روداد سفر چاند پور ،سہارنپور اور دیوبند
--------------------------------------
رشحات قلم✍🏻
گل رضاراہی ارریاوی
✍🏻ہماری زندگی احباب جامعہ کےہمراہ ہنسی خوشی کٹ رہی تھی ،سیروتفریح ،گپ شپ خارجی کتابوں کا مطالعہ ،استاذمحترم سے درسی استفادہ سب بہترین چل رہا تھا ،ایسا لگتا تھا کہ یہی اصل زندگی ہے اور شاید یہی رہے گی ،اسی بھرم میں تھا کہ ناظم امتحان ششماہی امتحان کا اعلان نکال کر میرے سفیہانہ خیال پر پانی پھیر دیا (،وہی امتحان جس سے ہم جیسے آشفتہ سر بھاگتے ہیں ،گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امتحان ٹل جائے اور نہ ہوتو بہتر ہے تاکہ کتابوں کی سردردی سے بچ سکیں (پر یہ ہماری نادانی اور ہمارا سفیہانہ خیال ہے جو کہ بے معنی ہے)پر وہ کہتے ہیں نا جو ہوتا ہے بھلے کےلیے ہوتاہے ،ہرچیز میں خداکی حکمت ومصلحت پنہاں ہوتی ہے،اور اس میں بندے کےلیے خیر ہی خیر ہوتاہے ،بھلے سے بعض دفعہ بظاھر یہ چیز تکلیف دہ اور بار گراں معلوم ہومگر اس میں ہمارا ہی فائدہ ہوتاہے
اسی قبیل سے امتحان بھی ہے
امتحان کے فوائد:
خواہ وہ کوئی بھی امتحان ہو ہمیں نئی سمت دیتا ہے اور زندگی میں ترقی کی طرف قدم بڑھانے میں مؤثر کردار نبھاتاہے،صلاحیت میں نکھار پیدا کرتا ہے ،استعداد کو جلا بخشتا ہے،سوچنے سمجھنے کا زاویہ بدل دیتاہے،اور علمی لیاقت میں پختگی پیدا کرتاہے-
سابقہ زمانے میں طلبہ علمی ذوق وشوق کےمالک اور تعلیم میں انہماک زیادہ رکھتے تھے تو اس کی ضرورت نہیں تھی مگر اب یہ چیزیں ہم میں کمیاب ہےاسی وجہ سے مدارس میں امتحان کی ضرورت شدت سے بڑھ گئی ،اسی بہانے ہم جیسے غفلت کا شکار طالب علم ورق گردانی کرلیتے ہیں ،کچھ کتابیں پڑھ لیتے ہیں )
بس اعلان نکلنا تھاکہ مستی ،آزادی ،خوشی ،دلربائی ،طنر ومزاح سب فالج زذہ شخص کی طرح سکتہ میں پڑگیا ،چہرےکی خوشیاں مرجھا گئی ،مستیاں محو ہوگئی ،آزادی پس دیوار زنداں میں محبوس ہوگئی ،ہمیشہ امتحان میں گول گول انڈے یا فرط حیرت میں متبلاکریدینے والا نتائج کا خوف قدم قدم پر ستانے لگا ،خجالت وشرمندگی سے لبریز خط گھر پہونچنے کی دہشت نےغلفت کے پردہ کو کچھ چاک کیا اور بادل ناخواستہ کتابوں کے عبارت کی رونمائی اور شناسائی ہونےلگی ،جیسے نئی نویلی دلہن ہو جس سے پہلی مرتبہ شناسائی کی گفتگو ہورہی ہےاورتادم حیات ہمیشہ ساتھ نبھانے کا وعدہ ہورہاہو،بعینہ یہی حال کتابوں کابن گیا
اور ان سے اسی طرح کی گفتگوکا مزاج بن گیا اب کتابوں کے ساتھ بے وفائی نہیں ہوگی ،ان کے حقوق ادا کرنے میں پیش پیش رہوں گا ،
خیر کسی طرح کچھ تیاری تو ہوگئی
