*سیدہ طیبہ طاہرہ خاتون جنت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالٰی عنہا کا یوم وصال*
جب ہم خاتونِ جنت، سیدۂ طیبہ، سیدۂ زاہدہ، سیدۂ عابدہ، سیدۂ کاملہ، امِّ اَبیہا، بتولِ عذراء، طاہرہ و مطہرہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے یومِ وصال کو یاد کرتے ہیں تو دل سراپا عقیدت بن جاتا ہے، نگاہیں احترام سے جھک جاتی ہیں اور روح محبت کے نور سے منور ہو جاتی ہے،آپ وہ مقدس و معظم ہستی ہیں جن کی پرورش خود تاجدارِ کائنات ﷺ کی آغوشِ رحمت میں ہوئی، جو محبوبِ خدا ﷺ کی نورِ نظر، جگر گوشہ، لختِ جگر اور قرارِ قلب تھیں۔ آپ وہ باوقار بیٹی ہیں جنہیں *اُمِّ اَبیہا* کا لقب ملا، یعنی اپنے والدِ گرامی کی غمگسار اور دلجوئی کرنے والی، آپ کی تربیت وحی کے سائے میں ہوئی، نبوت کے نور میں پروان چڑھیں، رسالت کی خوشبو میں مہکیں، اور طہارت و عصمت کے ماحول میں جوان ہوئیں، آپ سیدۂ نساءِ اہلِ جنت ہیں، زہد و قناعت کی ملکہ، عبادت و ریاضت کی پیکر، حیا و عصمت کی علامت، صبر و استقامت کی مثال، ایثار و وفا کی تصویر، اور تقویٰ و طہارت کا روشن چراغ ہیں، آپ کی زندگی ہر دور کی بیٹیوں کے لیے حیا کا پیغام، ہر ماں کے لیے تربیت کا معیار، ہر بیوی کے لیے وفاداری کی مثال، اور پوری امت کے لیے مینارۂ نور ہے، آپ کا نام آتا ہے تو دلوں میں ادب جاگ اٹھتا ہے، زبانیں درود و سلام سے معطر ہو جاتی ہیں، اور ایمان تازہ ہو جاتا ہے، واقعی آپ صرف ایک عظیم بیٹی نہیں بلکہ دین کی عزت، اسلام کی آبرو، اور امت کی روحانی ماں ہیں، جن کی سیرت قیامت تک ہدایت کا چراغ بنی رہے گی۔ 
*تقویٰ اور خشیتِ الٰہی* آپ کا تقویٰ اس قدر بلند تھا کہ راتوں کو عبادت میں کھڑی رہتیں، آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور زبان پر دعا ہوتی، آپ اپنے لیے کم اور امت کے لیے زیادہ دعا کرتیں، جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ پہلے دوسروں کے لیے دعا کیوں کرتی ہیں تو فرمایا: پہلے پڑوسی، پھر اپنا گھر، یہ تھا آپ کا دل، جو ایثار اور خیر خواہی سے لبریز تھا *عبادت اور بندگی* آپ کی عبادت میں اخلاص تھا، سجدوں میں گریہ تھا، اور دعا میں عاجزی تھی، گھر کے کام، بچوں کی تربیت اور شوہر کی خدمت کے ساتھ ساتھ آپ کا دل ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتا، آپ کے ہاتھ چکی پیستے پیستے زخمی ہو جاتے مگر زبان پر شکوہ نہ آتا، یہ صبر، یہ رضا، یہ بندگی آج بھی ایمان والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
*زہد و قناعت* آپ کے گھر میں کئی کئی دن چولہا نہ جلتا، مگر آپ نے کبھی دنیا کی رغبت ظاہر نہ کی، آپ نے اس دنیا کو مسافر خانہ سمجھا اور آخرت کو اصل منزل جانا،سادگی آپ کی شان تھی، حیا آپ کا زیور، اور قناعت آپ کا سرمایہ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو دنیا نے نہیں، بلکہ جنت نے اپنا تاج پہنایا *استقامت اور صبر* آپ نے مکہ کے مصائب دیکھے، شعبِ ابی طالب کی سختیاں برداشت کیں، والدِ گرامی ﷺ پر ہونے والے مظالم کا درد سہا، اور پھر ان کے وصال کا صدمہ بھی، مگر ہر حال میں صبر اور استقامت کا دامن تھامے رکھا، آپ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ آزمائشیں ایمان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی ہیں۔
*رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ* فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں، ایک اور مقام پر فرمایا: *فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي* فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں، جس نے انہیں ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا، یہ الفاظ حقیقت میں اُس بلند و بالا مقام کی ترجمانی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو عطا فرمایا، آپ کی عظمت صرف نسب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آپ کے کردار، عبادت، تقویٰ اور اخلاقِ کریمانہ کی بنیاد پر ہے، یقیناً آپ رسولِ اکرم ﷺ کی لختِ جگر اور نورِ نظر ہیں، مگر آپ کی شان اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے، آپ دین کی عزت ہیں، کیونکہ آپ کی زندگی نے اسلام کے عملی حسن کو دنیا کے سامنے پیش کیا، جس گھر میں آپ نے آنکھ کھولی وہی گھر وحی کا مرکز تھا، مگر آپ نے اس نسبت کو کبھی غرور نہیں بنایا بلکہ عاجزی اور خدمت کو شعار بنایا، آپ نے دکھایا کہ دین صرف باتوں کا نام نہیں بلکہ عمل، صبر اور قربانی کا نام ہے۔
آپ عصمت کی علامت ہیں، کیونکہ آپ کی حیا، پاکیزگی اور پردہ داری رہتی دنیا تک خواتینِ اسلام کے لیے نمونہ عمل ہے، آپ کی گفتگو میں سنجیدگی، نگاہوں میں شرم و حیا، اور کردار میں پاکیزگی کی جھلک تھی، آپ نے عورت کو یہ مقام دیا کہ وہ گھر کی ملکہ بھی ہو سکتی ہے اور تقویٰ کی پیکر بھی، آپ طہارت کی مثال ہیں، کیونکہ آپ کا ظاہر بھی پاک تھا اور باطن بھی نور سے منور، آپ کے دل میں دنیا کی محبت نہ تھی بلکہ اللہ کی رضا کی طلب تھی، آپ کے سجدے خلوص سے بھرے ہوئے تھے، آپ کی دعائیں آنسوؤں سے تر تھیں، اور آپ کی زندگی اللہ کی اطاعت کا عملی نمونہ تھی، یوں کہیے کہ آپ کی ذات میں بیٹی کا ادب، بیوی کی وفاداری، ماں کی شفقت، عابدہ کی خشیت، اور زاہدہ کی قناعت سب جمع تھیں، اسی لیے آپ کا ذکر آتا ہے تو دلوں میں عقیدت جھک جاتی ہے اور زبانیں درود و سلام سے معطر ہو جاتی ہیں۔ 
*یومِ وصال کا پیغام* آپ کا وصال رسولِ کریم ﷺ کے وصال کے چند ماہ بعد ہوا، آپ کی جدائی امت کے لیے ایک غم تھا، مگر آپ کی سیرت آج بھی زندہ ہے، آپ کا یومِ وصال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی چمک دمک میں نہیں بلکہ تقویٰ، عبادت، صبر اور اللہ کی رضا میں ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی محبت نصیب فرمائے، ان کے تقویٰ، عبادت، زہد اور استقامت کا کچھ حصہ ہماری زندگیوں میں بھی پیدا فرما دے، اور قیامت کے دن ان کے قرب خاص میں جگہ عطا فرمائے،آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*