بنت محمد رافع✍️

عاشقِ رسولِ اکرم ﷺ 
عاشقِ رسول ﷺ وہ نہیں جو صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کرے،
عاشقِ رسول ﷺ وہ ہے جس کے دل کی دھڑکنوں میں محمد ﷺ بسے ہوں۔
محبت صرف جذبات کا نام نہیں،
محبت اطاعت کا نام ہے۔
محبت اتباع کا نام ہے۔
محبت قربانی کا نام ہے۔
جب بندہ کہتا ہے کہ میں حضور ﷺ سے محبت کرتا ہوں،
تو پھر اُس کی زندگی میں سنت کی خوشبو آنی چاہیے۔
اس کی نمازوں میں خشوع ہو،
اس کی زبان میں سچائی ہو،
اس کی نگاہ میں حیا ہو،
اور اس کے اخلاق میں نرمی ہو۔
حضرت بلال حبشی کو تپتی ریت پر لٹایا گیا،
سینے پر پتھر رکھا گیا،
مگر زبان پر صرف “احد، احد” تھا۔
یہ عشق کی سچائی تھی۔
حضرت ابو بکر صدیق نے اپنا سب کچھ حضور ﷺ پر قربان کر دیا،
مال بھی، جان بھی، وقت بھی۔
یہ محبت کا کمال تھا۔
حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ!
آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں،
یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی۔
یہ عشق کی انتہا تھی۔
آج ہم کہتے ہیں ہم عاشقِ رسول ﷺ ہیں،
مگر کیا ہماری زندگی سنت کے مطابق ہے؟
کیا ہماری زبان جھوٹ سے پاک ہے؟
کیا ہمارے گھروں میں درود کی آواز گونجتی ہے؟
عشق کا مطلب یہ نہیں کہ صرف محفلوں میں آنسو بہا دیے جائیں،
عشق کا مطلب یہ ہے کہ تنہائی میں بھی گناہ چھوڑ دیا جائے۔
عشق کا مطلب یہ ہے کہ سنت کو زندہ کیا جائے،
چاہے دنیا مذاق اُڑائے۔
حضور ﷺ اپنی امت کے لیے راتوں کو روتے تھے،
آپ ﷺ نے طائف میں پتھر کھائے مگر بددعا نہ دی،
آپ ﷺ نے دشمنوں کو معاف کیا،
آپ ﷺ نے بدلہ نہیں لیا، بلکہ رحم کیا۔
اگر ہم سچے عاشق ہیں
تو ہمیں بھی معاف کرنا سیکھنا ہوگا،
صبر کرنا ہوگا،
نرمی اختیار کرنی ہوگی،
اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنا ہوگا۔
قیامت کے دن سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہوگی
کہ ہمیں حضور ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔
حدیث میں آیا ہے کہ انسان قیامت کے دن اُس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
پس اگر محبت سچی ہے
تو صحبت بھی نصیب ہوگی۔
یا اللہ
ہمارے دلوں کو اپنے حبیب ﷺ کی سچی محبت سے بھر دے
ہماری زندگیوں کو سنت کا آئینہ بنا دے
ہمیں اخلاقِ محمدی ﷺ عطا فرما
اور قیامت کے دن ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے قدموں میں جگہ عطا فرما

آمین ثم آمین یا رب العالمین