مصنوعی ذہانت کے فتنے اور ہماری ذمہ داری
مفتی محمدتسلیم الدین المحمودی
آج مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی قوت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بڑے عالمِ دین کی ایسی ویڈیو تیار کر دی گئی جو ان ہی کی آواز، اندازِ بیان اور طرزِ گفتگو سے مشابہ تھی۔ یہ ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیلتی رہی، یہاں تک کہ خود اُن بزرگ کو اس کی باقاعدہ تردید کرنا پڑی۔
چند ہی دیر پہلے ایک صاحبِ علم نے فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ “ساڑھے پندرہ سو لاوارث لاشوں کی تدفین ایک مخصوص سانحے کے بعد کی گئی ہے۔” تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ یہ ایک فلاحی ادارے کی ویڈیو تھی جو سنہ 2022ء سے اب تک مجموعی طور پر اتنی لاوارث میتوں کو دفنا چکا ہے۔ مگر ویڈیو کے ابتدائی حصے کو کاٹ کر اسے ایک مخصوص واقعے سے جوڑ دیا گیا اور یوں ایک غلط تاثر عام ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض اہلِ علم بھی نادانستہ طور پر ایسے مواد کو آگے بڑھا بیٹھتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور وائرل کلپ میں تقریر کے دوران ایک شخص پر کسی جانور کے حملے کا منظر دکھایا جا رہا تھا اور اسے ایک خاص عقیدے یا واقعے سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا تھا، حالانکہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ منظر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔
یہ تو صرف چند گھنٹوں کے مشاہدات ہیں، ورنہ اس نوعیت کے بے شمار واقعات روزانہ پیش آ رہے ہیں۔ علما و مشائخ کے واٹس ایپ گروپس ہوں یا عمومی نشستیں، غیر مصدقہ خبریں اور مبالغہ آمیز واقعات اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ اکثر خاموشی ہی بہتر معلوم ہوتی ہے۔
یہ صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ ابھی تو مصنوعی ذہانت اپنی ابتدائی منزل میں ہے، مگر اس نے سچ اور جھوٹ، حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کو مشکل بنا دیا ہے۔ جب یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی تو دجل و فریب کی نوعیت اور بھی پیچیدہ ہو جائے گی۔ یہ سوچ کر دل میں اضطراب پیدا ہوتا ہے اور احساس ہوتا ہے کہ آنے والا زمانہ زیادہ بصیرت اور احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی لیے بار بار توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ اب اسمارٹ فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ رائے سازی اور پروپیگنڈے کا ایک طاقتور آلہ بن چکا ہے۔ جھوٹی خبروں، تراشے گئے مناظر اور مصنوعی مواد کا سیلاب ہے۔ ایسے ماحول میں محض دیکھ کر یا سن کر یقین کر لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم تحقیق، تصدیق اور احتیاط کو اپنی عادت بنائیں۔ مدارس اور دینی اداروں کے نصاب میں جہاں روایتی علوم کی اہمیت مسلم ہے، وہیں دورِ حاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر ڈیجیٹل لٹریسی، میڈیا اخلاقیات، فیک نیوز کی پہچان اور مصنوعی ذہانت کی بنیادی معلومات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
اسی صورت میں ایسے اہلِ علم تیار ہو سکیں گے جو زمانے کے فتنوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، امت کو گمراہی سے بچا سکیں اور فکری و ایمانی رہنمائی کا حق ادا کر سکیں۔ علم کے ساتھ بصیرت، اور دیانت کے ساتھ تحقیق آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے۔
یہ تحریر عمومی اور مستند طور پر معلوم حقائق (AI، ڈیپ فیک، فیک نیوز کے پھیلاؤ) کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مخصوص واقعات کی جزئیات چونکہ عمومی مثال کے طور پر بیان ہیں، اس لیے ان کی انفرادی تصدیق ضروری ہو سکتی ہے۔