چند دنوں میں رمضان کی آمد ہے.
مدت ہوئی قلم خاموش پڑا تھا۔ وقت کی الجھنوں نے فرصت کو اس طرح سمیٹ لیا کہ لفظ دل میں بنتے رہے مگر صفحے تک نہ آ سکے۔ ہر روز ارادہ ہوتا، پھر کوئی نہ کوئی مصروفیت ہاتھ تھام لیتی۔
مگر اب فضا میں ایک اور ہی آہٹ ہے۔ دل خود بخود مائلِ کرم ہو رہا ہے، جیسے آنے والا مہینہ یاد دلا رہا ہو کہ رکنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں۔ قلم بھی اِس بار سوال کر رہا ہے کہ کیا اس بار بھی تاخیر ہوگی؟
سو آج یہ چند سطور اسی تاخیر کے اعتراف اور اس آنے والی ساعت کے احساس میں لکھی جا رہی ہیں… جیسے رمضان ویران دل کو آواز دے رہا ہو۔
قریب ہے دو دنوں میں دروازے پر دستک ہوگی ، اور دل کو بھی اب دروازہ کھولنا چاہئے۔۔
حقیقت یہی ہے رمضان انسان کے باطن دروازے پر دستک دیتا ہے اور سوال کرتا ہے: گزرے ہوئے دنوں کا حاصل کیا تھا؟ سجدوں میں دل کہاں تھا؟ زبان پر ذکر تھا تو کردار میں اس کی جھلک کیوں نہ آئی؟
علامہ ابن الجوزی اسی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:
"يا من ضاع عمره في غير طاعة، اغتنم رمضان، فإن فيه تُفتح أبواب الجنان، وتُغلق أبواب النيران، وتُصفَّد الشياطين. فكم من محرومٍ أدركه رمضان فلم يُغفر له!"
اے وہ شخص جس کی عمر اطاعت کے بغیر گزر گئی، رمضان کو غنیمت جان۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ مگر کتنے ایسے ہیں جو رمضان کو پاتے ہیں اور پھر بھی بخشے نہیں جاتے۔
محرومی باہر کی نہیں، اندر کی ہوتی ہے
اسی لیے وہ دوسری جگہ تنبیہ کرتے ہیں:
"إنما الشأن في صفاء القلب، فإذا صفا القلب رأى الحق حقًّا."
اصل معاملہ دل کی صفائی کا ہے۔ جب دل صاف ہو جاتا ہے تو حق اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمایاں ہو جاتا ہے۔
رمضان اسی صفائی کا موسم ہے۔ روزہ نفس کے غرور کو توڑتا ہے۔ خواہش سامنے موجود ہوتی ہے مگر ہاتھ رک جاتا ہے۔ زبان بول سکتی ہے مگر خاموش رہتی ہے۔ آنکھ دیکھ سکتی ہے مگر جھک جاتی ہے۔ یہ وہ تربیت ہے جو دل کو شفاف بناتی ہے۔
تاریخ میں عزت انہی کو ملی جنہوں نے اپنے باطن کو سنوارا۔ قوت اور کثرت وقتی سہارا دے سکتی ہے، مگر بقا دل کی اصلاح سے وابستہ ہے۔ جب باطن درست ہو تو ظاہر میں وقار آتا ہے، اور جب دل میں خشیت ہو تو عمل میں وزن پیدا ہوتا ہے۔
قرآن نے اسی اصول کو دائمی قانون کی صورت میں بیان کیا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ﴾
کامیاب وہ ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز قائم کی۔
یہ ترتیب قابلِ غور ہے: پہلے تزکیہ، پھر ذکر، پھر عبادت۔
یعنی اصلاحِ باطن، یادِ رب، اور عملی بندگی یہی فلاح کا راستہ ہے۔
رمضان اسی ترتیب کی عملی مشق ہے۔ دل صاف ہو، زبان ذکر سے تر ہو، اور پیشانی سجدے میں جھک جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ مہینہ قبولیت کا پیغام لے کر آرہا ہے۔
زندگی کی مہلت محدود ہے۔ نہ معلوم کتنے لوگ گزشتہ رمضان ہمارے ساتھ تھے اور اب نہیں رہے۔ اس لیے ان دنوں کو سنبھال لینا چاہیے۔ حقوق کی ادائیگی، دلوں کی اصلاح، رزق کی پاکیزگی یہی وہ امور ہیں جو مغفرت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
اگر اس مہینے میں دل صاف ہو جائے تو حق واضح ہو جائے گا۔
اور جب حق واضح ہو جائے تو راستہ سیدھا ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دل کی صفائی عطا فرمائے، اس مہینے کو ہماری مغفرت کا ذریعہ بنائے، اور اِس ناکارہ کو اپنی رضا سے سرفراز فرمائے۔
آمین یا رب العالمین