پہلی صفت: کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ)

کلمہ کا مقصد (نظریہ کی تبدیلی ہے)کلمہ صرف زبان سے پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ دل کے یقین کو بدلنے کا نام ہے۔

مقصد: "اس کلمے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے دلوں سے 'غیر اللہ' کا یقین نکل جائے اور 'اللہ' کی ذات کا سو فیصد یقین پیدا ہو جائے۔ یہ یقین بیٹھ جائے کہ کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے، اللہ کے بغیر کچھ نہیں ہوتا اور اللہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔"

ہم کہتے ہیں کہ دوا نے آرام دیا، لیکن دوا تو ایک جڑی بوٹی ہے۔ شفا اللہ کے حکم میں ہے۔ وہی دوا ایک کو فائدہ دیتی ہے اور دوسرے کے لیے بے اثر ہو جاتی ہے، کیونکہ کرنے والی ذات اللہ کی ہے۔

دیکھو! سورج وقت پر نکلتا ہے، چاند اپنی منزلیں طے کرتا ہے، زمین اپنے محور پر گھومتی ہے۔ ان سب کو چلانے کے لیے نہ کسی بجلی کی ضرورت ہے نہ کسی مشین کی۔ بس اللہ کا ایک "کُن" (ہو جا) کافی ہے۔

خلاصہ: "اللہ مال کے بغیر پال سکتا ہے، اللہ اولاد کے بغیر نام چلا سکتا ہے، اور اللہ اسباب کے بغیر سب کچھ کر سکتا ہے، جبکہ پوری کائنات مل کر بھی اللہ کے حکم کے بغیر ایک مچھر کا پر بھی نہیں ہلا سکتی۔"

"محمد رسول اللہ ﷺ" کی وضاحت

کلمے کا دوسرا حصہ ہمیں "طریقہ" بتاتا ہے۔

مطلب: "کامیابی کے جتنے بھی خزانے اللہ کے پاس ہیں، ان کو حاصل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ہے جناب نبی کریم ﷺ کا مبارک طریقہ۔"

مثال: اگر کسی کے پاس لاکھوں روپے ہوں لیکن اسے یہ نہ پتہ ہو کہ بازار سے سامان کیسے خریدنا ہے، تو وہ بھوکا مر جائے گا۔ اسی طرح اللہ کے پاس سب کچھ ہے، لیکن اللہ سے لینے کا طریقہ صرف سنتِ نبوی ﷺ میں ہے۔

وضاحت: جو طریقہ سنت کے مطابق ہوگا وہ اللہ کے ہاں قبول ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اور جو طریقہ سنت کے خلاف ہوگا وہ اللہ کے ہاں رد ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

اس کلمہ کا یقین ہمارے دلوں میں آجائے ہم اللہ کے احکامات کے تابع ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک طریقے پر زندگی گزارنے والے بن جائیں اس کے لیے تین طرح کی محنت ہے

دعوت: ہم بار بار اللہ کی قدرت کا تذکرہ کریں، لوگوں کو اللہ کی بڑائی بتائیں۔

مشق: جب بھی کوئی کام کریں تو کہیں "اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے"۔

دعا: اللہ سے رو رو کر مانگیں کہ "اے اللہ! میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنے نبی ﷺ کی محبت پیدا فرما"۔

"نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس کا آخری کلام 'لا الہ الا اللہ' ہوا، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔" اور فرمایا کہ "ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں، جن میں سب سے افضل 'لا الہ الا اللہ' کہنا ہے"۔