🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*قسط نمبر 01*
*شہزادوں کا امتحان*
برسوں پرانی بات ہے کہ ایک بہت بڑے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت عقل مند، رحم دل اور بہادر تھا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا خاص خیال رکھتا تھا اور مشکل وقت میں سب کے ساتھ بڑی رحم دلی اور فیاضی سے پیش آتا تھا۔ اسی وجہ سے رعایا بھی بادشاہ کی بہت عزت اور اُس سے محبت کرتی تھی۔
بادشاہ کے تین بیٹے تھے۔ تینوں بہت خوب صورت تھے۔ اُس نے اُن کی تربیت کے لیے اپنے ملک کے مشہور اساتذہ مقرر کیے۔ جب شہزادے ذرا بڑے ہوئے تو لوگوں نے دیکھا کہ ان تینوں میں اپنے باپ والی ساری خوبیاں تو نہیں تھیں، مگر سب میں بادشاہ والی ایک ایک خوبی ضرور پائی جاتی تھی۔ رعایا میں بھی وہ اپنے اصل نام کے بجائے اسی خوبی کے نام سے مشہور تھے۔
سب سے بڑے شہزادے میں عقل مندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ لوگوں میں عقل مند شہزادے کے نام سے مشہور تھا۔ بادشاہ بھی عقل مند شہزادے کے مشوروں کو سن کر حیران رہ جاتا۔ جب وہ جوان ہوا تو اُس کی عقل مندی کے چرچے دُور دُور تک پھیل گئے۔
منجھلا شہزادہ رعایا میں رحم دل شہزادے کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اُس کی رحم دلی کی صفت یہ تھی کہ وہ مظلوموں، غریبوں اور مشکلات میں پھنسے لوگوں کی مدد کر کے بہت خوش ہوتا تھا۔
سب سے چھوٹا شہزادہ اپنے باپ سے بھی زیادہ بہادر اور طاقت ور تھا۔ جنگی داؤ پیچ سیکھنے کے بعد جلد ہی وہ اپنی فوج کے سپہ سالار کے ساتھ مل کر سپاہیوں کو تربیت دینے میں حصہ لینے لگا۔ بہادر شہزادہ ہر وقت جنگ کے نئے نئے حربوں کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ اس کی جنگی مہارت کے سامنے بڑے بڑے پہلوان اور دلیر سپہ سالار جھکنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ مشہور تھا کہ وہ اکیلا سو جنگجو سپاہیوں کا مقابلہ بڑی آسانی سے کر سکتا تھا۔
پھر یوں ہوا کہ بادشاہ آہستہ آہستہ بوڑھا ہونے لگا۔ اب اُسے یہ فکر لاحق رہنے لگی کہ اپنا ولی عہد کس شہزادے کو بنائے۔ وہ تینوں شہزادوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا، اس لیے اُسے فیصلہ کرنے میں مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر کار بہت سوچ بچار کے بعد اُس کے ذہن میں سارے مسئلے کا حل آ گیا۔
اُس نے تینوں شہزادوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب تینوں شہزادے بادشاہ کے سامنے حاضر ہو گئے اور اُنھوں نے ادب سے جھک کر سلام کیا، تو بادشاہ نے انھیں بیٹھنے کے لیے کہا۔ تینوں شہزادے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو بادشاہ بولا:
میرے بیٹو! میں جانتا ہوں کہ تم تینوں جوان ہو چکے ہو۔ میری نظر میں تم سب برابر ہو۔ میری خواہش ہے کہ تم تینوں کو آزماؤں، اور جو اس آزمائش میں کامیاب ہو، اُسے ملک کی حکومت دے کر اپنی باقی زندگی اللہ کی یاد میں بسر کروں۔
بادشاہ کی بات سن کر تینوں شہزادے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ تینوں شہزادوں نے بہ یک زبان کہا:
ابا حضور! اللہ آپ کا سایہ ہم پر ہمیشہ سلامت رکھے! جب تک آپ زندہ ہیں، ہمیں بادشاہت کی خواہش نہیں ہے۔
بادشاہ اپنے بیٹوں کی فرمانبرداری پر بہت خوش ہوا، لیکن اُس نے ان میں بادشاہت کے لیے ضروری خوبیاں پیدا کرنے کی غرض سے ایک فیصلہ کر لیا تھا۔ اُس نے کہا:
