رمضان کریم
رمضان کے بابرکت مہینے کی ابتدا ہو گئی ہے
رمضان کی اس نورانی ساعت میں دل کی کیفیت
کچھ یوں ہے کہ گویا روح اپنے اصل وطن کی طرف
لوٹ آئی ہو سکون کا ایک دریا اندر ہی اندر بہہ رہا
ہو، اور انسان دنیا کی ہنگامہ آرائی سے بالاتر ہو کر
صرف اپنے خالق کے قرب میں ٹھہر گیا ہو۔
میں پُرسکون ہوں اللہ تعالیٰ سے محبت تو فطرت
میں ودیعت ہے، مگر کبھی کبھی یہ محبت ایسی
شدت اختیار کر لیتی ہے کہ دل کی دنیا بدل جاتی
ہے روح کے اندر ایک عجب سی سرشاری اُتر آتی
ہے، گویا سکون کی کوئی لطیف روشنی باطن میں
! پھیل گئی ہو
اس کیفیت کو لفظوں میں ڈھالنا آسان نہیں؛ زبان
خاموش رہتی ہے مگر دل مسلسل اپنے رب سے
ہمکلام ہوتا ہے محسوس ہوتا ہے جیسے قربِ الٰہی
کی لطافت نے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا ہو،
اور انسان اپنی کم مائیگی سمیت اُسی کی رحمت
کے سائے میں ٹھہر گیا ہو۔
یہ ایمان کی حلاوت (مٹھاس) کی نشانی ہے۔ یہ وہ
لمحے ہوتے ہیں جب بندہ اپنے رب کو بہت قریب
محسوس کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں:
"وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ
(اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں
پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں) — Qur'an
رمضان کا پہلا عشرہ رحمتِ الٰہی کے نزول كا
پیغام لے کر آتا ہے
یہ عشرہ بندۂ مؤمن کے لیے مغفرت اور قربِ الٰہی
حاصل کرنے کا سنہرا موقع ہے۔
پہلے عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے
اپنے بندوں پر کھول دیتا ہے
یہ ایام دلوں کی تطہیر اور ایمان کی تجدید کا
بہترین وقت ہیں
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس عشرۂ رحمت کی
قدر پہچان لیتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اس مبارک عشرے میں عبادت، دعا اور استغفار کا خصوصی اہتمام کریں
اے اللہ! ہمیں اس عشرۂ رحمت میں اپنی خاص رحمتوں سے نواز دے۔
آمين 🤍
از قلم :شیخ فاطمہ ابوالکلام