نماز
نماز ایک ایسی عبادت ہے جو خالق اور مخلوق کے رشتے کو پائیدار کرتی ہے مگر ہم اسے صرف اپنی ڈیوٹی سمجھ بیٹھے ہیں حتی کہ یماری اکثریت تو اسے محض ایک غیر ضروری چیز تصور کرتی ہے
حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے آخر کیا وجہ ہے کہ حضور علیہ السلام کا فرمان عالیشان ہے
میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے
آئیے ذرا جائزہ لیتے چلیں کہ کیا نماز کا جو مرتبہ ہماری نظر میں آج بن چکا ہے کیا دورِ نبوی میں، دور صحابہ و تابعین میں ایسا ہی نظریہ نماز کے ساتھ چسپاں تھا
جی نہیں ہرگز نہیں
وہ تو اپنی رات رب کے آگے کھڑے ہوکر گزار دیا کرتے تھے
کھڑے کھڑے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا مگر کہتے کہ کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں
اور ہم تو فقط الحمد للہ کہکر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اللہ رب ذوالجلال کی تمام انعام و اکرام کا شکر ادا کرلیا
خدارا اس خام خیالی سے نکلیں
قبل اسکے کہ وقت ہی نہ رہے خود کو بدلنے کا
نماز فقط چند افعال و حرکات کا مجموعہ نہیں
بلکہ یہ امت کی رونق اور معراج ہے
نماز سراپا نور اور نمازی سراپا نورانی ہے
نماز نام ہے تعلقِ عاشق و معشوق کا
نماز ربط ہے ایمان و اسلام کا
نماز ضبط ہے ہماری اتحاد و اتفاق کا
نماز ایمان کا مظہر ۔محبت کی چادر ۔درد میں راحت اور کرب و الم میں مونس و غمگسار ہے
کہتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اسکے واسطے اور ضابطے بھی محبوب ہوا کرتے ہیں
لیکن کیا بات ہے کہ
ہم محبت کے دعویدار تو ہیں مگر نماز کے پہرےدار نہیں
محبت میں کمی آگئ ہے یا طرزِ محبت بدل گئ
وہی سورج
وہی چاند
وہی زمین
وہی آسمان
وہی خالق
وہی مخلوق
فرق آیا تو صرف ہمارے عمل میں ہے
آج بھی ہم اگر عمل ٹھیک کرلیں
رب کے فرمانبرداری میں جان نچھاور کردیں
تو بعید نہیں کہ
ہماری آواز کفار کے ایوان کو ہلا کر رکھ دے
ہماری آہ عرش پر زلزلہ برپا کردے
اور ہماری ہیبت سے کافروں کے دل کانپ اٹھیں
خلاصہ۔۔۔۔۔۔۔نماز پڑھنا کافی نہیں نماز کی ادائیگی کی ضرورت ہے