میں تم تینوں کو ایک سفر پر بھیج رہا ہوں، لیکن اس سفر کی خبر میرے اور تمھارے علاوہ کسی کو نہیں ہونی چاہیے۔ تم اپنے ساتھ جتنا مال و اسباب لے کر جانا چاہو، لے جا سکتے ہو۔ عقل مند شہزادہ مغرب کی طرف سفر کرے گا۔ رحم دل شہزادہ شمال کی طرف جائے گا اور بہادر شہزادہ جنوب کی طرف سفر کرے گا۔ شرط یہ ہے کہ تینوں شہزادوں نے چھے مہینے کے اندر اندر اپنا سفر ختم کر کے واپس آنا ہوگا، اور اپنے سفر میں جو کچھ حاصل کرو گے، وہ پیش کرنا ہوگا۔
تینوں شہزادوں نے بادشاہ کے فیصلے کو خوشی سے قبول کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے طور پر زور و شور سے سفر کی تیاریاں شروع کر دیں۔ پھر ان کی روانگی کا دن آن پہنچا۔ شہزادے اعلیٰ نسل کے گھوڑوں پر سوار ہو کر تیار کھڑے تھے۔ بادشاہ نے آدھی رات کے وقت شہزادوں کو دعائیں دے کر رخصت کر دیا اور ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کی کہ وہ اپنی شناخت کسی پر ظاہر نہیں کریں۔
شہزادوں کا آپس میں بھی بہت پیار تھا۔ وہ ایک دوسرے کو گلے لگ کر ملے اور ایک دوسرے کی کامیابی کی دعائیں کرتے ہوئے مختلف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔
*عقل مند شہزادہ جنوں کے ملک میں*
عقل مند شہزادہ اپنے سفید گھوڑے پر سوار تھا۔ اُس کا گھوڑا تیز رفتار اور بڑا وفادار تھا۔ گھوڑا ساری رات تیزی سے دوڑتا رہا اور رات کے آخری پہر وہ اپنے ملک کی سرحد پر پہنچ چکا تھا۔ سرحد کے اختتام پر اُس کے اُستاد کا مکان تھا۔ شہزادے نے اس سے عقل مندی کی بہت سی باتیں سیکھی تھیں۔ اُس کا ارادہ تھا کہ جاتے جاتے اُستاد کو سلام کرتا چلوں۔
جب وہ مکان کے قریب پہنچا تو وہاں کئی گھڑ سوار نظر آئے۔ شہزادے کو قریب آتا دیکھ کر انھوں نے تلواریں نکال لیں۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور کچھ آدمیوں نے، جن کے چہرے نقاب میں چھپے ہوئے تھے، ایک آدمی کو باندھ کر لا رہے تھے۔ شہزادے نے فوراً پہچان لیا۔ یہ اُس کے اُستاد کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ اُسے ان لوگوں پر غصہ آنے لگا۔
ایک آدمی نے شہزادے کو حکم دیا:
"اجنبی! تم جو کوئی بھی ہو، یہاں سے چلتے بنو، ورنہ ہم تمھیں قتل کر دیں گے۔"
شہزادے نے کڑک کر کہا:
"تم نے جس آدمی کو پکڑ رکھا ہے، یہ میرے استاد ہیں، تم انھیں چھوڑ دو۔"
یہ سن کر وہ قہقہہ لگانے لگا:
"تم میں اتنی ہمت ہے تو اس کو چھڑا لو، ورنہ ہم تمھیں بھی پکڑ کر لے جائیں گے۔"
شہزادہ سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا کرے۔ اس نے ہمت کر کے پوچھا:
"ان کا قصور تو بتاؤ، تم نے انھیں کیوں باندھ رکھا ہے؟"
وہی آدمی بولا:
"ہمیں پتا چلا ہے کہ اس کے پاس بہت بڑا خزانہ ہے، لیکن ہم نے اس کے سارے گھر کی تلاشی لے لی ہے اور کچھ بھی نہیں ملا۔ ضرور اس نے خزانہ کہیں چھپا رکھا ہے۔"
شہزادے کو ساری بات سمجھ میں آ گئی۔ اس نے انھیں بتایا کہ ان کے پاس ہیرے موتیوں والا خزانہ نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ قیمتی خزانہ ہے۔
گھڑ سوار حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ ان میں سے ایک بولا:
"پھر تمھیں تو معلوم ہوگا کہ اس نے وہ خزانہ کہاں چھپا رکھا ہے؟"
شہزادے نے جواب دیا:
"ہاں! مجھے معلوم ہے۔ ان کے پاس علم کا خزانہ ہے، جو انھوں نے اپنے سینے میں چھپا رکھا ہے، اور جو اسے حاصل کرنا چاہے، یہ سارا خزانہ اس پر لٹانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔"
یہ سن کر ان کے منھ لٹک گئے۔
"اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے، چلو چھوڑو اس بوڑھے کو!"
