*امکانِ کذبِ الٰہی کا بطلان*
عقائدِ اسلامیہ میں بعض مسائل ایسے ہیں جو بظاہر علمی اور دقیق معلوم ہوتے ہیں مگر درحقیقت وہ پورے ایمان کی بنیاد سے متعلق ہوتے ہیں، مسئلۂ امکانِ کذبِ الٰہی بھی انہی میں سے ہے، یہ محض ایک فلسفیانہ یا لفظی بحث نہیں بلکہ وحی، نبوت، قرآن، آخرت اور تمام وعدہ و وعید کی اساس کا سوال ہے، ایمان دراصل خبرِ صادق پر یقین کا نام ہے، اور جب خبر دینے والی ذات اللہ تعالیٰ ہے تو اس کے صادق ہونے پر کامل اور قطعی یقین ایمان کی پہلی شرط ہے، اگر (نعوذ باللہ) یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کذب ممکن ہے، تو پھر دین کا کوئی بھی حصہ یقینی نہیں رہتا بلکہ سب احتمالات کی نذر ہو جاتا ہے، اسی لیے اہلِ سنت والجماعت کا قطعی اور متفقہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صادق بالوجوب ہے اور کذب اس پر عقلاً و شرعاً محال ہے۔
*کذب اپنی حقیقت کے اعتبار سے نقص ہے، جھوٹ یا تو جہالت سے پیدا ہوتا ہے، یا کمزوری اور خوف سے، یا کسی فائدہ کے حصول کے لیے، یہ تینوں امور نقص ہیں، اللہ تعالیٰ علیمِ مطلق ہے، اس پر جہل محال ہے، وہ قادرِ مطلق ہے، اس پر عجز محال ہے، وہ غنیِّ مطلق ہے* اسے کسی فائدہ یا مصلحت کی حاجت نہیں، جب کذب کے تمام اسباب اس کی ذات سے منتفی ہیں تو کذب کا صدور کیسے ممکن ہو سکتا ہے، عقلِ سلیم صاف گواہی دیتی ہے کہ جس ذات میں جہل، عجز اور حاجت نہ ہو اس سے جھوٹ کا صدور محال ہے۔
اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جھوٹ بولنا ممکن ہے، اگرچہ وہ بولتا نہ ہو، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کے کلام پر یقین کیسے باقی رہے گا، یقین وہی معتبر ہوتا ہے جس میں خلاف کا احتمال نہ ہو، جب امکان تسلیم کر لیا گیا تو احتمال پیدا ہو گیا، اور جب احتمال پیدا ہو گیا تو یقین ختم ہو گیا، اگر قرآن کے بارے میں یہ گنجائش باقی رہے کہ شاید اس کی کوئی خبر خلافِ واقع ہو سکتی ہے، تو نبوت کی صداقت بھی یقینی نہ رہے گی اور نہ جنت و جہنم کے وعدے قطعی رہیں گے، پھر دین ظن و گمان کا مجموعہ بن جائے گا، حالانکہ اسلام یقین اور قطعیت کا دین ہے، لہٰذا محض امکان کو مان لینا بھی ایمان کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے،اور جن لوگوں نے امکان کذب امکان الہی کا قول کیا ہے،انہوں نے اسلام کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔
یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ *اللہ تعالیٰ واجبُ الوجود ہے، اور واجبُ الوجود ہر کمال میں کامل اور ہر نقص سے منزہ ہوتا ہے صدق کمال ہے اور کذب نقص، کامل مطلق میں نقص کا اجتماع عقلاً محال ہے، جیسے مربع دائرہ بنانا محال ہے، یا ایک ہی وقت میں کسی چیز کا موجود اور معدوم ہونا محال ہے* اسی طرح ذاتِ کامل میں نقص کا جمع ہونا محال ہے، یہ قدرت کی کمی نہیں بلکہ محال کا محال ہونا ہے، قدرت کا تعلق ممکنات سے ہوتا ہے، محالات سے نہیں، اگر کوئی یہ کہے کہ ہم قدرت کو عام مانتے ہیں اس لیے کذب کا امکان تسلیم کرتے ہیں، تو پھر اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ظلم، جہل اور عجز کا امکان بھی ہو، حالانکہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے حق میں محال ہیں کیونکہ یہ نقص ہیں، جب ظلم اور جہل محال ہیں تو کذب بھی محال ہوگا، کیونکہ وہ بھی نقص ہے۔
قرآنِ مجید بھی اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا﴾ یعنی اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہے، یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر سچا ہے اور اس کے کلام میں کسی خلافِ واقع کا شائبہ تک نہیں، دوسری جگہ ارشاد ہے، ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ بے شک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، وعدہ خلافی دراصل کذب ہی کی ایک صورت ہے، اور جب اللہ تعالیٰ خود اپنی ذات سے اس کی نفی فرما رہا ہے تو امکانِ کذب کا تصور خودبخود باطل ہو جاتا ہے،اور امکان کذب الہی کے قائلین نے خود سے ایک غلط مفروضے کو ہوا دی ہے۔
اہلِ سنت کے ائمہ و متکلمین نے بھی یہی عقیدہ بیان کیا ہے *امام ابو حنیفہ نے صفاتِ الٰہیہ میں کمال کے اثبات اور ہر نقص کی نفی کو اصول قرار دیا، امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے* اور چونکہ کذب عیب ہے اس لیے وہ اس پر محال ہے، امت کا اجماع اسی پر قائم ہے۔
اب غور کیجیے، اگر ہم یہ مان لیں کہ اللہ کے لیے جھوٹ ممکن ہے، تو کیا ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی ہر خبر قطعی سچ ہے، اگر امکان مان لیا تو یقین کی جگہ احتمال آ جائے گا، اور اگر احتمال آ گیا تو ایمان کی بنیاد متزلزل ہو جائے گی، پھر کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ شاید آخرت کے وعدے بھی یقینی نہ ہوں، نعوذ باللہ، کیا کوئی صاحبِ ایمان اس نتیجے کو قبول کر سکتا ہے، ہرگز نہیں،معلوم ہوا امکان کذب الٰہی کے قائلین کا یہ نظریہ فاسد اور جہالت و سفاہت پر مبنی ہے۔
عقل بھی یہی کہتی ہے کہ کامل مطلق میں نقص محال ہے، اور نقل بھی یہی بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچا ہے اور وعدہ خلافی نہیں کرتا، لہٰذا ہر اعتبار سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا صادق ہونا واجب ہے اور کذب اس پر عقلاً و شرعاً محال ہے،اور مسلم اصول ہے *محالات تحت قدرت نہیں ہوتے* یہی عقیدہ ایمان کی سلامتی اور یقین کی بنیاد ہے، اور اسی پر اہلِ حق کا اتفاق ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ پر ثابت قدم رکھے اور ہر باطل شبہ سے محفوظ فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*