•••کیا مسلمانوں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا چاہیے؟•••
بیتے ستم کا میں کسے واسطہ دوں
ستم زدہ بھی ہوں تیری عدالت سے
✍🏻 جب بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش عمل میں لائی جاتی ہے ،اس کے شعائر پر حملہ کیا جاتاہےاور مسلمانوں کا قتل عام ہوتاہےتو مسلمانوں کے رہنماؤں کی طرف سے یہ بیان جاری ہوتاہے کہ ہم اس کے خلاف عدالت سے قانونی لڑائی لڑائیں گے اور ہمیں عدالت سے انصاف کی امید ہے -
آئیے جائزہ لیتے ہیں کی اب تک ہمیں کتنے معاملوں میں عدالتوں سے انصاف ملی ہے،
اور کتنے معاملہ میں ہم انصاف لینے میں کامیاب ہوئے ہیں-
(1) مسلمانوں کا سب سے پہلا معاملہ نان ونفقہ کا ہے جو 1985ءمیں سپریم کورٹ پہونچا ، جس میں شاہ بانو نے یہ عرضی داخل کی کہ مجھے میرے شوہر محمد احمد خان نے طلاق دے دی ہے اب مجھے ساری زندگی کے لیے اپنے شوہر سے نفقہ چاہیے سپریم کورٹ نے شاہ بانو کے حق میں فیصلہ سنادیا جو کہ شریعت کے خلاف تھا مسلم پرسنل لا بورڈ نےاس کے خلاف سڑکوں پر پرزور ملک گیراحتجاج کیا اس وقت مسلمانوں کی اپنی اہمیت تھی پارلیمنٹ کے ذریعے اس فیصلے کو تبدیل کردیا گیا مگر بہرحال فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہی آیا -
(2)دوسرا مسئلہ بابری مسجد کا ہے جس میں مسلم قائدین نے کہا کہ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی امید ہے یہ کیس بھی پہلے اجودھیا میں چلا مگر انصاف نہیں ملا اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا انہوں نے بھی برابر فیصلہ نہیں کیا بلکہ انہوں مسجد کی جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کردیا دوجگہ ہندو فریق کے حصے میں آئی اور ایک جگہ جو کہ وہ مسجد کی کیمپس کی جگہ تھی مسلمانوں کے حصے میں آئی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا کئی سال کی سماعت کے بعد 2019ءمیں عدالت نے مسلمانوں کے تمام ثبوت کوحق ماننے کے باوجود عقائد کی بنیاد پر ہندوؤں کے حق میں فیصلہ سنادیا جو کہ غلط تھا اور اس طرح انصاف کا خون ہوا-
(3)اسی طرح تیسرا مسئلہ تین طلاق کاہے
جس میں سائرہ بانو اور عشرت جہاں جیسی پانچ خواتین نے سپریم کورٹ میں یہ عرضی داخل کی مجھے میرے شوہر نے طلاق دے دیاہے،مجھے انصاف چاہیے ،
عدالت نے مسلم پرسنل لاء بورڈ سے ان کی راۓ طلب کی ،مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق کی مکمل تفصیل ارسال کردی مگرکئی مہینوں کے سماعت کے بعد فیصلہ شریعت کے خلاف ہی آیا ،جس میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا گیا ،بعد ازاں پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک قانون بنایا گیا جس میں کہاگیا تین طلاق جرم ہےاگر کسی نےتین طلاق دی تو کوئی طلاق نہیں ہوگی اور طلاق دینے والےکو سلاخوں میں ڈال دیا جائے گا اور یہاں بھی انصاف کا گلا گھوٹا گیا -
(4)چوتھا معاملہ ہے کشمیر سے دفعہ 370 کے ہٹانے کا جس میں سیاسی جماعتوں اوررہنماؤں نے اس پر آواز اٹھائی اور مسلمان سڑکوں پر اتر آۓ اور یہ معاملہ سپریم کورٹ پہونچا ،سپریم نے فیصلہ سنادیا کہ دفعہ 370ایک عارضی دفعہ تھی اس کو ہٹادیا گیا اس میں کوئی حرج نہیں، لہذاکسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ،یہاں بھی مسلمان دست تأسف رگڑتے رہے پر انصاف نہیں ملا-
(5)پانچواں معاملہ مسلم بچیوں کےحجاب کا عدالت پہونچا
یہ معاملہ کرناٹکا کا ہے جس میں مسلم بچیوں کے حجاب کے ساتھ کالج میں داخلے پر سرکار نےپابندی عائد کردی یہ معاملہ بھی کرناٹکا ہائی کورٹ پہونچا ہائی کورٹ نے کہا کہ جو سرکار کاموقف ہے وہی عدالت کاموقف ہے اس فیصلےکو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ میں کئی مہینوں کے سماعت کے بعد دوججوں نے الگ الگ فیصلہ سنایا ـ
ایک نے کہا کہ جو کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ وہی صحیح ہے دوسرے جج نے کہا کہ جمہوری ملک میں سب کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق ہے لہذا حجاب پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے مگر دونوں فیصلہ خلط ملط ہوگیا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا بہرحال مذکورہ تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے عدالتوں میں انصاف کا خون ہمشیہ ہواہے اور کڑوڑوں روپے اس میں برباد ہوۓ اور نتیجہ نہیں نکلا-
اب تازہ معاملہ یکساں سول کوڈ اور وقف کا معاملہ ہے جو کہ اب قانونی شکل اختیار کرچکا ہے اس میں بھی مسلم قائدین نے کہا کہ ہم عدالت کے کو دروازہ دستک دیں گے اور اب دستک دے چکے ہیں ،
مگر سوال یہ ہے اس ملک میں مسلمانوں کو اپنے اوپر ہوۓ ظلم کے خلاف عدالت کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں جہاں وہ اپنے اوپر ہوۓ ظلم کو روک سکے اور ظالم کو دندان شکن جواب دے سکے؟
کیا صرف عدالت ہی پہلی اور آخری جگہ جہاں سے انصاف کی بےجا توقع ہے؟
اتنی بڑی اقلیتوں کے باوجود انہیں ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ بے بس ہوکر تماشائی بن رہا ہے ،
آخر ایسا کیوں ؟کیا ہم کمزور وبے بس ہیں؟ہمیں کیوں ستایا جاتاہے ؟ جمہوری ملک میں آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے باوجود ہم پر یہ ستم کیوں ؟
بات سوچنے کی ہے-