اور ایک دن وہ آیا جب تمام احباب جامعہ میں نفسا نفسی کا عالم شروع ہوا، کوئی کسی سے گفت وشنید کےلیے تیار نہیں حتی کہ نظر اٹھانے اور تانک جھانک میں بھی خوف محسوس کرنے لگے وہ ساتھی جوہمیشہ قریب ہوتے تھے، انہوں نے اب قربت پر معذرت پیش کردی اور کسی تعاون سے کلی طور پر دست بردار ہوگیے،بھائی توصیف ،بھائی عاصم بھائی سہیل کچھ تو رحم کرو ،میرے پاس آکر بیٹھو بات چیت کرو کچھ سوال حل کرادو ،نہ گل رضا بھائی نہ آج ہم کچھ نہیں بتا سکتے ،مجھے معاف کر دو ،میں مجبور ہوں اگر کچھ بتاؤں نگراں حضرات ہم پر ڈونڈوں کی بارش کریں گے ،مجھے امتحان سے محروم کردیں گے اور ہمارا یہاں جینا دشوار ہوگا مجھے معاف کر دو نگراں حضرات کے ہاتھوں مجبور ہوں کچھ نہیں کرسکتا(میرے حالات ایسے ہیں کہ میں کچھ نہیں کرسکتا)جب سب تعاون سےدست بردار ہوجقتے ہیں اورناامیدی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں تو خدا سے امیدیں بڑھ جاتی ہیں ،بس نصرت الہی، کچھ اپنی ٹوٹی پھوٹی تیاری پر اعتماد کرتے خامہ فرسائی شروع کردی ،بحمداللہ امتحان کے تمام پرچہ بزغم خود کافی حدتک درست گیے ہیں اور اچھے نتائج کی امید بھی ہے ،
تکمیل امتحان کے بعد ذہنی بوریت واکتاہٹ کو ختم کرنے، فکری شعورجلاکوبشخنے کےلیے سیاحت کاارادہ کیا -
آغاز سفر :
ہمارے برادر محترم قاری بدیع الزماں صاحب اور رفیقان درس مولوی توصیف و عاصم کا اصرار ہوا کہ بجنور آئیں تو میں نے اولا معذرت کردی مگر چونکہ اصرار تھا مزید معذرت کی گنجائش نہیں بچی ،مجھے بجنور جاناپڑا، جانے کا ایک سبب توصیف بھائی کے چھوٹے بھائی ذکاءاللہ سلمہ کے تکمیل قرآن کی دعائیہ نششت بھی تھی-
اس لیے میں نے بجنور سفر کا ارادہ کرلیا اور دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں نکل گیا (چونکہ چھٹی میں احباب جامعہ کو مدرسہ ویران معلوم ہوتاہے، دل بھی نہیں لگتا، اکثراحباب اپنے گھر یاپھر اپنے رشتہ دار سے ملنے چلے جاتے ہیں تاکہ امتحان کے تھکن کو دور کیا جاسکے اور دوبارہ پھر تعلیم کےلیےیکسوئی کے ساتھ کمربستہ ہوسکے-
بریں بنا احباب بناوقت ضائع کیے رخت سفر تیار رکھتے ہیں اور امتحان سے فارغ ہونے کے بعد سفر کےلیے چل پڑتے ہیں)
میں بھی اسی وجہ سے نکل گیا تھا -
خیر ٹیمپوپر بیٹھ گیا،گپ شپ لگاتےاور سوتے سوتے دو گھنٹہ کے بعد بجنور چاندپور کی تاریخی سرزمین پر ہماری رسائی ہوئی ،قاری بدیع الزماں صاحب نےمسکراتے چہروں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور ٹھنڈا وغیرہ لےکر آۓ ، دوپہر کی دعوت رفیق مکرم مولانا اشرف صاحب نے کی تھی تو پھر اسی کے مدرسہ میں پہلا ظہرانہ تناول کیا، عصر بعد مولانا اشرف صاحب نے مدرسہ کی مسجد اور کتب خانہ کاتعارف کرایا-
