درد کی تصویر بن کر ساعتیں رہ جائیں گی
ہم چلے جائیں گے پھر تو حسرتیں رہ
جائیں گی

وہ کسی دن آئے گا پھر فرصتیں اپنی لے کر
ڈھونڈتے مجھ کو پھرو گے چاہتیں رہ جائیں گی

زندگی کی گہماگہمی میں ہم اکثر ان
 جذبات کو فراموش کر بیٹھتے ہیں جو دراصل ہماری روح کی تازگی کا سبب ہوتے ہیں۔
شاعر درد کی تصویر بن کر یہ پیغام دیتا ہے کہ جب ہم اس فانی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے، تب ہمارے بعد صرف ادھورے خواب، ٹوٹے ہوئے ارمان اور حسرت بھری یادیں رہ جائیں گی۔
آج جنہیں ہماری موجودگی کی قدر نہیں، کل جب ان کے دامن میں فرصتوں کے لمحے ہوں گے، تو وہ ہمیں تلاش کرتے پھریں گے۔ مگر تب ہم ایک داستان بن چکے ہوں گے، جسے صرف دل کی تنہائیوں میں پڑھا جا سکے گا، آواز دی
جا سکے گی مگر جواب نہ آئے گا  ۔