(37)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جوکی ہاٹ؛ارریہ؛ کی سیاست میں ملت کا کردار — طعن نہیں، تدبیر چاہیے"
___________
دنیا کے منظرنامے میں کبھی کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جب سیاست، ایمان اور شعور ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔
ایسے وقت میں قوموں کی اصل پہچان ان کے فیصلوں سے ظاہر ہوتی ہے؛
کہ وہ جذبات میں بہہ جاتی ہیں یا بصیرت کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
آج بہار، خصوصاً ارریہ اور جوکی ہاٹ اسی موڑ پر کھڑے ہیں،
جہاں ہر ووٹ صرف ایک نمائندے کا نہیں، بلکہ ملت کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔
الغرض؛ گزشتہ چند دنوں کی سیاسی اٹھا پٹک نے عوام کے دلوں میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا کردیا ہے۔
ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ خوب اچھلا — حق داروں کو مایوسی ملی اور چاپلوس؛ دولت کے زور پر کامیاب ٹھہرے۔
ایسا محسوس ہوا جیسے قربانی دینے والوں کے ہاتھ خالی رہ گئے اور موقع پرستوں نے میدان مار لیا۔
بہرحال، آج جو کچھ ٹکٹ کی تقسیم میں ہوا، اگرچہ وہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں تھا،
مگر ہمیں اس دکھ کو وقتی سمجھ کر بڑے مقصد کی طرف دیکھنا ہوگا۔
مجھے بھی اس کا درد ہے، میں نے اسی پر قلم بھی اٹھایا،
مگر اب وقت ہے کہ ہم اپنے دل کے زخموں کو بھول کر ملت کے زخموں پر مرہم رکھیں۔
آج ہمیں فرقہ پرست طاقتوں کی نفرت انگیز سوچ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے جذبات سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھنا ہوگا،
اور آپس میں الجھنے کے بجائے سماج کے فائدے، مدارس و مساجد کے میناروں،
اور ملت کے مفاد کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔
ہم جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں کے حالات اور فضا کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
یہ وقت جذبات کا نہیں، بصیرت کا ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ کون سا پارٹی، کون سا نشان، اور کون سا رہنما ہمارے حق میں بہتر ہے —
جو نہ صرف ہماری بات کہہ سکے بلکہ اسے نظام کے ایوانوں تک پہنچا بھی سکے۔
ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ
بیرسٹر جناب اسدالدین اویسی صاحب ایک مخلص، بےباک اور دیانت دار رہنما ہیں۔
انہوں نے ہمیشہ دین، ملت اور عوامی بھلائی کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔
ان کے دل میں امت کا درد ہے، اور ان کے بیانات میں سچائی کی جھلک۔
وہ ان چند سیاست دانوں میں سے ہیں جو اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں،
اور جن کے لہجے میں ملت کی عزت، خودداری اور ایمان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
جو دل دوسروں کے درد سے دھڑکتا ہے،
اللہ تعالیٰ اُسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
لہٰذا، آج جو درد بیرسٹر صاحب کے دل کو چھو گیا ہے،
اسے ہم سب کو محسوس کرنا چاہیے۔
ان پر طعن و ملامت کے تیر نہ چلائیں،
ان کی نیت پر شک نہ کریں،
اور ان کے اخلاص کو بدگمانی کے پردے میں نہ چھپائیں۔
جو شخص امت کے لیے تڑپ رکھتا ہے،
اسے ہماری زبانوں کے نشتر نہیں بلکہ دعاؤں کی چھاؤں درکار ہے۔
یہ الیکشن بہت حسّاس ہے۔
یہ صرف جیت یا ہار کا نہیں بلکہ ملت کے مستقبل کا الیکشن ہے۔
ہمیں کنڈیڈیٹ کے نام سے زیادہ پارٹی کے سربراہ کے کردار اور وژن کو دیکھنا ہوگا۔
کیونکہ رہنما وہی کامیاب ہوتا ہے جو قوم کی سمت طے کرتا ہے،
اور عوام وہی عزت پاتے ہیں جو اپنی قیادت پر اعتماد رکھتے ہیں۔
لہٰذا اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کیجیے؛
سوچ سمجھ کر، اتحاد کے ساتھ، اور ملت کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے۔
یہ فیصلہ صرف آج کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہوگا۔
آخر میں قرآنِ کریم کی یہ آیت ہمیں یہی سبق دیتی ہے:
> "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
(سورۃ الرعد: 11)
’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دے۔‘
پس!
اگر ہم اپنے اندر اتحاد، اخلاص اور درست شعور پیدا کر لیں،
تو کوئی طاقت ہماری تقدیر نہیں بدل سکتی —
بلکہ ہم خود اپنی تقدیر کے معمار بن سکتے ہیں۔
نوٹ:
یہ تحریر بہار اسمبلی انتخابات 2025، بالخصوص ارریہ اور جوکی ہاٹ کے سیاسی پس منظر کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔
اس کا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ ملت کے اجتماعی مفاد اور بیداریِ شعور کی ترغیب ہے۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com