رمضان المبارک کا مہینہ سراسر رحمت، مغفرت اور برکتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اس مہینے کی ہر ساعت میں خیر پوشیدہ ہے اور ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انہی بابرکت اعمال میں سے ایک سحری بھی ہے۔ عام طور پر ہم کہتے ہیں: "آؤ سحری کھا لو"، مگر اگر ہم یہ کہیں کہ "آؤ برکت کا کھانا کھا لو" تو اس جملے میں روحانیت، شعور اور مقصدیت کی ایک نئی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
سحری محض کھانا نہیں بلکہ عبادت کی تیاری ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب بندہ رات کی خاموشی میں اٹھ کر اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ سحری کھانا سنتِ نبوی ﷺ ہے اور اس میں خیر و برکت رکھی گئی ہے۔ اسی لیے اسے صرف ایک معمولی ناشتہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ برکت کا وہ ذریعہ ہے جو پورے دن کے روزے کو قوت اور استقامت عطا کرتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں "برکت کا کھانا کھا لو" تو دراصل ہم اس عمل کی روح کو اجاگر کرتے ہیں۔ برکت کا مطلب صرف زیادہ ہونا نہیں بلکہ کم میں بھی کفایت، دل کا اطمینان اور عمل میں خیر کا شامل ہو جانا ہے۔ سحری کا لقمہ بظاہر معمولی ہو سکتا ہے، مگر نیت خالص ہو تو وہی لقمہ جسم کو طاقت اور روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔ اس وقت کی دعا قبولیت کے قریب ہوتی ہے، اور یہ لمحات اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کے نزول کا وقت ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ الفاظ کا انتخاب بھی تربیت کا حصہ ہے۔ جب ہم اپنے گھر والوں، خصوصاً بچوں کو یہ کہتے ہیں کہ "آؤ برکت کا کھانا کھا لو" تو ہم ان کے ذہنوں میں یہ شعور بیدار کرتے ہیں کہ رمضان کے اعمال محض رسم نہیں بلکہ فضلِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ یوں ایک عام سا جملہ ایمان کی تازگی اور دینی شعور کی آبیاری کا سبب بن جاتا ہے۔
پس ہمیں چاہیے کہ سحری کو صرف جسمانی ضرورت نہ سمجھیں بلکہ اسے روحانی سرمایہ جانیں۔ آئیں، اپنی زبانوں کو بھی بابرکت بنائیں اور اپنے گھروں میں محبت سے یہ صدا بلند کریں: "آؤ برکت کا کھانا کھا لو" تاکہ ہمارے الفاظ بھی ثواب کا ذریعہ بنیں اور ہمارے اعمال بھی برکتوں سے معمور ہوں۔
🪶از:ح عائش✰