"بھائیو! اکرامِ مسلم کا مقصد یہ ہے کہ ہم ہر مسلمان کی قدر کریں، کیونکہ اس کے سینے میں اللہ کا دیا ہوا قیمتی خزانہ یعنی 'ایمان' موجود ہے۔ اکرام کا مطلب صرف کھانا کھلانا نہیں، بلکہ دوسرے کے حق کو اپنے حق پر ترجیح دینا اور اس کی عزت کی حفاظت کرنا ہے۔"
قرآنِ کریم میں: اللہ پاک فرماتے ہیں: "اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ" (بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں)۔ ایک اور جگہ فرمایا: "اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ" (اہلِ ایمان کے سامنے نرم اور عاجز رہو)۔
حدیثِ مبارکہ میں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے"۔ (بخاری)۔ ایک اور جگہ فرمایا: "تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے
لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے"۔
"بھائیو! اکرامِ مسلم کی مثال 'جسم کے اعضاء' جیسی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں۔ اگر جسم کے کسی ایک حصے میں، مثلاً پیر کے انگوٹھے میں چوٹ لگ جائے یا کانٹا چبھ جائے، تو درد صرف پیر میں نہیں رہتا بلکہ پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے، آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں اور دماغ کو سکون نہیں ملتا۔
اسی طرح اگر دنیا کے کسی بھی کونے میں ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے تو ہمیں اپنے دل میں اس کا درد محسوس ہونا چاہیے۔ یہی اکرامِ
مسلم کی روح ہے۔"
میرے بھائیو! ایک کلمہ پڑھنے والا مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، کتنا ہی غریب ہو یا میلے کپڑوں میں ہو، اس کے سینے کے اندر 'ایمان کا ہیرا' موجود ہے۔
ہم اکثر لوگوں کی برائیاں دیکھتے ہیں، ان کے گناہ دیکھتے ہیں اور ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔
اکرامِ مسلم یہ ہے کہ ہم گناہ سے تو نفرت کریں، لیکن گناہ گار سے نفرت نہ کریں۔ ہم اس کے ایمان کی قدر کریں اور اسے گندگی سے نکال کر اللہ کے قریب کرنے کی فکر کریں۔"
"نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے اور چھوٹوں پر شفقت نہ کرے۔'
اکرامِ مسلم یہ ہے کہ:
اگر کوئی عالمِ دین ہے تو اسے عزت دی جائے۔
اگر کوئی بوڑھا ہے تو اس کا سہارا بنا جائے۔
اگر کوئی محتاج ہے تو خاموشی سے اس کی مدد کی جائے کہ دوسرے ہاتھ کو پتہ بھی نہ چلے۔"
"حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوریاں لاد کر غریبوں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ کون دے جاتا ہے۔ جب ان کا انتقال ہوا اور غسل دیا گیا، تو پیٹھ پر کالے نشانات پائے گئے۔ تب شہر والوں کو پتہ چلا کہ یہ نشانات یتیموں اور بیواؤں کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے پڑے تھے۔"
ہم ہر مسلمان کی عزت اور اکرام کرنے والے بن جائیں اس کے لیے تین طرح کی محنت ہے
۱: دعوت
"ہمیں لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مسلمان کی
عزت کعبہ سے زیادہ ہے، اس لیے کسی کی غیبت، تحقیر یا دل آزاری نہ کی جائے۔"
مشق:۲
سلام: ہر مسلمان کو سلام میں پہل کرنا۔
خدمت: اپنے ساتھیوں کے کام آنا (مثلاً جوتے سیدھے کرنا، پانی پلانا)۔
عاجزی: اپنے آپ کو سب سے کم تر اور دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھنا۔
دعا:۳
"اے اللہ! ہمارے دلوں سے حسد، کینہ اور نفرت نکال دے اور ہمیں اپنے بندوں کا خادم اور خیر خواہ بنا دے۔ آمین۔"