انہوں نے بتایا کہ جامعہ کی مسجد تقریباً پانچ سو سال پرانی ہے ،جامعہ کا کتب خانہ بے شمار بیش قیمتی کتابوں سے لبریز تھی انہوں نے بتایا کہ ان میں سے بعضے کتب وہ ہیں جو کمیاب ہیں اور ہندوستان میں دستیاب نہیں تو وہ اردن وعمان سے منگوائی گئی ہے،یہ بہترین ذوق ہےکہ انسان اپنے سرمایہ کو کتب بینی اور کتابوں کی خریداری میں صرف کرے-
عصر بعد ایک بزرگ عالم دین کی دوسری مسجد میں وعظ و تذکیر کی مجلس تھی ،ہم نے وہاں بھی شرکت کی، ان کے قیمتی نصیحتوں کوگوش بر آواز ہوکرسماعت کیا،عشائیہ قاری صاحب کےپاس تناول کیا
اگلے دن تکمیل قرآن کی دعائیہ نششت تھی اسی کی تیاری میں مولوی توصیف اور ہم احباب دن بھر مصروف رہے تمام اساتذہ، علما اور کچھ متعلقین کو پروگرام میں شرکت کی دعوت کاسلسہ جاری رہا-
ظہر کے بعد دعائیہ مجلس شروع ہوئی تلاوت کلام اللہ اور نعت رسول سے محفل کا آغاز ہوا،دوحضرات نے حفاظ کی اہمیت پرخطاب فرمایا ،مولوی عاصم ارریہ نے اپنی پرکشش آواز اور ترنم کےساتھ تہنت نامہ پڑھا، بعد ازاں حافظ ذکاءاللہ سلمہ نے قرآن کا آخری حصہ پڑھا پھر رقت آمیز دعا ہوئی-
توصیف بھائی کی جانب سے پرلطف دعوت :
مولوی توصیف کی جانب سے شاندار پرتکلف ناشتہ کا انتظام تھا ساتھ ہی عشائیہ کابھی جس میں مچھلی چاول شامل تھی، لوگوں نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا ،اس کے بعد پھر توصیف بھائی نےذکاء اللہ کے استاذ کو خصوصی انعام سے نوازا اور دیگر استاذوں میں مٹھائی تقسیم کروائی -
نکتہ کی بات :
ایک بات جو مجھے نامناسب لگی وہ یہ کہ مدرسہ کے اساتذہ اور مہتمم کا حافظ ذکاءاللہ سلمہ کو کچھ انعام نہ دینا کیوں کہ یہ وہ موقع ہوتاہے جس میں طالب علم کو اپنی پہلی کامیابی پر خوشی ہوتی ہے اگر اس خوشی میں کوئی انعام مل جاۓ تو طالب علم کو آگے بڑھنے میں حوصلہ ملتاہےاور مزید محنت کی طرف رغبت ہوتی ہے،اور پھر اس حرص و طمع میں سہی پر محنت ضرور کرتاہے اگر میں اسی طرح کامیاب ہوتارہاتو مجھے انعام ملتارہے گا اور یہ مشاہدہ اور حقیقت بھی ہے)
اتوار کی صبح تک میرا چاند پور میں قیام رہا ان دنوں لوگوں نے جن میں مدرسہ سیدنا عمر فاروق کے اساتذہ اور مہتمم صاحب شامل ہیں انہوں نے محبتوں اور دعاؤں سے نوازا ،حضرت قاری نظرالاسلام صاحب اورمولانا اشرف صاحب کی خصوصی عنایتیں اور نوازشیں رہیں ،اور مچھلی چاول کی پرتکلف دعوت بھی -
اللہ ان سب حضرات کو جزاۓ خیر عطا فرمائے -بقیہ ایام کی میزبانی قاری بدیع الزماں صاحب ہی انجام دےرہے تھے کیونکہ وہ مہمان نواز ہیں ،
