حضورِ اکرم ﷺ کی آنکھوں میں حسن کا ایک ایسا عالمگیر سرور تھا جو دلوں کو بے خودی کی لذت سے ہمکنار کر دیتا تھا۔ آپ ﷺ کی نگاہوں میں محبت کی وہ لطافت اور شفقت کی وہ چمک تھی جو دیکھنے والے کے باطن تک اُتر جاتی۔ یوں محسوس ہوتا گویا اُن آنکھوں میں کائنات کے پوشیدہ راز سمٹ آئے ہوں، اور وہ راز صرف اہلِ دل ہی پر آشکار ہوتے ہوں۔
آپ ﷺ کی پلکوں میں ایسا جمال تھا کہ جو بھی ایک بار دیکھ لیتا، اُس کی نظر وہیں ٹھہر جاتی۔ وقت جیسے تھم سا جاتا، دل کی دھڑکنیں مدھم ہو جاتیں اور روح ایک انجانی سی طمانیت میں ڈوب جاتی
وہ نگاہ دلوں کو سنوارتی، روحوں کو جگاتی اور باطن کو روشن کر دیتی تھی۔
وہ آنکھیں عشق کے اُس رنگ میں رنگی تھی گویا نگاہِ یار میں وہ دیدارِ الٰہی کا سراپا نور ہو، اُن کی ہر نظر میں والہانہ پیار، ہر جنبش میں رحمت، اور ہر التفات میں پُر سکون لطافت تھی۔ ایسا نور جھلکتا تھا جو دل کے تاریک گوشوں میں امید کے چراغ روشن کر دیتا۔ ایک لمحے کی نظر سے لاکھوں بے چین دلوں کو قرار ملتا، اور وہ نگاہ آج بھی مضطرب روحوں کو سکون عطا کررہی ہے۔
آپ ﷺ کی نگاہ میں وہ تاثیر تھی کہ محبت خود اپنے آپ کو پہچان لیتی۔ دل اپنا راستہ بھول کر اُسی نور میں گم ہو جاتا۔ وہ آنکھیں نہ صرف ظاہر کو دیکھتی تھیں بلکہ باطن کی گہرائیوں تک رسائی رکھتی تھیں۔ انسان کی خاموش دعائیں، اَن کہی آرزوئیں اور پوشیدہ تمنائیں، سب اُس نگاہِ کرم میں سمٹ جاتیں۔
یہی نگاہِ مصطفیٰ ﷺ کا نور تھا جو حسن بھی تھا، عشق بھی، اور سرور بھی۔
وہ نظرِ رحمت جو آقا ﷺ کی آنکھوں سے جھلکی، آج بھی ایمان والوں کے قلوب کو منور کر رہی ہے اور تا قیامت ہدایت و الفت کا مینار بن کر جگمگاتی رہے گی۔
نگاہِ رحمت کے سراپائے نور کی ثنا میں قلم کی بساط ہی کیا…
خاکِ پاۓ مصطفیٰ
محمد شاہد رحمانی