پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 🕯️

گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻


امت مسلمہ کے لیے ہردن ایک نیا چیلینج بنتا جارہاہے،ایسا لگتاہے کہ مسلمان ہونا ایک جرم ہے،خدا کی زمیں پر نماز پڑھنا گناہ ہے،اس کی عبادت کرنا غداری کی سند ہے،ظلم وستم ایسی کہ زمیں بھی خون کی آنسو رو رہی ہے،جانوروں کے آنکھوں میں بھی نمی آگئی ہے،گویا یہ کہہ رہےہوں کہ شکر ہے رب کائنات کا کہ اس نے مجھے انسان نہیں بنایا،یہ رورتے بلکتے لوگ جن کے آنسو بھی خشک ہوچکے ہیں، یہ سوال کررہے ہیں کہ لوگ اتنے خون خوار کیسے بن گیے ؟درندگی ان میں کہاں سے آگئی؟یہ بے رحم کیسے ہوگیے
یہ کیسی زمیں ہے جہاں ہر آۓ دن امت مسلمہ کے لیے نت مسائل کھڑے کیے جاتے ہیں،اور مسلمانوں کو ہردن اس کا سامنا ہوتاہے،عالمی سطح پر،ایسے مسلمانوں کو پریشان کیا جاتا ہے جو خدائی قانون کے مطابق اپنے زندگی گزارتے ہیں ،پوری دنیا میں اہل اسلام کو صلیبی و صیہونی اور ھنود کی طرف سے ذہنی وفکری اورجسمانی یورشوں کے ستم سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،اور یہ اس لیے ہورہاہے تاکہ اسلام ختم ہوجاۓ اور خدائی قانون سے مسلمانوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ ،ایمان تو رہے حرارت ایمانی ختم ہوجاۓ ،مسلمان تو رہے جذبۂ مسلمانی ختم ہوجاۓ،انسان تو رہے ملکۂ انسانیت ختم ہوجاۓ ،
لیکن یہ ظالم طاقتیں خدائی فرمان سن لے-
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدائی نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں گے،اللہ اپنی نور کو کامل واتم کرکے رہے گا اگر چہ کافروں کوناگوار گزرے
(پارہ ٢٨ سورۃ الصف)
نور خداہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن 
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جاۓ گا

آج باطل طاقتیں سر اٹھا رہی ہے،سرکش شیاطین خود کو زمین پر اپنی خدائی کی دہائی دینے کی احمقانہ کوشش کررہے ہیں-
 فرعون وشداد کی روش اپنارہے ہیں یاد رکھو ان کا حشر آج بھی عبرتناک ہے،ان کے مریدین اور پیروکار بھی اسی انجام کےلیے مستعد ہیں-
 شام وفلسطین ، برما اور ہندوستان کے مسلمانوں کی تقریبا سوسالہ ظلم وستم کی الم انگیز داستان خون سے شرابور ہے-
کونسا ستم باقی ہے جو ان خبیثوں نے انجام نہ دیاہو،تاریخ بھی اس بات پر متأسف ہےکہ مجھے کن کن لوگوں کا حصہ بننا پڑرہاہے
معبدوں کو ہم سے قزاقوں اور رہزنوں کی طرح سلب کرکے اصنام پرستی کا ایک ڈھونگ رچا جارہاہے-
پوری دنیا کے مقتدر لوگ اس میں سرجوڑ کر ایک دوسری جگہ حمایت سرگرم عمل ہے ،
کچھ جاہل اور کمبخت لوگ جو مکار وکذاب ہے ،جس پہ انسانیت بھی شرمسار ہے، انسان کے لبادہ میں خون خوار درندہ ہےجو بھولے بھالے ،سیدھے سادھے لوگوں کو بے وقوف بناکر اپنی جال میں پھنسارہے ہیں-
ناداں لوگ ان کی چکنی چپڑی دروغ آمیز باتوں میں خدا کی زمیں کو نفرتوں کی آگ میں جھلسا رہے ہیں ،
انسانی خون نہیں بلکہ مسلمانی خون سےیہ زمین رنگین ہورہی ہے، تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا جو آج ہورہاہے-
تاریخ میں انسانی درندگی کا یہ پہلا مظاہرہ ہے،جہاں انسانیت خود انسان پہ شرمسار ہے،زمین محبت کی سیرابی ،گلوں کی مہک،کلیوں کی چٹخ اور شہد کی شیرینی ومٹھاس مانگتی ہے،مگر یہ کمبخت ،مفاد پرست انسان اپنی اقتدار کو عزیز رکھنے اور بچانے کے لیے زمیں کو نفرت کی زہرآلود شراب دے رہے ہیں، شہد کی مٹھاس کی جگہ الوہ دے رہے -
آج یہ لوگ اتنے تنگ نظر اور سخت دل ہوگیے کہ معصوم جانوں کی آہیں ،انکے چیخ وپکار ان کے سیینے نہیں جھنجھوڑتے ،انکے دل نہیں پھٹتے ،یہ کیا لوگ ہے ،یہ انسانیت سے الگ کیوں ہے؟ ساری کوششیں کرلے ،بھلے ہی مسلمانوں کو اور ان کی نسلوں کو قربانی دینی پڑے مگر یہ ظالم طاقتیں سن لے ،دین حق غالب تھا غالب ہے اور غالب رہے گا،کیوں کہ اس کی حفاظت خود رب کائنات کررہاہے-

نور خدا ہے کفر کی حر کت پہ خندہ زن 
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 

اللہ امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے آمین