ہفتہ کی صبح محب مکرم مولانا محسن صاحب قاسمی نے فون کیا اور حکم دیاکہ آپ دیوبند جائیں کچھ کام ہے تو بندہ اس کے حکم کی تعمیل میں اتوار کی صبح دیوبند کےلیے نکلا لیکن گاڑی سہارنپور تک کہ تھی اور دیوبند کےلیے اگلی گاڑی شام کے وقت تھی اس دوران مظاہر العلوم ہی زیارت کا ارادہ ہواتو ٹرین پہ ہی رفیق محترم مولوی غفران کو پیغام ارسال کیا کہ میں مظاہر العلوم آرہا رہوں چونکہ کئی دنوں سے ان کا بھی اصرار تھا آپ مظاہر العلوم آئیں زیارت وملاقات ہوۓ سالوں ہوگئے ہیں تو ان کے حکم تعمیل میں بھی چلاگیا اور میرے علاقائی ساتھی مولوی شعبان متعلم مظاہر العلوم وقف بھی تھے-
سہارنپور حاضری :
سہارنپور (تاریخی شہر اکابر علماء کی خانقاہ،مولانا خلیل احمد سہارنپوری رح کی علمی وتدریسی درسگاہ ،شیخ زکریا کی تربیت گاہ ،شیخ یونس کی گلستاں ،)پہونچتے ہی راقم نے اولا انہیں فون کیا اور مظاہر العلوم وقف پہونچا اس کی قدیم عمارتوں کو دیکھا ،اس کا حسن نےقلب کوسکون وفرحت بخشا ،مولوی شعبان آۓ ملاقات ہوئی پھر دوپہر کا کھانا ہم نے ساتھ کھایا ،کھانےسے فراغت کے بعد مظاہر العلوم جدید کی طرف قدم رنجا ہوا دوچند قدم بڑھانے کے بعد ہم وہاں پہونچ گیے (وہاں کی دلکش پر کشش عمارت جس پر نظر پڑتے ہی آدمی سمجھ جاتاہےکہ یہ شیخ یونس کا گلشن ہے ،شیخ عاقل کایہ چمن ہے ) مولوی غفران چونکہ امتحان کے تھکن کی وجہ سے آرام فرمارہےتھے تو بروقت فون نہیں اٹھاسکے ،لیکن جب نیند سے بیدار ہوۓتو فوراً میسیج کیااور کال کے ذریعے معذرت کی پر میں غفلت کی وجہ سے نہیں اٹھاپایا، نماز ظہر ہم نے مظاہرالعلوم جدید کے قدیم وسیع وعریض مسجد میں۔ ادا کی ،اس کے بعد میں نے فون لوٹایا تو ملاقات ہوئی کچھ دیر حال و احوال دریافت کیا گفت وشنید ہوتی رہی، میرے منع کے باوجود اس نے کولڈرنک منگوا کر میزبانی کا حق ادا کردیا ،پھر وہ پڑھنے چلے گیے میں سوگیا، آنکھ کھلی تو گاڑی کا وقت ہوچکاتھا تو میں نے غفران بھائی کو فون کیا تو وہ آۓ اور ہمیں محبتوں اور شفقتوں کے ساتھ الوداع کیا تقریباً ایک گھنٹے کےقلیل وقت میں دیوبند پہونچا-
دیوبند حاضری:
دیوبند کی سرزمین دنیا میں محتاج تعارف نہیں ،اس کی روشن تاریخ اور خدمات ملک وملت کےلیے ایک نمونہ ہےاور یہ خود اہل حق کاتعارف بھی ہے،اس نے جہاں دین کی نشرو اشاعت ،احقاق حق وابطال باطل کاکام کیاہے ،وہیں ملک کی آزادی اور ترقی میں بے مثال اور لاجواب کردار ادا کیاہے ایسی مقدس سرزمین میں میری آمد میرے لیے سعادت تھی، مغرب سےکچھ دیر قبل دیوبند پہونچا، احباب امتحان کی تیاری میں مصروف تھے، میں نے کسی کو زحمت دینا مناسب نہیں سمجھا البتہ میرے رفیق محترم مولوی مکرم کیفی جوکہ بے تکلف ساتھی ہیں ان سے رابطہ کیا تو وہ کمرہ میں پڑھ رہے تھے اور کئی ساتھی تھے ،سب سے بات چیت ہوئی اور پھر مغرب کا وقت ہوگیا ہم سب نے مغرب کی نماز قبرستان والی مسجد میں ادا کی، پھر ٹہلنے نکل گیے