ابو طالب کی کفالت میں - ابو طالب رسول اللہ ﷺ کے تیسرے کفیل تھے۔ آپ ﷺ بچپن سے ان کی کفالت میں رہے حتیٰ کہ آپ سنِ بلوغت کو پہنچ گئے۔

ابو طالب کو آپ ﷺ سے بے حد محبت تھی۔ وہ آپ ﷺ کی پرورش اور نگہداشت کرتے رہے۔ یہ محبت اور حفاظت صرف بعثت (نبوت) سے پہلے تک محدود نہ رہی بلکہ اس کے بعد بھی جاری رہی۔ وہ اسلام کی دعوت میں آپ ﷺ کے مددگار اور سہارا بنے رہے، باوجود اس کے کہ وہ اسلام نہ لائے اور کفر پر ہی فوت ہوئے۔

جب آپ ﷺ جوان ہوئے تو آپ نے چاہا کہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے روزی کمائیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے چچاؤں اور دوسروں کی بکریاں چرائیں۔ آپ ﷺ اہل مکہ کی بکریاں قراریط (مزدوری) پر چرایا کرتے تھے۔

قال النبي ﷺ مَابَعَثَ اللهُ نَبِیًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُه: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ أَرْعَاھَا عَلٰی قَرَارِیْطَ لِأَھْلِ مَکَّة۔

آپ ﷺ کا فرمان ثابت ہے:

کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائیں۔

صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے بھی چرائیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

ہاں! میں نے بھی اہل مکہ کی بکریاں قراریط (مزدوری) پر چرائیں۔

(صحیح البخاری)

رسول اللہ ﷺ کی حرب الفجار اور حلف الفضول میں حاضری۔

پہلی جنگِ فجار میں رسول اللہ ﷺ شریک نہ ہوئے کیونکہ اس وقت آپ کی عمر دس سال تھی۔

لیکن دوسری جنگِ فجار میں آپ ﷺ شریک ہوئے۔ یہ جنگ ہوازن اور قریش کے درمیان ہوئی تھی۔ اسے "فجار" اس لیے کہا گیا کہ بنی کنانہ اور ہوازن نے حرم کی حرمت کو پامال کیا اور وہاں قتل و قتال کیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

میں فجار کے دن اپنے چچاؤں کو تیر پکڑایا کرتا تھا۔

آپ ﷺ نے حلف الفضول میں بھی شرکت فرمائی جو جنگِ فجار کے بعد ہوا تھا۔

اس حلف (معاہدہ) کا سبب یہ تھا کہ قریش حرم میں ایک دوسرے پر ظلم کیا کرتے تھے۔ چنانچہ عبد اللہ بن جدعان اور زبیر بن عبد المطلب نے مظلوم کی مدد اور ظالم سے اس کا حق دلانے کے لیے باہمی تعاون اور مدد کا معاہدہ کرنے کی دعوت دی۔ سب نے ان کی دعوت قبول کی اور دارِ ابن جدعان میں جمع ہو کر معاہدہ کیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس معاہدے کے بارے میں فرمایا:

میں نے عبد اللہ بن جدعان کے گھر ایک حلف (معاہدے) میں شرکت کی تھی۔ مجھے اگر سرخ اونٹ بھی دیے جائیں تو بھی میں اسے چھوڑنا پسند نہ کروں۔ اور اگر اسلام میں بھی ایسے معاہدے کی طرف بلایا جاؤں تو میں ضرور شریک ہوں گا۔


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔


✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