ان میں سے ایک آدمی نے رعب دار لہجے میں کہا، جو اُن کا سردار نظر آتا تھا۔
یہ کہہ کر وہ سب گھوڑوں کو آگے پیچھے دوڑاتے ہوئے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔
شہزادے نے آگے بڑھ کر اپنے استاد کو رسیوں سے آزاد کرایا۔ اس وقت شہزادے کو اپنے سامنے دیکھ کر اُس کے استاد کو حیرت ہوئی۔ شہزادے نے سلام کیا اور ہنس کر کہنے لگا:
"حضرت! میں یہاں سے گزر رہا تھا، سوچا آپ کو سلام کرتا چلوں۔"
انھوں نے بڑی محبت سے سلام کا جواب دیا اور کہنے لگے:
"صاحب زادے! تم تو اس وقت اللہ کی طرف سے رحمت بن کر آئے ہو۔ ان لوگوں کو کسی نے بہکا دیا ہوگا۔ بہر حال چھوڑو انھیں، یہ بتاؤ کہ اس وقت کہاں جانے کا ارادہ ہے؟"
شہزادے نے کہا:
"بس جناب! ایک مہم پر جا رہا ہوں، آپ سے دعا کا خواستگار ہوں۔"
اُنھوں نے شہزادے کو بہت سی دعائیں دیں اور بتایا کہ تم سورج نکلنے سے پہلے پہلے اپنے ملک کی سرحد سے نکل جاؤ گے۔
وہ دعائیں سمیٹتا ہوا تیزی سے سرحد کی جانب بڑھنے لگا۔ جب اُس نے سرحد پار کی تو ابھی سورج نہیں نکلا تھا۔ اُس کے سامنے سرسبز و شاداب خطہ تھا۔ ہر طرف ہری ہری گھاس پھیلی ہوئی تھی اور پھل دار درخت پھلوں سے جھکے ہوئے تھے۔ درختوں کے بیچوں بیچ شفاف پانی کی ایک نہر خراماں خراماں بہہ رہی تھی۔ شہزادہ قدرت کی کاری گری پر حیران رہ گیا۔
اسی وقت اُسے دُور سے شور کی آواز سنائی دی، جو آہستہ آہستہ قریب آ رہی تھی۔ شہزادے نے سمت کا اندازہ لگایا اور درختوں کے ایک جھنڈ کے پیچھے چھپ گیا۔ اُسے دور سے کچھ لوگ چلتے ہوئے اپنی طرف آتے نظر آئے۔ اب اُن کی آوازیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔
جب وہ ذرا اور قریب آئے تو شہزادہ یہ دیکھ کر چونک گیا کہ اُن لوگوں کے سروں پر چھوٹے چھوٹے سینگ تھے۔ اُس کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی۔ یہ جن تھے۔ اُن کی تعداد پندرہ کے قریب تھی اور وہ نہر کے کنارے پر رک گئے۔
سب سے آگے والا جن اُن کا سردار لگتا تھا۔ وہ ادھر اُدھر دیکھ کر اونچی آواز میں کہنے لگا:
"یہاں تو کوئی انسان نظر نہیں آ رہا۔"
پیچھے سے ایک بوڑھا جن بولا:
"سردار! ہو سکتا ہے وہ نہر کے دوسری طرف ہو۔ ہمیں یہاں اُس کا انتظار کرنا چاہیے۔"
"آپ ٹھیک کہتے ہیں! ہم ذرا جلدی آ گئے ہیں۔"
سردار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
شہزادہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے یہ لوگ میرے بارے میں گفتگو کر رہے ہوں۔ یہاں چھپے رہنے سے بہتر ہے کہ سامنے آ کر ان کے ارادوں کا پتا چلایا جائے۔ یہ سوچ کر اُس نے اپنے گھوڑے کی لگام کو پکڑا اور نہر کی طرف چل دیا۔
*جاری ہے ۔۔۔۔۔///*
🌹🌸♥️🤲🌼
آپ لوگوں کو یہاں پر روز ایک ایپیسوڈ ملا کرے گی پلییز follow my account