میرے ایک علاقائی رفیق جن سے دوستانہ تعلق فیسبک سے ہواتھا اور بہت ہی محبت کرنے والے ساتھی مولوی نوازش تھے ان سے ملاقات کرنا چاہا ان کا بھی بارہا اصرار تھا کہ آپ اس بار دیوبند آئیں تو مجھ سے ضرور ملاقات کریں ،میں منتظر ومشتاق ہوں آپ کی زیارت کا خیر میں نےان سے رابطہ کیا تصویر نہ دیکھنے کی وجہ سے اجنبیت سی لگی دونوں ایک دوسرے کو ڈھونتے رہےپھر ملاقات ہو ہی گئی ،کمرہ لے گیے کھانے کی دعوت دی چونکہ مولوی مکرم کیفی نے اپنی دعوت سے شکم سیر کردیا تھا تو مزید کی کچھ کھانے کی گنجائش نہیں تھی تو مجبوراً منع کرنا پڑا ،ان کے عشائیہ کرلینےکےبعد ہم دونوں باہر چہل قدمی کرنے نکل گیے، انہوں نے اپنی ضد شروع کردی کہ آپ کچھ ٹھنڈا گرم کھا پی لیں،کچھ نہیں تو ایک آدھ مٹھائی ہی کھالیں ،میں نے شدت سے منع کردیا کہ نہیں محترم میں آج تو کچھ بھی نہیں کھاؤں گا ،دلچسپ تفریحی اور تعلیمی بات چیت ہوتی رہی ،وہ ہمیں اپنے تعلیمی حوالے ہمیں مستفید کرتے رہے- چونکہ اگلے دن ان کا امتحان تھا تو راقم نے انہیں زحمت دینا مناسب نہیں سمجھا ان سے بعد میں ملاقات کےعزم کے ساتھ رخصت ہوگیا -
راقم پھر پرانے احباب سے ملنے شیخ الاسلام منزل کی طرف گیا جن میں مولوی ابوبکر ارریہ مولوی ابوبکر وابوذردہلی شامل ہیں کمرہ میں گیا تو دیکھا کہ ابوبکر دہلوی سلم العلوم کی ورق گردانی کررہے ہیں اور انہماک بہت زیادہ ہے ،سلام دعا کرکے کمرہ کی طرف آگیا، مکرم بھائی کے ساتھ جاکر بستر استراحت پر سونے کےلیے پہونچ گیا مکرم بھائی تو پڑھتے رہے اور راقم سوگیا صبح ساڑھے سات ہوتے ہی تمام احباب امتحان دینےچلے گیے،
راقم بھی اپنے پرانے اساتذہ سے ملنے مدرسہ اشرف العلوم پہونچ گیا تو وہاں مولانا توحید عالم صاحب سے ملاقات ہوئی ، پھر مولانا مفتی انعام الحق قاسمی مہتمم مدرسہ ھذا،مولانا ظہیر صاحب اور نہایت ہی مشفق، نرم گفتار استاذ محترم حضرت مولانا مفتی اخلد صاحب سے ملاقات ہوئی اور چند نصیحتیں بھی کیں، پھر انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ قیام کریں گے تو آپ کی میرے یہاں دعوت ہے ،راقم چاہتا تھا کہ دعوت قبول کرے پر مدرسہ کے اصول وضابطے پر عمل طالبان علومِ نبویہ کےلیے لازم ہے ،اسی لیے میں نے یہ اختیار لیا کہ اگر مدرسہ کی طرف سے اعلان میں نرمی ہوگی تو ضرور شرکت کروں گا ،
خیر اللہ کی مرضی یہ ہوئی کہ مدرسہ میں حاضری منگل کوشام کے بجاۓ بدھ کی صبح کو ٹل گئی اور اس کا اعلان بھی تحریری شکل میں آگیا تو پھر راقم مطمئن ہوا ، پیر کے دن ٹھہر گیا اور راقم نے استاذ محترم کو یہ اطلاع دی کہ راقم آج ٹھہرے گا -
