تبصرہ بر کتاب 📖
نام کتاب :انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا
اثر
صفحات:374
مصنف :مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رح
✍🏻تبصرہ نگار:گل رضاراہی ارریاوی
دنیا تغیر وحوادث اورادلنے بدلنے کانام ہے ،اس کی ہرشیئ میں تغیرات واقع ہوتی رہتی ہے ، انتقال حالت ایک بدیہی چیز ہے،
دنیا کی کوئی بھی چیز قائم نہیں رہتی ہے کیوں کہ دوام وثبوت اس کا کوئی حصہ نہیں -
یہ بات تاریخی روایات ،دلائل عقلیہ و نقلیہ اور مشاہدات سے ثابت ہے
دنیا میں اب تک بے شمار تغیرات واقع ہوچکا ہے اور بہت سی تغیرات باقی ہے-
تغیرات کا ثبوت عقل سے :
عقل سے بھی یہ بات مسلم ہے کہ تغیرات ہونی چاہیے کیونکہ اگر تغیر نہ ہو بلکہ جمود و دوام ہوتو اشیاء کا فساد ہونا لازم آۓ گا مثلا انسان ایام طفولیت ،شباب ،کہولت اور بڑھاپا ،صحت وتندرستی،تنگی و تونگری میں سےکسی ایک حالت میں ہو اوراسی حالت میں ہمیشہ رہے تو خود زندگی کا تجربہ دوسرے تک منتقل نہیں ہوگا اور اس میں خود بوریت محسوس کرےگا ،زندگی اجیرن بن جاۓ گی وہ خود چاہے گا میری حالت و کیفیت بدلے -
نہ بدلنے کی صورت میں اگر تونگری، شباب ،جسمانی قوت، ارکان دولت امارت کسی ظالم کے ہاتھ لگ جاۓ تو دنیا میں ظلم ہی ہوگا دیگرلوگ پریشان ہوجائیں گے اور یہ فساد مچاتارہے گا اور اگر یہ سب چیزیں کسی نیک اور صالح انسان کے ہاتھ آجاۓ جونرم ہو،مزاج میں لطافت ہو ،قوم مشفق و مہربان تو عام لوگ خود بےلگام ہو جائیں گے ،عیشں وعشرت میں پڑ کر خدا کو بھول جائیں گے،شریر لوگ بغاوت پہ اتر جائیں گے،یہ بھی فساد نظام کا سبب ہوگا-
اسلیے اللہ تعالیٰ حالات کو بدلتے رہتے ہیں تاکہ اس کی بےمثال قدرت کا ظہور ہوتا رہے اور انسان برے حالات میں انابت الی اللہ اور خوشگوار حالات میں شکر الہی کو بجا لاۓ اپنے اوپر خدا کے انعامات دیکھ کر اس کی معبودیت کو تسلیم کرے
تغیرات کا ثبوت آیات سے:
وہ رات کو دن میں داخل کرتاہےاور دن کو رات میں داخل کرتاہےاور وہ دل کی باتوں تک کو جانتاہے
(بیان القرآن ج 3سورۂ حدید آیت 6)
آیت کریمہ میں دن کا نکلنا پھر اس کا چلاجانا رات کا آنا اس کا بھی چلانا ،شمس وقمر طلوع وغروب یہ سب اس بات کا ثبوت ردو بدل یہاں کا حصہ ہے
کل من علیھا فان
جتنے چیزیں زمین پر موجود ہیں سب فناہوں گے
(بیان القرآن ج 3سورۂ رحمان آیت 26)
اور اگر تم روگردانی کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا
(بیان القرآن 3 سورۂ محمد آیت 28)
یہ سب آیات فنا پر دلالت کرتے ہیں اور فنا تغیرات کا نتیجہ ہوتی ہے-
تاریخ بھی اس بات پر شاہد ہے قوموں پر اچھے برے حالات آتے رہے ہیں ،کبھی خوشحالی اور کبھی زبوں حالی -
قرآن کریم نے قوم عاد وثمود، عمالقہ اور بنی اسرائیل وغیرہ کے قصےکو بہت ہی اچھے طریقے سے بیان کیاہے ،اس کی قوت وطاقت، جواہرات وکمالات فنی تعمیر،کوہ تراشی کی خوبیوں کو بیان کیا ہے، پران کااحسانات کےصحیح استعمال نہ کرنےپر اس کے انجام بدکو بھی بیان کیا ہے کہ کیسے یکدم سےپلک جھپکتے ہی اچھے حالات بدل گیے ،وہ زمیں بوس ہوگیے
سارے کمالات دھرے کے دھرے رہ گیے اس کے کچھ کام نہ آۓ-
آج بھی اس کے نشانات دنیا کے اندر موجود ہے جو بعد میں آنے والوں کےلئے نشان عبرت ہے، یہ تاریخی حقائق ہے جو تاریخ کی چھوٹی بڑی کتابوں میں درج ہےبطور خاص اسلامی تاریخ میں -
تغیرات کا ثبوت مشاہدات سے:
ہم دیکھتے رہتے ہیں کہ ایک بچہ پیدا ہوتاہے،بے شعور ہوتاہے وہ بولنے پر بھی قادر نہیں ہوتا لیکن رفتہ رفتہ حالت بدلتی ہے بولنے پر قادر ہوجاتاہے ،چلنے پر قادر نہیں تھا ،ایک دو سال میں چلنے لگتاہے، پھر کچھ سالوں میں نفع وضرر کا شعور آجاتاہے، پھر شباب پر پہونچتا ہے طاقت جوش وجذبہ سے لبریز ہوتا ہے انقلاب دنیا کی صلاحیت رکھتا ہے، پھر عمر ڈھلتی ہے،قوی کمزور ہونے لگتاہے بیماریاں گھیر لیتی اور بےجان، بےحس وحرکت ہوجاتاہے ،پھر ایک وقت آتاہے کہ یہ مکیں اپنا مکان دوسرے مکینوں کےلیے چھوڑ کر چلا جاتاہے ،"مکیں چلاگیا اورمکاں رہ گیا" کےمصداق بن جاتا ہے ،
یہ سب ہمارے مشاہدات کا حصہ ہے
لہذاان دلائل وشواہد سے ثابت ہوگیا کہ تغیرات دنیا کا حصہ ہے -
عروج و زوال کی حیثیت بھی وہی ہے جو دیگر چیزوں کی ہے ،کبھی کسی کو قوم کو عروج ملتاہے پھر وہی قوم زوال پذیر ہونے لگتی ہے -
یہ بھی عزت وذلت کے زمرے میں آتاہے اور دونوں میں خداکی آزمائش ومصلحت ہوتی ہے،تاکہ وہ خود کو قادر مطلق نہ سمجھے ،اور قوم کے عروج وزوال سے دیگر اقوام عالم پر بھی اثر پڑتا ہے اور اسکے تئیں ایک حساسات وجذبات ہمیشہ کےلئے قائم و دائم رہتاہے،وہ تاریخ کا ایک حصہ بن جاتاہے-
اس سلسلے میں مسلمانوں کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے ،ان کی دور عروج کی ایک لمبی داستان ہے ،
عدل وانصاف ،عالم گیر سلطنت ،مساوات وہمدردی ،مالی استحکام ،کتاب وسنت کی نشر واشاعت ،خدائی قانون ،رعایا پروی ،خشیت الہی ،قوموں کی غمگساری اور عفت وپاکیزگی یہ سب اسلامی حکومت کی لازوال داستان ہے-
یہ دراصل رسول ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نمونہ ہے کیونکہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آغوش تربیت سے یہ تمام صفات وکمالات پیدا کیے تھے ،
اس جیسی روشن حکمرانی کی داستان تاریخ میں نہیں ملتی ہے-
لیکن؛ جوں جوں خیرالقرون کا زمانہ دور ہوتا گیا اور صحابہ کرام کی مقدس جماعت دنیا کو الوداع کہہ کر چلے گیےاور خلفائے راشدین کا دور ختم ہوا تو رفتہ رفتہ لوگ اصول شرع سے ہٹنے لگے، پیغام نبوت سے برگشتہ ہونے لگے، ارباب سیاست و دین آپس میں تفریق کرنے لگے، ارباب دین وسیاست الگ ہوگیے ،اموی اور عباسی دور میں بدقسمتی سے سلطنت کے منصب جلیل پرایسے لوگ حاوی ہونے لگے جنہوں نے اس کےلیے کوئی حقیقی تیاری نہیں کی تھی، خلفاۓ راشدین اور خود اپنے زمانہ کےبہت سے مسلمانوں کی طرح انہوں نے اعلی دینی اور اخلاقی تربیت نہیں پائی تھی،اور اخلاقی معیار اتنا بلند نہ تھا جو ملت اسلامیہ کے رہنماؤں کے شایان شان ہے،ان کے ذہن ، طبیعتتیں اور
ماحول کے زمانۂ جاہلیت کے اثرات سے بالکلیہ آزاد نہیں تھے ،ان میں نہ روح جہاد تھا اور نہ ہی قوت اجتہاد جو دنیا کی پیشوائی اور عالمگیر قیادت کےلیے ضروری ہے ،خلفاء راشد اور عمر بن عبد العزیز کے علاوہ عام خلفاۓ بنی امیہ اوربنی عباس کایہی حال تھا، احکام شرعیہ سے ناواقف تھے چونکہ اس وقت تک اسلامی حکومت تھی تو اس لیے بہت سے امور میں علماء دین کی ضرورت تھی ،اس لیے علماء کو بھی کچھ عہدۂ قضاۃ وغیرہ کی ذمہ داری تفویض کردیتے تھے، اور امور میں سلطنت میں ماہر خصوصی، مشیر خاص بنار رکھے تھے بوقت ضرورت ان سے مشورہ لیتے تھےجو مشورہ انہیں اپنے حق میں مفید معلوم ہوتا قبول کرلیتے ورنہ اس سے اعراض کرلیتےخواہ شریعت کے رو سے رعایا کے لیے کتنے ہی مفید کیوں نہ ہو اس کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ،دھیرے دھیرے حکام وزارء کی جماعت علم دین سے خالی ہونے لگی تو اور انہوں نے سیاست کو دین سے الگ کرلیا -
