رمضان المبارک رحمت وبرکت کا مہینہ
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
روزہ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے، دنیا کے اکثر مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں اس کاثبوت ملتا ہے ،اس کو اطباء حضرات جسمانی فوائد کے طور پر بھی مریضوں کو رکھنے کی تلقین کرتے ہیں، روزہ جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ روحانی فوائد پر بھی مشتمل ہے ،
روزہ کےبے شمار فوائد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو فرض فرمادیا ہے !
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے!
"یاأیھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون "
اللہ تعالیٰ روزے کے فرض کی ادائیگی کےلیے پورے ایک مہینے کو خاص کیا ہے، جس میں ہر عاقل بالغ مسلمان پر روزہ فرض ہے،رمضان المبارک کی فضیلت آیات و آثار کی روشنی میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں ،
چنانچہ حدیث میں ہے
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا دخل رمضان اذا فتحت ابواب السماء وفی روایۃ ابواب الجنۃ وغلقت ابواب جھنم وسلسلت الشیاطین وفی روایۃ فتحت ابواب الرحمۃ
متفق علیہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جھنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتاہے اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
متفق علیہ
رمضان خدا کی طرف سے ملنے والا خاص انعام ہے جس کے استقبال کا نظم وضبط منجانب اللہ ہوتا ہے -
رمضان المبارک نیکیوں کا سیزن ہے ،بارہ گاہ ایزدی کی طرف سے خصوصی عنایت اور لطف و کرم کا حسین گلدستہ ہے، اس میں بندوں کے لیے آفر ہے ،ہر عمل کا ثواب ستر گناہ بڑھادیا جاتا ہے، ایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر اور ایک نفل کا ثواب ایک فرض کے برابر ہو جاتا ہے-
رمضان المبارک کے بندوں کے اعتبار سے تین حصے ہیں ،عشرۂ اولی رحمت ،عشرۂ ثانیہ مغفرت ، عشرۂ ثالثہ آگ سے خلاصی-
اس کو تین حصوں میں تقسیم کرنے اور الگ نام سے موسوم کرنے کی بظاہرایک حکمت یہ سمجھ آتی ہے کہ عام طور پر مؤمن تین قسم کے ہوتے ہیں،ایک مطیع فرماں بردار، دوسرا مطیع و عاصی ، تیسرا بکثرت گناہ کرنے والا
عشرۂ اولی پہلے قسم کے لیے ہے، دوسرا عشرہ درمیانی صفت کے لیے، ہے تیسرا بہت زیادہ گنہگار کے لیے ہے ،جو پہلی صفت والا ہے ان کے لیے تو پورا مہینہ ہی رحمت ہے ،دوسرا جو پہلے عشرے کی رحمت سے لطف اندوز ہو کر دوسرے عشرے میں اپنی گناہوں کی مغفرت کرلےاور تیسرا جو رحمت و مغفرت کے راہ سے گزر کر کم از کم جہنم سے خلاصی حاصل کر لے-
گویا آپ کہہ سکتے ہیں رمضان کثیر الطاعت سے مبتدا ہوکر درمیانی شخص کو لیتے ہوۓ قلیل الطاعت پر منتہی ہوتا ہے تاکہ رمضان المبارک کی برکتوں سے ادنی درجے کا مؤمن بھی محروم نہ رہے
رمضان مشتق ہے رمض سے جس کے معنی لغت میں جلانا خاکستر کرنا ہے، اس ماہ مبارک کو رمضان نام سے موسوم کرنےکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رمضان بندے کی بھوک، پیاس ،نماز، تراویح، عبادت و ریاضت ،سنن و نوافل اوراعتکاف و صدقات کی محنت ومشقت کے آگ سے بندوں کے گناہوں کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے -
اس ماہ مبارک میں اللہ رب العزت کی جانب سے خصوصی برکتیں نازل ہوتی ہیں ،چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ عام دنوں میں جو نعمتیں ہمیں میسر نہیں ہوتی ، اس سے ہم محروم ہوتے ہیں مگر؛ رمضان کے آتے ہی ہم ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں ، رمضان میں اللہ تعالیٰ مالوں میں خاص برکتیں عطا کرتا ہے ، اس ماہ مبارک میں لوگوں میں ایثار کا جذبہ ہوتا ہے ،لوگ ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی خیر خواہی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، چنانچہ غریبوں کمزوروں ،یتامی و مساکین کے ساتھ خاص طور پر تعاون کا معاملہ کیا جاتا ہے-
رمضان المبارک کو قرآن کے ساتھ خاص نسبت ہے، اس کو قران کریم نے بھی واضح کیا ہے جو سورہ بقرہ کی آیت شہر رمضان الذی انزل فیہ القران اور سورہ دخان و سورہ قدر کی ابتدائی آیتوں سے سمجھا جا سکتا ہے ، شب قدر میں قرآن کریم کا لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نزول ہوا،
لیلۃ مبارکہ سے جمہور مفسرین نےشب قدر مراد لی ہے،جس کی تائید سورہ قدر سے ہوجاتی ہے ،
اس ماہ مبارک میں ذکر و اذکار کے بجائے تلاوت قران اور اس کی تفسیروں کے پڑھنے کا خاص اہتمام ہونا چاہیے، تاکہ ہمارے سامنے قرآن کریم کے اسرار وحکم کھل کر آۓ اور ہم جان سکیں کہ ہمارا رب ہم سے کیا چاہتاہے-
اس مہینے میں ہمیں چاہیے کہ ہم گناہوں سے کلی طور پر اجتناب کریں بطور خاص؛ جھوٹ، چغل خوری ،سب وشتم اور دیگر گناہ جس کی وجہ سے روزے کی حیثیت صرف بھوکے پیاسے رہنے کی رہ جاتی ہے-
ہمیں چاہیے کہ ہم اس رمضان کو آخری رمضان سمجھ کر تیار رہیں کیا پتہ حیات مستعار ہمیں آئندہ رمضان تک لے جاۓ یا نہ لے جائے-
اللہ تعالی ہم سب کو اس مہینے کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین