلنج کرنا فن کہلائے گا؟ اگر واقعی اس فلم میں ایسا مواد شامل ہے جو ناموسِ رسالت کے خلاف ہے تو یہ ناقابلِ برداشت ہے، ناقابلِ قبول ہے، اور ناقابلِ معافی ہے،اور ہم ہر وہ قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے،جو ہمیں ہمارا آئین دیتا ہے۔
ہم واضح اعلان کرتے ہیں کہ ایسی کسی بھی فلم کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا، ہم اس کے مواد کو مسترد کرتے ہیں، ہم اس سوچ کو مسترد کرتے ہیں جو مقدسات کو منافع کا ذریعہ بناتی ہے، ہم حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری تحقیقات کی جائیں، اگر الزامات درست ہوں تو اس فلم پر پابندی عائد کی جائے، ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اور ایسا مضبوط پیغام دیا جائے کہ آئندہ کوئی بھی شخص مذہبی حساسیت سے کھیلنے کی جسارت نہ کرے، قانون کے مطابق ایف آئی آر درج ہو، عدالت میں معاملہ پیش ہو، اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، یہ مطالبہ اشتعال کا نہیں، یہ مطالبہ انصاف کا ہے۔
ناموسِ رسالت ہمارے ایمان کی جڑ ہے، ہماری روح کی دھڑکن ہے، ہمارے وجود کی بنیاد ہے۔ یہ کوئی نعرہ نہیں جسے جلسوں میں بلند کیا جائے اور پھر بھلا دیا جائے، یہ وہ عقیدہ ہے جو مسلمان کے دل میں سانسوں کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ ہمارے لیے محمد ﷺ کی حرمت محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایمان کی شرط ہے۔ ہم زندگی کے ہر میدان میں برداشت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، اختلافِ رائے سن سکتے ہیں، سخت لہجے برداشت کر سکتے ہیں، سیاسی و سماجی تنقید سہہ سکتے ہیں، مگر جب بات ہمارے رب کی شان، ہمارے نبی ﷺ کی عظمت یا کسی بھی دینی مقدس امر کی توہین تک پہنچ جائے تو وہاں خاموشی اختیار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ یہ وہ حد ہے جہاں سمجھوتہ ایمان سے سمجھوتہ بن جاتا ہے، اور ایمان پر سمجھوتہ مسلمان نہیں کر سکتا۔
*حکومت وقت سے مطالبات*
یہ فلم یقینا غلط کیوں کہ اس کا نام ہی غلط *اولا اس کا نام ہٹایا جائے*
حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اس فلم کے مواد کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں قانونی ماہرین، سنسر بورڈ کے ذمہ داران اور مذہبی اسکالرز شامل ہوں تاکہ حقیقت کو جانچا جا سکے اور افواہوں و حقائق میں فرق کیا جا سکے۔
اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ فلم میں اسلام، اللہ تعالیٰ کی شان، یا محمد ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے کوئی گستاخانہ یا توہین آمیز مواد شامل ہے، تو فوری طور پر اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کی جائے اور اسے تمام پلیٹ فارمز سے ہٹایا جائے *ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار افراد خواہ وہ پروڈیوسر ہوں، ڈائریکٹر ہوں، لکھاری ہوں یا متعلقہ اداکار ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور عدالتی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص مذہبی جذبات سے کھیلنے کی جسارت نہ کرے* مزید یہ کہ سنسر بورڈ کے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مذہبی مقدس ہستی یا عقیدے کو متنازع انداز میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے،مذہبی حساسیت کے معاملات میں واضح گائیڈ لائنز اور سخت نگرانی کا نظام بنایا جائے۔
ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرکاری سطح پر یہ یقین دہانی کروائے کہ ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے مقدسات کا یکساں احترام یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی مذہب کی دل آزاری کو آزادیِ اظہار کے نام پر تحفظ نہیں دیا جائے گا،آخر میں ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ انتشار یا بدامنی کا نہیں بلکہ انصاف اور احترام کا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے، قانون حرکت میں آئے، اور ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*