بعض علماء تو حکمرانوں سے جڑے رہ کر سیاست کو دینی اعتبار سے ممکنہ حد تک اصلاح کرتے رہے اور بعض علماء سیاست سے علیحدہ ہوکر عوام ورعایا کی اصلاح میں لگ گیے-
ارباب سیاست خود کو آزاد سمجھنے لگے ،پھر کیا تھا عیش وعشرت، تنعم پرستی ،بزدلی کی راہ اپنا لی اور جنگ وجدال ،شجاعت وبسالت ،شوق شہادت ان کے دل سے نکل گئی حتی کہ وہ اپنی حکومت بھی قائم وبرقرار رکھنےکے پوزیشن میں نہ رہے ،پھر دیگر اقوام ان پر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑے اور اسلامی حکومت جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس صحابہ نے قائم کیا تھا سقوط کے دہانے پر پہونچ گیا-
ادھرصیہونی و صلیبی طاقتیں بھی مسجد اقصی پر نظریں جمائی بیٹھی تھی، انہیں موقع مل گیا پرانے زخم کے بدلہ لینے کا وہ ان کےلیے حملہ آور ہوۓاور انہوں نے حیرت انگیز فتح حاصل کرلی اور اہل فلسطین پر ظلم وستم کی جارحانہ کاروائی شروع کردی-
تاریخ بتاتی ہے کہ ان کےگھٹنے خون میں ڈوبے ہوۓتھے ،بچے بوڑھے ،مرد وعورت میں کوئی تفریق نہیں تھی ،سب کو نشانۂ ستم بنارہے تھے ،
ایک وقت آیا مغربی قوتیں ،یورپ کی سازشیں پوری طور پر غالب آئیں وہ روحانیت سے نکل کر صرف مادیت کی راہ کو اختیار کیا،ہر چیز کو مادی صورت میں پیش کرنے لگے ،مذہب کی دیوار کو منہدم کردیا اور مذہبی قانون سے آزاد ہوگیے ،مذہب سے ان کا صرف براۓ نام تعلق تھا،حتی کہ انکار خدا سے بھی گریز نہ کیا اور مذہبی خدا کو بھی مادی صورت میں اپنانے لگے، مورتیاں تراش کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور بتایاکہ یہی تمہارا خدا ہے-
چونکہ اسلامی سلطنت کی بنیاد مادیت و روحانیت پرتھی اور ان کی بنیاد صرف مادیت تھی دونوں میں آپسی اختلاف شروع ہوا -
اسلامی سلطنت زوال پذیر ہونا تھا اس لیے اسلام کے خلاف معرکہ آرائیاں شروع ہوئی جس کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ختم ہوئی
اب جہاں بھی اسلامی حکومت بل یہ کہیے جہاں بھی مسلمانوں کی حکومت تھی وہ اپنے حکومت کو بچانے کے لیےخود ان یہودیوں اور عیسائیوں کے قدموں میں ڈال دیا ان کی پیروی کرنے لگے ، ان کو اپنا آقا سمجھنے لگے اور ظلم وستم کی چیخ وپکار پر بھی ان کی کانوں پر جوں تک نہ رینگیں -
لیکن ؛وقتا فوقتاً اس ظلم کے خلاف اولو العزم شخصیت پیدا ہوتی رہی اور ظلم کے خلاف صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیت رونما ہوتے رہے جنہوں نے باطل کو للکارا فتح ونصرت بھی ملی ،لیکن پھر تاریخ نے پلٹی ماری اوروہ پورے طور پر غالب آ گیے ،
مسلمان اخلاقی ،روحانی کے اعتبارسے بیمار ہوچکے تھے اور شجاعت کی دولت فروتر ہوچکی تھی جس کے نتیجے میں اس کی غیرت ایمانی جواب دے گئی-
پھر انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاق زہر اگلنا شروع کیا ،جس سے پوری دنیا میں مسلمانوں شبیہ خراب کردی ،امن پسند کو شدت بنادیا-
آج نتیجہ یہ ہےکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف منظم سازشیں اور اسلام کے مضبوط قلعے کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں ہورہی ہے-
مغربی طاقتیں اسلامی تہذیب وثقافت کو دنیا کے نقشے سے مٹا نے کی پوری تیاری میں لگے ہوۓ ہیں-
یہ نتیجہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ کئی صدیوں کی عرق و جانفشانی کا ہےجو آج ہم دیکھ رہے ہیں-