عصر بعد ابوذر وابوبکر دونوں بھائیوں کے ہمراہ چاۓ خانہ میں گیا ماشاءاللہ وہ چاۓ خانہ ظاہری وباطنی حسن و لطافت سے لبریز تھا ابوبکر بھائی نےمیرے لیے اور ابوذر بھائی کےلیے تو کیلے کا جوس اور اپنے لیے چاۓ منگوایا،گفت وشنید کے ساتھ ہم مشروبات سے لطف اندوز ہوتے رہے ،بعد ازاں سیرو سیاحت ہوتی رہی پھر مولوی ابوذر وابوبکر کے ہمراہ لذیذعشائیہ تناول کرلینے کےبعد وہ سب امتحان کی تیاری کیلیے نکل گیے-
اس کے بعد میں اپنے بہت ہی قریبی دوست مولوی اسجد نعمانی کو ملاقات کےلیے فون کیا پر مصروفیت کے سبب وقت پر فون نہ اٹھاسکے بہر حال کچھ دیر انتظار کےبعد انہوں نے فون کیا اور معلوم کیا کہ آپ کہاں ہیں تو نے راقم نے بتایا کہ میں فلاں جگہ پر ہوں ،موصوف آۓاور گفت وشنید کرتے کرتے ہوٹل تک لے کر چلے گیے پر میں نے صاف منع کردیا کہ میں شکم سیر ہوں مزید کچھ کھانے کی گنجائش نہیں رکھتا وہ اصرار کرتے رہے پر میں مجبوری کی وجہ سے منع کرتارہا اور کھانے میں اس کی موافقت نہیں کی،پھر اس کے بعد طویل وقت تک تقریباً ایک بجے شب تک بات چیت ہوتی رہی گھومتے ہنستے مذاق کرتے کرتے سرپنچ ہوٹل میں چاۓ نوشی سے سرفراز کرہی دیااتنی لمبی گفتگو جیسے بچھڑا یار کئی سالوں کے بعد مل رہاہو، پھر میں نے انہیں مزید زحمت نہیں دی اور خود ہی آرام گاہ کی طرف جانے کی اجازت حاصل کی اور میں سونے کےلیے شیخ الاسلام منزل گیا اورمولوی ابوبکر کو فون کیا انہوں نےاپنے پاس بستر لگوادی- پھر برادرم مولوی نوازش نے کال کیا کہ اگر کوئی دقت ہوتو میرے کمرے میں آجائیں ،کھٹمل ہونے کی وجہ سے میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی،چنانچہ میں ان کے پاس آگیا اور بات چیت ہوتے ہوتے تقریباً ڈیرھ بج گیے تو ہم سوگیے-
صبح ہوئی تو دیکھا کہ اسجد بھائی کی تقریبا سات آٹھ کال آئی ہوئی تھی ان کو کال لگایا انہوں نے کہا کہ جنت ٹی اسٹال آئیں ،
توراقم مولوی نوازش کو لے کر وہیں چلاگیا دیکھا کہ صرف نام ہی جنت ہے ورنہ اس کا نظم ونسق اور بکھرے سامان جہنم سے کم نہیں تھا گرچہ آغاز میں یہ ہوٹل اسم با مسمی کے قریب تھا مگر اب اس کی حالت ناگفتہ بہ تھی خیر انہوں نے ناشتہ میں بریانی منگوائی اور اسجد بھائی کی موجودگی میں ہم نے ناشتہ کیا ان سے کہا کہ آپ میری موافقت کریں پر انہوں نے گزشتہ شب کا بدلہ مجھ سے لیا اور موافقت سے منع کردیا تو مجھے اکیلے ہی ہاتھ صاف کرنا پڑا،پھر کمرے میں گیا ہی تھا کہ ابوبکر بھائی آۓ انہوں نے کہاکہ چلیں ناشتہ کریں ،میں نے منع کیا پر مانے نہیں اور میری ایک نہیں سنی اور ہوٹل لےکر گیے دو بارہ ناشتہ کروادیا -
