(38)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وقت کی پکار اور قیادت کا امتحان — مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی کی نئی راہ
_____________
انتخابات کی گہما گہمی میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو دکھائی دیتا ہے، وہ حقیقت نہیں ہوتا،
اور جو حقیقت ہوتی ہے، وہ اکثر نگاہوں سے اوجھل رہ جاتی ہے۔
آوازوں کے شور میں، کچھ خاموش صدائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف دلِ باشعور ہی سن پاتا ہے۔
لہٰذا یہ قومی تہوار کا موسم ہے — نعروں، وعدوں اور جوش کی فضا میں ایک نئی حرارت ہے۔
مگر اس بار یہ الیکشن صرف اقتدار کی جنگ نہیں،
بلکہ سوچ، اصول اور شعور کی آزمائش بن چکا ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب عوام کے جذبات، سیاست کے مفادات سے ٹکرا رہے ہیں،
اور انہی میں سے ایک صدا تھی —
مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب۔
اکثروں نے کہا کہ اب مولانا کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترنا چاہیے۔
چلو، یہ بھی ہوگیا — بہت بہت مبارک!
اب انجام تمہارے حوالے، اے میرے ساتھیو!
مگر —
وقت کی پکار کچھ اور ہی تھی،
اور بھائی دانش کی دانشمندی کسی اور ہی گوشے میں خاموش مسکرا رہی تھی۔
چالاکی کچھ اور تھی،
فرقہ پرست نفرتوں کے بیچ ہوشیاری کچھ اور ہی پیغام اور سبق یاد دلا رہی تھی۔
قوم و ملت کا مفاد کسی اور ہی راز میں مضمر تھا،
اور احتیاط و سنجیدگی کہیں اور بیٹھا اپنا کھیل دکھا رہا تھا۔
گویا سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ پردوں میں چھپا ہوا تھا۔
ظاہر میں مسکراہٹیں تھیں، مگر باطن میں تدبیریں؛
نعروں کے شور میں کچھ نگاہیں خاموش منصوبوں پر جمی ہوئی تھیں۔
وقت جیسے خود یہ کہہ رہا تھا —
> “اب دیکھنا، کون حالات کو سمجھتا ہے، اور کون صرف تالیاں بجا کر گزر جاتا ہے۔”
خیر، جو کچھ ہونا تھا، ہو گیا۔
اب دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ:
اللہ تعالیٰ ہم سب کی عزّت قائم رکھے،
اور مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کے ذریعے زمین پر کرشمائی جیت نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
یہ فیصلہ دراصل قیادت کے کردار پر اعتماد کی تجدید ہے۔
مولانا کا آزاد حیثیت سے میدان میں اترنا،
سیاسی مصلحتوں سے انکار اور ایمان دار قیادت پر یقین کا اعلان ہے۔
یہ پیغام ہے کہ قوم اب بیدار ہے —
نہ جذبات کے بہاؤ میں بہنے والی،
نہ مفاد کے اشارے پر جھکنے والی۔
یہ بصیرت کا وقت ہے — فیصلہ تمہارے ہاتھ میں
اے میرے باشعور ساتھیو!
یہ وقت تالیوں کا نہیں، تدبر کا ہے۔
اب فیصلہ تمہارے ووٹ سے ہوگا —
اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو وہ فہم و فراست عطا فرما جو وقت کے اشارے کو پہچان سکے۔
اگر نیتیں صاف، ارادے مضبوط، اور صفیں متحد رہیں،
تو یقین جانو، یہ الیکشن نہیں، ایک نئی بیداری کی بنیاد ہے۔
آخر میں ایک بار پھر وہی عاجزانہ دعا —
یا رب العالمین!
ہماری نیتوں کو خلوص دے،
ہمارے صفوں کو اتحاد دے،
اور مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کو عزّت، نصرت اور کامیابی عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
بعد از تحریر
یہ مضمون ابھی لکھا ہی تھا کہ خبر ملی —
مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کا نامنیشن رد کردیا گیا۔
یعنی اب وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے بھی انتخاب نہیں لڑ سکیں گے۔
دل کو گہرا دکھ ہوا، مگر پھر وہی احساس لوٹ آیا.
کہ شاید یہی مصلحتِ خداوندی تھی،
جسے ابھی ہم سمجھ نہیں سکے۔
میں نے مضمون میں لکھا تھا:
> “بھائی دانش کی دانشمندی کسی اور ہی گوشے میں خاموش مسکرا رہی تھی”
اور آج وہی بات سچ محسوس ہو رہی ہے۔
بسا اوقات وقت سے پہلے کوئی فیصلہ، تقدیر کی تقدیم سے نہیں جیت سکتا۔
شاید رب چاہتا ہے کہ مولانا کا کردار، کرسی کی نہیں بلکہ ضمیر کی سیاست کی علامت بن جائے۔
یہ شکست نہیں، ایک نئی راہ کی بشارت ہے —
جہاں قیادت تخت سے نہیں، سچائی کے عزم سے پہچانی جائے گی۔
خدا کرے کہ یہ عارضی رکاوٹ،
قوم کے شعور کی مستقل بیداری کا آغاز بن جائے۔
کیونکہ مولانا کی نیت خالص ہے،
اور نیتیں جب رب کی رضا سے جڑ جائیں تو
ناکامی بھی کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔
اللہ مولانا کو سلامت رکھے، ان کے عزم کو استقامت دے،
اور قوم کو وہ بینائی عطا فرمائے جو “خاموش مسکراہٹ” کے پیچھے چھپے فیصلے کو سمجھ سکے۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com