Translation unavailable. Showing original.
معرکۂ کارانسیبیس:
17 فروری، 2026
یہ واقعہ 1788ء کا ہے، جسے تاریخ میں معرکۂ کارانسیبیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ معرکہ سلطنتِ عثمانیہ اور آسٹریائی سلطنت کے درمیان جاری طویل عثمانی .
آسٹریائی جنگوں کے دوران پیش آیا، جو بالخصوص ویانا (Vienna) کے گرد و نواح میں عثمانیوں کی پیش قدمی سے متعلق تھیں۔
شہر کارانسیبیس اس جنگ میں غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا، اور اسے اس دور میں آسٹریا کے دروازے کی حیثیت حاصل تھی۔
اگر یہ شہر مکمل طور پر عثمانیوں کے ہاتھ آ جاتا تو آسٹریا کے لیے دفاعی صورتِ حال نہایت کمزور ہو سکتی تھی۔
آسٹریائی فوج کے چند کشاف (جاسوس) علاقے کی نگرانی کے لیے آگے بڑھے۔
وہاں انہیں خانہ بدوشوں (غجروں) کا ایک گروہ ملا جو شراب فروخت کر رہا تھا۔ ان سپاہیوں نے شراب خریدی اور پیتے پیتے نشے میں دھت ہو گئے۔
کچھ ہی دیر بعد آسٹریائی فوج کا ایک اور دستہ وہاں آن پہنچا اور ان کے ساتھ شامل ہونا چاہا، مگر نشے میں چور کشافوں نے انہیں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔
بات بڑھتی گئی، تلخ کلامی ہوئی، اور اسی دوران ایک گولی ہوا میں چل گئی۔
بس پھر کسی نے گھبرا کر چیخ ماری:
“عثمانی حملہ ہو گیا ہے!”
اس ایک جملے نے پورے منظرنامے کو بدل دیا۔ خوف و ہراس پھیل گیا، نشے میں دھت سپاہی بدحواسی میں بھاگتے ہوئے آگے موجود آسٹریائی فوجی دستوں کی طرف لپکے۔
ان دستوں نے سمجھا کہ واقعی عثمانی فوج حملہ آور ہو چکی ہے، چنانچہ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے مرکزی کیمپ کی جانب دوڑ پڑے۔
جب یہ دستے کیمپ کے قریب پہنچے تو وہاں موجود فوج نے انہیں عثمانی سپاہی سمجھ کر فائرنگ شروع کر دی۔
جواب میں پیچھے ہٹنے والے دستوں نے بھی گولیاں چلائیں۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورا لشکر آپس میں الجھ پڑا۔
یہاں تک کہ آسٹریا کا شہنشاہ بھی اپنے ہی سپاہیوں کی گولیوں سے تقریباً مارا گیا۔
اگلی صبح جب عثمانی فوج موقع پر پہنچی تو انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
میدان ہزاروں آسٹریائی لاشوں اور زخمیوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ بھی بغیر کسی باقاعدہ جنگ کے۔ یوں عثمانی افواج نے نہایت آسانی سے شہر میں داخل ہو کر کامیابی حاصل کر لی، بغیر کسی جانی نقصان کے۔