کمرہ میں آکرتھوڑی دیر نوازش بھائی کے ساتھ بات چیت ہوئی ،چونکہ انہیں بھی اپنے رشتہ دار سے ملنے دہلی جانا تھا تو میں وہاں سے آخری ملاقات کرکےاسجد بھائی کے پاس گیا، انہوں نے پہلے سے کیلے تیار رکھے تھے زبردستی کیلا کھلوادیا پھران سے مزید بات چیت ہوئی،پھر وہ کپڑا دھونے چلے گیےاور میں اجازت لےکر بازار چلاگیا کپڑے کی خریداری کی اور ان کو گھر کی طرف روانہ کردیا-
وقت موعود پر استاذ محترم کا فون آگیا اور کام سے فارغ ہوکر ان کے گھر پہ پہونچا ،پر لطف دعوت میں شریک ہوا اور الحمدللہ دعوت بہترین رہا چونکہ کئی یک علماء اور بھی تھے جو شریک دعوت تھے،علماء کے ساتھ دعوت میں شرکت کا لطف ہی کچھ اور ہوتاہے -
آفتاب کی تپش کے باوجود مجھے وہاں سے نکلنا پڑا،سلام ومصافحہ کے استاذ محترم نے دعاؤں سے نوازا اور فرمایا کہ دیوبند جب بھی آنا ہو مجھے ضرور مطلع کریں ،یہ میرے تئیں استاذ جی کہ شفقت ہے اللہ تعالیٰ حضرت کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے -
خیرٹہلتے ٹہلتےجلدی سےمکتبہ النور آیا تو دیکھاکہ مکتبہ بند ہے وہاں سے کچھ کتابیں لینی تھی ،چونکہ مکتبۃ النور کے نگراں میرے استاذ محترم مولانا ندیم اقبال صاحب ہیں جن کی دعائیں، شفقتیں اورعنایتیں اس راقم عاجز کے ساتھ برابر رہتی ہےاسی وجہ سے استاذ جی نے مجھ سے فرمایا کہ اگر کبھی آپ کے پاس پیسہ کی گنجائش نہ ہو اور کتابیں لینی ہو تو بلاجھجھک کتابیں منگوائیں اور پیسہ حسب سہولت ارسال کرتے رہیں اور تعلیم کے حوالے سے جو بھی تعاون درکار ہو مجھے ضرور یادکریں
اس پر اوراس جیسے شفقت پرمیں اپنے تمام استاتذہ کا تہہ دل سےشکر گزار ہوں، مکتبہ النور کے نگراں اور میرے استاذ جی سے پہلے دو مرتبہ ملاقات ہوچکی تھی،
اس لیے وہاں سے جلدی دوبارہ اسجد بھائی کےپاس واپس آگیا تھوڑی دیر قیام کے بعد وہاں سے اجازت لےکرمکرم بھائی کے پاس آیا وہیں لیٹا تو آنکھ لگ گئی ،عین وقت پر آنکھ کھلی تو دیکھا نوچندی کا وقت ہوگیا اور بھائی مکرم نہیں ہیں پس جلدی سے بغیر اطلاع کے نکلنا مناسب سمجھا ،جلدی سے نکل کر آٹو پر سوار ہوا اور اسٹیشن پہونچا تھوڑی دیر کے انتظار پر یک لوتا نوچندی آگئی اور سوار ہوا الحمدللہ سیٹ مل گئی ،
یہ سفرنامہ لکھتے لکھتے سفر اپنی منزل تک پہونچ گیا اور اسٹیشن پر فروکش ہونے کے بعد بہت سے احباب جامعہ سے ملاقات ہوئی، پھر شب 11بجے کے قریب جامعہ میں ہماری حاضری ہوئی -
مہتمم صاحب سے مصافحہ ہوا،اور پھر عشائیہ تناول کیا جوکہ راستے میں ہوٹل سے ہی انظر بھائی نے لیا تھا
خیر الحمدللہ یہ سفر نہایت ہی حسن وخوبی ،خیروعافیت کے ساتھ اپنے حسن انجام کو پہونچا
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام احباب اور میزبان کو مہمان نوازی کا بہتریں صلہ عطاء فرمائے ،اور ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھردے آمین ثم آمین