💐نکاح میں تاخیر فکری ساخت پر گہرا اثر🍂

گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻

✍🏻کسی بھی قوم کے زوال کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مذہبی اصول و نہج کوپس پشت ڈال دے،اور رشتہ ناطہ توڑ ڈالے پھر تو اس کے وجود کی بقاء کی بھی خطرے میں آجاتی ہے 
 اور یہی کمی امت مسلمہ میں پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے نتیجہ ہمارے سامنے ظاہر ہے -
ہماری قوم میں جس قدر احکام خداوندی اور سنت نبوی سے انحراف پائی جارہی ہے وہی اس کی ذلت ورسوائی اور فنتوں کا سبب ہے- 
آج کل دختر ملت وفرزند قوم کی نکاح میں تاخیر کئی فتنوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے ،اس کی وجہ سے بے حیائی و فحاشی اور عریانیت کا ننگا ناچ ہورہاہے -
معاشرہ و سماج پر اس کا گہرا اثر پڑ رہاہے ،انسانی ساخت متاثر ہو رہی ہے ،شوشل میڈیا اسے مزید موقع اور پلیٹ فارم فراہم کررہاہے -
پاکیزہ سوچ بھی آلائشوں اور گندگیوں گا مرکز بنتی دکھائی دے رہی ہے ،زناکاری وفحش کاری اور عشق و محبت کا دام فریب طول پکڑ رہا ہے ،ارتداد جیسی دائمی لعنتوں کا طوق ہمارے گھر کی بچے وبچیاں اپنے گلے میں شوق سے ڈال رہے ہیں،
وہ نظریں جو ہمیشہ جھکی رہنی چاہئے جس میں حیا کاسرمہ ہونا چاہیے، پاکیزگی کا زیور ہوناچاہیے وہ گندگیوں کا محور بنتی جارہی ہے ،سراپا جنسی تسکین کی بے جا کوشش انہیں قعر مذلت میں ڈال رہی ہے -
احکام خداوندی کا مذاق بن رہاہے ، جسم کی نمائش اور آزاد خیالی ایک پر خطر راہ کی دعوت رہی ہے جس کا انجام و معاد خوفناکی اور ہولناکی سے لبریز بے پناہ تپش وحرارت کا مرکز ہے ،
اس کی وجہ سے نوجوان طبقہ قلب وذہن کی توانائی کھورہے ہیں ،فکری بالیدگی و انقلابی جذبہ مسلسل سطحیت کی راہ پر گامزن ہے ، نوخیز لڑکے ولڑکیاں شوشل میڈیا کی زینت بن کر اپنی زندگی تباہ کررہے ہیں ،عزت کو نیلام اپنے والدین کی تربیت کو بدنام کرکے انگشت نمائی کا ذریعہ بن رہے ہیں ،یہی وجہ ہےانہیں عبادت وریاضت اور تلاوتِ قرآن بار گراں اور بوجھ معلوم ہوتاہے ، وہ عبادت سے دور بھاگتے ہیں ،اور احکام خداوندی کو نظر انداز کررہےہیں -
اس میں جتنا قصور لڑکوں اورلڑکیوں کا ہے اس سے زیادہ قصور اس کے سرپرست ونگراں کا ہے جو بلوغت کے بعد بھی ان کے لیے مزید وقت کی تلاش میں ہے -
یہ فتنہ آج کل کچھ زیادہ ہی عروج پر ہے جب کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ بچے اور بچیوں کے نکاح میں عجلت سے کام لے -
 ارتداد کے جو واقعات اب تک پیش آۓ ہیں اور ان کا مشاہدہ ہوا ہےان میں بیشتر بلکہ نوے فیصد سے بھی زیادہ وہ ہیں جن کی عمر 18/ 20سال سے زائد ہے،کیوں کہ جب لڑکا اور لڑکیاں سن بلوغ کو پہونچ جاتی ہیں تو جنسی جذبات ابھرنے لگتی ہے وہ اس کی تسکین چاہتاہے ایسے میں اگر ان کی دستگیری نہ کی گئی جائز وعزت کا راستہ نہ اپنایا گیا تو پھر اس کے برعکس راستہ تلاش کرلیا جاتاہے پھر جو نتیجہ سامنے آتاہے وہ کسی بیان کامحتاج نہیں -
امت مسلمہ غیر قوموں کی روایتیں اپنے اسلامی اعمال میں داخل کرکے نکاح جیسے آسان عبادت کو بھی مشکل اور چیلینج بنارہی ہے -
تقریب نکاح میں بے جارسم ورواج اور فضول خرچی ہماری بہنوں کو اس عظیم الشان عبادت و سعادت سے محروم کر رکھا ہے ،ان کی راتوں کی نیند متأثر ہورہی ہے ،تنہائیوں کا کرب والم ،فرقت کا احساس انہیں ناجائزقدم اٹھانے پہ مجبور کررہی ہے -
آج اگر دختر و پسر ملت گمراہی کے دہانے پر ہے تواس کا سبب صرف ان کی اپنی پیش قدمی شامل نہیں بلکہ پوری قوم اس کے گناہ میں برابر کے شریک ہے کیوں کہ انہوں نےفضول ورسمی تقریبات ومطالبات کے ذریعے اس جائز وآسانی اور شریعت مطہرہ کے اصولوں کا سد باب کرنے میں خوب خوب اپناکردار نبھایا ہے 
آج اگر پوری امت مسلمہ متفقہ طور پر یہ فیصلہ لے لیں کہ ہم شریعت مطہرہ کے مطابق نکاح ودیگر امور خانہ اور تمام شعبہ ہائے زندگی کو انجام دیں گے تواس سے ہم اپنے گھر کی عزت کو بھی محفوظ رکھیں گے ، ہم میں عفت و پاکدامنی ،نظر کی پاکیزگی ،فکری بالیدگی ،انقلابی جذبہ اور قلب و نظر کی رقت ہمیں نصیب ہوگی جوکہ ہمارے اندر عنقا ہے جب کہ اللہ رب العزت کو یہی مطلوب ہے 
اس لیے امت مسلمہ کے مقتدر لوگوں کو چاہیے کہ نبوی نکاح کی عملی تحریک چلائیں اور اس کی ابتدا صاحب ثروت اوراثر ورسوخ والے لوگوں سے کریں تبھی جاکر فتنوں کا سدباب ہوگا ورنہ بالعموم امت مسلمہ اور بالخصوص دختر ملت ارتداد کی راہ پر مزید تیزی سے گامزن ہوگی 
اللہ تعالیٰ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرمائے آمین