یہ سبب تھا اسلامی سلطنتوں کا عروج وزوال کا اور یہ داستان تھی مسلمانوں کے عروج وزوال کا،
اس کا اثر دو زاویہ میں آپ دیکھ سکتے ہیں -
جب مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو بلا تفریق دنیاکے تمام مظلوم کو بھی اسلام کی نصرت کی توقع تھی اور آج کے زوال میں تمام مظلوم خود کو یتیم سمجھ رہے ہیں کیوں کہ مسلمان مغلوب ہیں اسکی سزا پوری دنیا کے مظلوم انسان جھیل رہے ہیں
اس کی توقع اسلام کی روشن اور عدل وانصاف بین دلیل ہے کہ اسلام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ رہتی ہے -
حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمت اللہ علیہ کی کتاب "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر "اسی عنوان پر ہے،
اس میں اسلام سے پہلے لوگوں کے کیا حالات تھے وہ کن اخلاقی خرابیوں اور بیماریوں میں مبتلا تھے اور مذہبی تفریق کیسی تھی حسب و نسب کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ کیا مسائل تھے پھر اسلام کے آمد کے بعد میں کیسے حالات کا رخ بدلا ،
ہندو مذہب میں آپسی تفریق کی وجہ سے برہمن و دلت کے درمیان چھوت اور اچھوت کا تعلق ،برہمن کا دلت کو رسوا کرنا ،ان کے نقصانات کو بیان کیا پھر ،دیگر قوموں کا تذکرہ کیا، یہودیوں اور عیسائیوں کی پول کھولی ، یورپ کی بدتہذیبی اور اس کے مخفی سازشوں کو بیان کیا ، اسلامی اقدار و روایات ، استحکام عدل و انصاف، اور رعایا پروری کو ذکر کیا ،
پاسلامی سلطنتیں کیسے عروج پر آئی اور وہ کیا کمی تھی جس کی وجہ سے اسلامی سلطنت زوال پذیر ہوئی ان سب کو اس کتاب کے اندر بہترین طریقے سے بیان کیا -
یہ کتاب جب چھپ کر آئی تو ہاتھوں ہاتھ قبول کرلی گئی الگ الگ 5 زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا ہر زبان میں کئی ایڈیشن شائع ہوئی
عربی ،اردو، فارسی، ترکی اور اس طرح کئی زبانوں میں الگ الگ نام سے منظر عام پر آئی
اردو میں یہ بارہواں ایڈیشن ہے صاحب کتاب کی شخصیت عرب وعجم میں محتاج تعارف نہیں ،ان کی شخصیت اہل علم وقلم میں مقبول ومسلم ہے-
بہت عمدہ کتاب ہے ،اس کتاب کے مطالعہ کے بعد آپ کو یہ لگے گا کہ اسلامی سلطنت کے زوال پذیر ہونے میں خود مسلم حکمرانوں کے عیش و تنعم پرستی کا بڑا کردار رہا ہے-
حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کی لکھی گئی کتاب پوری دنیا میں پڑھی جاتی ہے اور ان کی زبان و بیان کی قوت سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں-
راقم مصنف رح کی کتابوں کے بہت سج متفرق تحریریں پڑھتا رہا لیکن ان کی تصانیف میں سے پہلی مرتبہ اس کتاب کا باالاستیعاب مطالعہ کیا -
الحمدللہ مجھے یہ سعادت ملی کہ میں نے یہ کتاب پڑھی ،یہ کتاب 374 صفحات پر مشتمل ہے جو اپنے عنوان کے لحاظ سے جامعیت سے پر ہے -
راقم کا خیال ہےکہ اگر مسلمان عموما،مسلم سیاسی رہنما خصوصااس کتاب کو پڑھیں تو انشاءاللہ اس سے مزید سیاسی شعور میں مددملے گی اور وہ آگے جا کر کے اس سلسلے میں کچھ کام کر سکیں گے-
اللہ تعالی ہم سب کو اخلاقی خرابیوں سے نجات عطا فرمائے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو ایسے طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس صحابہ کی جماعت نے اپنایا تھا پھرانشاءاللہ وہ دور آئے گا جس میں کوئی بھی اس کرۂ ارض پر مظلوم نہ ہوگا اور عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا-