وظیفہ نہیں، اطاعت تقدیر بدلتی ہے
آج کل بازار میں سب سے زیادہ بکنے والی چیز “وظیفہ” ہے۔
پانچ منٹ میں رزق کھل جائے گا۔
تین دن میں من پسند شادی ۔
سات دن میں محبت کامیاب۔
اکیس دن میں قسمت بدل جائے گی۔
لوگ تیار ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ وظیفہ آسان ہے، خود احتسابی مشکل ہے۔
سچ سن لو۔
مسئلہ وظیفہ نہ ہونے کا نہیں، مسئلہ بنیاد خراب ہونے کا ہے۔
جو قوم فرض نماز میں سستی کرے، زکوٰۃ سے بچنے کے راستے تلاش کرے، حقوق العباد کو مذاق سمجھے، حرام کمائی کو “چالاکی” سمجھے —
وہ اگر ہزار تسبیح بھی پڑھ لے تو کچھ نہیں بدلے گا۔
اللہ کو الفاظ نہیں چاہیے، اللہ کو اطاعت چاہیے۔
قرآن کا اصول صاف ہے:
اللہ ظلم کرنے والی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔
یعنی تبدیلی اندر سے شروع ہوگی —
کردار سے، نیت سے، عمل سے۔
تم رزق کی تنگی کا رونا روتے ہو،
لیکن کاروبار میں جھوٹ چل رہا ہے۔
تم محبت کی ناکامی کا شکوہ کرتے ہو،
لیکن دل گناہ سے بھرا ہوا ہے۔
تم سکون چاہتے ہو،
مگر آنکھ حرام دیکھنے سے باز نہیں آتی۔
یہ تضاد ہے۔
شراب پینے والا منہ،
زنا کی خواہش میں بے قرار دل،
حرام مناظر کی عادی آنکھ —
اور پھر امید کہ ایک وظیفہ تقدیر بدل دے گا؟
یہ دین نہیں، یہ خود فریبی ہے۔
وظیفہ جادو نہیں ہوتا۔
وظیفہ تقویت ہے — اُس دل کے لیے جو پہلے سے جھکا ہوا ہو۔
وظیفہ روشنی ہے — اُس گھر میں جہاں چراغ جلانے کی نیت ہو۔
اگر فرض قائم نہیں،
اگر کمائی صاف نہیں،
اگر دل توبہ پر آمادہ نہیں
تو وظیفہ الفاظ کی تکرار رہ جائے گا، اثر نہیں بنے گا۔
لیکن جب تم دین کی طرف پلٹو گے —
نماز درست کرو گے،
حرام چھوڑو گے،
لوگوں کے حقوق ادا کرو گے،
صدقہ کرو گے —
پھر معمولی سا ذکر بھی انقلاب بن جائے گا۔
پھر ایک “استغفراللہ” بھی راستے کھول دے گا۔
پھر ایک سجدہ بھی تقدیر بدل دے گا۔
اللہ سے کھیل نہیں ہوتا۔
یا مکمل آؤ، یا دعوے چھوڑ دو۔
وظیفہ زندگی نہیں بدلتا۔
اطاعت بدلتی ہے۔
تین دن کی شادی کا سن کے آۓ ہو تو وظیفہ نہیں۔۔۔۔۔۔
اطاعت ۔۔۔۔۔۔
عائشہ ❤