استشراق کا تعارف
لغوی معنیٰ: استشراق لفظ ”شرق“ سے نکلا ہے یہ بابِ استفعال کا ہم وزن ہے، جو کے معنٰی مشرق کی طرف متوجہ ہونا یا مشرقی علوم و فنون کا مطالعہ کرنا ہے۔
اصطلاحی معنٰی: استشراق اس علمی اور عملی تحقیقی سر گرمی کو کہتے ہیں ، جع میں مغربی اہل علم مشرقی علوم وفنون میں مہارت حاصل کرتے ہیں بالخصوص اسلامی تہذیب وثقافت، زبان و ادب کامطالعہ کرتے ہیں اور اس پر تحقیقات کرتے ہیں
انہیں علماء مغرب کو اصطلاح میں مستشرقین بھی کہا جا تا ہے
جن کو معاشرہ انسانی میں علمی تبحّر، تحقیقی انہماک اور مشرقیات سے گہری واقفیت کی بنا پر مغرب و مشرق کے علمی اور سیاسی حلقوں میں بڑی عظمت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، انہیں علماء مغرب(مستشرقین) کی تحقیق و نظریات کو مشرقی اور اسلامی مسائل میں حرف آخر سمجھا جاتا ہے اور ان کے کہے کو قولِ فیصل کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔۔۔
استشراق کی تاریخ اور مراحل
استشراق کی تاریخ بہت پرانی ہے ، یہ منظم طریقے سے تیرھویں صدی مسیحی میں شروع کیا گیا کہ انہوں نے یہ طے کیا مشرقی علوم و فنون کی کتب کو یورپ کی دیگر جامعات میں پڑھا یا جاے
پندرھویں صدی اور سولہویں صدی میں استشراق تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا اہل مغرب میں اسلامی اور مشرقی علوم پڑھنے کا بہت شوق ہوا اور مستشرقین کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا یہاں تک سترہویں صدی مسیحی میں فرانس کے بادشاہ نے عربی تاریخ کو محفوظ کر کے لکھانا شروع کیا، عربی زبان کی کتابوں کو اہل مغرب کی زبانوں میں ترجمہ کراۓ جانے کا عمل شروع ہوا، کہ دنیا کے سامنے اسلامی تاریخ کا مسخ شدہ چہرہ پیش کیا جاے
سن ۱۸۰۱ سے ایک نیا دور شروع ہوا اس سے یورپ کے لشکروں نے مسلم۔ ممالک پر قبضہ کیا، مسلمانوں کو محکوم بنایا ، اہل یورپ نے مسلمانوں کے سامنے ایک نیا طرز تعلیم پیش کیا اس تعلیمی نظام کو دنیا کے سامنے بہترین بنا کر پیش کیا کہ اہل مشرق اور مسلمانوں کے طرز تعلیم کو دکھایا جاۓ، چوں کہ مسلمان ان نے محکوم تو ان کے طرز تعلیم کو قبول کیا ادھر علماء مغرب ( مستشرقین )
نے اپنے طریقۂ تعلیم میں مسلمانوں کو ان کے اسلامی عقائد سے دور کرنے کی کوشش شروع کی، وہ قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی میں تحریف نہیں کرسکتے تھے اس لیے انہوں نے ان علوم کے ترجمہ تیار کیے اور امت کے سامنےغلط انداز میں پیش کیا، اسلامی تاریخ کو منحرف کرکے اس میں ظلم و بربریت اور کمتری کو نمایاں کیا ، یہ سلسلہ سن ۱۹٢٤5تک چلتا رہا کہ اسلامی کتب کے ترجموں کو بدلا جاتا رہا کہ اسلامی تاریخ کو مسخ کیا جا سکے
سن١٩٢٥ سے ۱۹۷۲تک ایک نیا دور شروع ہوا جن میں ان منحرف کردہ اسلامی تاریخ و اسلامی کتب کے غلط ترجمہ جات وغیرہ کو جمع کرکے دیگر علاقوں میں دین کی شکل دے کر پیش کیا اور اسلام کو پرانا اور دقیانوس مذہب قرار دیا (العیاذباللہ) اور یہ بات پیش کی اس تیار کردہ دین (جسے نئے اسلام کا نام دیا تھا ) کو پڑھو گے تو دنیا میں ترقی کرو گے ورنہ تنزلی اور مظلومیت کا شکار رہو گے
سن١٩٧٤ سے ۲۰۰۱ تک ایک نئے مشن کی شروعات ہوئی کہ انہوں نے ایک کامیاب طرز تعلیم کے نام پر ایسا تعلیمی نظام کو رواج دیا کہ مسلمانوں کا مکمل ایمان و عقائد کے ساتھ باقی رہنا کافی مشکل ہو گیا، ساتھ ہی ستم یہ ہوا کہ علماء مغرب اور مستشرقین کے ذریعے پیش کردہ نظام تعلیم سے امت مسلمہ اور اہل مشرق متاثر ہونے لگے اوریہ نظام تعلیم مشرقی قوموں میں تیزی سے پھیلنے لگا، نتیجۃً مشرقی معاشرہ اپنی اسلامی تاریخ اور دینی علوم سے بے بہرہ ہو کر ان کے نظام تعلیم کا شکار ہوگیا
سن ٢٠٠١سے تا حال اسلاموفوبیا پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور یورپ کے ذریعے تحریف شدہ ترجمہ جات اور مستشرقین کے ذریعے تحریر کردہ دینی کتب کی تبلیغ اب بھی جاری ہے، مگر افسوس! ان کو مقبولیت حاصل نہیں ہو رہی ہے
الغرض جب صدیوں کی محنت رنگ لاتی نظر نہ آئی تو مذھب اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں، قدیم اور دقیانوسیت القاب دیئے جانے لگے تاکہ امت ان کے تحریف شدہ دینی کتب کے ترجموں کو پڑھے اور مانوس ہوں مگر کچھ ہاتھ نہ لگا
ہاں کچھ کمزور عقیدہ یا حب مال و حب جاہ کے عادی لوگ شکار بن گئے
( جاری )