•••کیاہم اہل فلسطین کو بھول گیے؟
گل رضاراہی ارریاوی
✍🏻آج بھی اہل فلسطین امت مسلمہ سے یہ سوال کررہے ہیں کیا تم خون آلود جسم ،سرخ لباس، حیران و پریشان لوگ، زمیں بوس مکانات جلتےاور اجڑتے ہوۓ گھر، پژمرہ چہرے، پتھر بندھے پیٹ ،بھوک سے تلملانے والے معصوم بچے ،بچیاں ، بم بارود کی شیطانی آوازیں ، ہماری چیخ وپکار ،رنج الم سے نکلنے والے آنسوؤں کوبھول گیے-
سنو!فلسطین مسلمانوں کا ایک اہم مدعی ہے ،جس کی حرمت نصوص قطعی سے ثابت ہے ،یہ سرزمین انبیاء کرام ،بے شمار خدا کے فرستادے کی بود وباش ہے اور یہیں سے دین حق کی شعاعیں روشن کی -
یہ اتنی مقدس سرزمین ہے جوکعبۃ اللہ کے بعد سب سے محترم مقام ہے، مسجد اقصی اسی سرزمین میں آباد ہے جوکہ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، یہ اتنی محترم جگہ ہے جس کے بارے میں آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس میں کوئی چراغ جلانے کے تیل بھی بھیج سکتا ہو اسے بھیجنا چاہیے ،اس سے محبت کرنا اور اس کے تئیں ہمدردی و خیرخواہی جذبہ رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ،اس کی حفاظت کرنا امت مسلمہ کا اہم فریضہ ہے ،یہی و جہ ہے کہ جب یہود ونصاری نے اس پر قبضہ جمایا تو اس کی آزادی کےلیے امت مسلمہ کا ایک جانباز لشکر برسر پیکار رہا، اس کی آزادی میں حضرت عمر فاروق اور صلاح الدین ایوبی نے نمایاں کردار ادا کیا ،اس کی آزادی کےلیےجد وجہد کی اور انہیں آزاد کرایا ،پہلی مرتبہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ آزاد کرایا پھر جب دوبارہ یہودیوں نے اس پر اپنا تسلط قائم کیا تو صلاح الدین ایوبی نے بزور شمشیر اسے پھر سے آزادی دلائی، جس سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ سرزمین مسلمانوں کی ہے اور اس کی پاسبانی بھی مسلمانون کی ذمہ داری ہے
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی میراث ہے اس میں کی کسی کی مداخلت جائز نہیں -
یہود ونصاری کا یہ دعویٰ کرنا یہ ہماری جگہ ہے اور ہمارے آباؤ اجداد کی سرزمین ہےیہ سراسر غلط ہے کیونکہ خدا کا گھر اسی کی حفاظت میں آتا ہے جو مؤمن ہو اور یہود ونصاری آیات وآثار کی رو سے مسلمان نہیں کیونکہ ان نبی آخر الزماں پر ایمان نہیں ہے لہذا اس کا دعویٰ باطل وبے بنیاد ہے،
لیکن چونکہ عقائد باطلہ کے پس پردہ ان کے مفاد پنہاں وپوشیدہ ہیں جس کی بنیاد پر یہ خبیث اپنے قبضے میں لیکر اپنا ھدف اور مقصد کی تکمیل کی بے فائدہ کوشش کررہے ہیں-
یہودی ونصاری اسلام اور مسلمانوں کے پکے دشمن ہیں ،انہوں نے دور محمدی سے لیکر دشمنی نبھانے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی مرتبہ حملہ آور ہوئے مگر کامیاب نہ ہوسکے ،اب تک اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے بےجا کوشش کررہے ہیں ، اس کے لیے کتنے منصوبہ بناچکے ہیں
تقریباً 75سال سے یہود ونصاری مل کر درندگی کی حد پار کررہے ہیں اور فلسطین کےمسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ظلم وستم کی الم انگیز باب قائم کررہےہیں ،بےرحم ہوکر انسانیت کو پس پشت ڈال کر غزہ کے معصوم بچے ،عفت مآب مائیں ،بہنیں ،بزرگ نوجوان بھائی سب پر اپنی جارحیت جاری رکھ کر اپنی خباثت اور ظالم ہونے کا ثبوت فراہم کررہا ہے -
یہ معصوم جانیں بھوک ،پیاس کی شدت، بم بارود اور گولیوں کی آوازیں،سن کر اور اس کی زد میں آکرجام شہادت نوش کررہے ہیں ،ڈیرھ سالہ عرصے میں پچاس ہزار سے زائد معصوم جانیں رب کے حضور پہونچ کر اپنی شکایتیں کررہی ہیں-
کئی لاکھ اہل فلسطین بے سروسامانی کے عالم میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں ،کئی مہینوں سے ان کے چہرے پژمردہ ہیں خوشیاں لانے والا کوئی نہیں ،آج مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آرہا ہم سب بزدل ہیں ، خون آلود جسم ،سرخ رنگین کپڑے پہننے پر وہ مجبور ہیں ،یقینا اہل فلسطین فی زماننااصحاب بدر واصحاب کربلا کی دوسری تصویر ہے جو کہ عزم واستقلال اور جرأت مندی کے شاہکار نمونہ ہے ،انہوں نے ہمیں بتلایاکہ اصحاب بدر کی جرأت کیاتھی ،انہوں نے بتایا کہ کیا اصحاب کربلا کا عزم واستقلال کیا تھا، آج یہ بے سروسامانی عالم میں نصرت الٰہی پر اعتماد کرتے ہوۓ خود کو اس عالمی جنگ پرقائم رکھا-
آج پوری دنیا میں ڈیرھ عرب مسلمان ہیں اور ستاون 57اسلامی ملک ہیں مگر کوئی بھی مدد تو در کنار ان کے لیے ان کی حمایت و حفاظت کے لیےایک لفظ کہنے کو تیار نہیں ،سب کے سب یہود ونصاری کے غلام اور اس کے تملق باز بنے بیٹھے ہیں، کوئی اس کی حمایت میں آگے آنے کے لیے تیار نہیں ،یقنیا یہ بزدلی سب کا یہی حشر کرے گی جوکہ آج اہل غزہ اور اہل فلسطین کا ہورہاہے -
آج امت مسلمہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شانہ بشانہ باہمی تعاون کریں اور متحد ہوکر ایک مضبوط آواز بن کر باطل طاقتوں کو نیست ونابود اور پسپا کرنے پوری صرف کریں ،ورنہ رفتہ رفتہ سب کا نمبر آۓ گا
بقول شاعر ••••
میں اگر زد پہ ہوں تو اتنا خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ہوتی
اللہ ہم سب کو باہمی تعلق قائم رکھ کر ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین