📜📜📜📜📜📜📜📜📜📜

*نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی اعزاز*

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم (اما بعد)
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مبشرا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد

ختم نبوت دین کا وہ بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے جس پر پورے دین کی حفاظت اور بقا کا انحصار ہے اگر عقیدہ ختم نبوت ملحوظ ہے تو دین محفوظ ہے اگر یہ عقیدہ ٹوٹ جائے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبی تسلیم کر لیا جائے تو وہ دین کے لیے اصل جز کو منسوخ کر دیا جیسے مرزا قادیانی نے جہاد کو منسوخ کر دیا پھر پورے دین کو منسوخ کر دیا اور دین جدید پیش کر دیا اور بنی اسرائیل میں جب رسول سیدنا عیسی علیہ السلام تشریف لائے ان کی زبان پاک سے نبی آخرالزماں الزماں کی تشریف آوری کا ان الفاظ میں اعلان کرادیا کہ میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا وعدہ کتب سابقہ میں ہوتا رہا ہے وہ تیرے بعد تشریف لانے والا ہے ان کا نام نامی اسم گرامی احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اسی طرح ایک موقع پر جب اللہ تعالی نے خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو انہوں نے تعمیر کی فراغت کے بعد دعا مانگی تھی اے اللہ اس گھر کی آبادی کے لیے ایک عظیم رسول کی بعثت فرمانا چنانچہ اللہ نے ان کی زبان کو قبول فرمایا اور دو بیٹے عطا کیے حضرت اسحاق علیہ السلام سے بے شمار انبیاء کا ظہور ہوا لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام سے صرف ایک ہی نبی کو پیدا فرمایا اور اسحاق علیہ السلام سے بنی اسرائیل کی طرف بہت سارے نبی آتے رہے لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ایک ہی عظیم رسول کو بھیجا گیا وہ رسول حضرت محمد سیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جب پچھلی کتابوں سے پوچھے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی پیشن گوئی دی گئی ہے تو کتابیں کہتی ہے ہاں اس بات کی خبر ملی ہے کہ احمد نامی رسول آنے والے ہیں خاتم النبیین بن کر اور جب قرآن مجید سے پوچھتے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رتبے کے بارے میں تو قرآن صاف الفاظ میں کہ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رتبہ اور خطاب ہے اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام شریعتوں کا خاتمہ فرما دیا اور اب آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں جو شریعت جاری کر سکے
اب تا قیامت صرف لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ساتھ ہی عبادت کریں گے اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت سچا ہے اور اس کا کام بھی سچا ہے ایک مسلمان پر جس طرح لا الہ الا اللہ ماننا اللہ کو احد سمجھ لا شریک لہ جاننا فرض عین اور مدار ایمان ہے بعینہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم رسول و خاتم النبیین ماننا نص قطعی سے ثابت ہے جو اس کا منکر ہے قطعا کافر ملعون اور ہمیشہ کا جہنمی ہے نہ یہ کہ وہی کافر ہے بلکہ جو اس کے بد عقیدگی سے مطلع ہو کراسے کافر نہ جانا وہ بھی کافر ہے اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا صرف ایمان کا حصہ نہیں عین ایمان ہے اور اس عقیدے سے تو انکار یا اس کے معنی میں تبدیلی یا تاویل کا تصور بھی بدترین کفر ہے
دین کی روایات سے بغاوت ہے
قرآن مجید پر انگلی اٹھانا ہے
حدیث کی مذمت کرنا ہے
صحابہ کے معیار کو کمزور ثابت کرنا ہے ت
وحید رسالت کا تصور بدل ڈالنا ہے

*اے میری بہنوں!* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بے مثال تھی
سیرت بے نظیر تھی
صورت لاجواب تھی
خوبصورتی بے حساب تھی
کتاب بے مثل تھی
احادیث جامع تھی
احکام وسیع تھے
کلام حکیم تھا
غرض تمام اجزاء اس بات کی تلقین کرنا چاہتے ہیں اب نبوت و رسالت کا اختتام ہو گیا ہے لہذا اس عظیم رسالتی نبوتی پیغامات کی حفاظت کرو تاقیامت آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر رکھو تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بول کا چرچہ ہوتے رہے اللہ تعالی نے فرما دیا ہم ہی نے یہ شریعت کو نازل کیا ہے ہم اس کی حفاظت کریں گے اب تا قیامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قائم رہے گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب قائم رہے گی کتاب بھی پڑھی جائے گی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مطابق دستور چلے گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا ثبوت تمام آنے والی امت تک پہنچے گا اللہ پاک جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ہونے کا اعلان کیا ہے تو ایک اور اعزاز کا اعلان کیا ہے لوگو مسلمانوں ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری پیغمبر بنایا ہے ان کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ہے لہذا اب تبلیغ دین کی ذمہ داری ہر عام و خاص کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ختم نبوت کی حفاظت کرے اور اس کی تلقین کرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری مخلوقات کی طرف نبی اور رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور یہ بات بھی عیاں ہیں کہ اکثر بے زبانوں نے قدرت الہی کے حکم سے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دی بے جان نے جواب میں کلمہ شہادت کا اقرار کیا بہت ساری مخلوقات کو تک معلوم تھا کہ نبوت ختم ہو چکی ہے یعنی نبوت جیسی ذمہ داری ایک ذمہ دار شخص اور معتبر شخص کے ذمہ سپرد کی گئی تھی اور وہ ذات اکبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے آپ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد یہ ذمہ داری صحابہ سے علماء پر ڈالی گئی ہمیں چاہیے کے ختم نبوت کے محافظین علماء کرام سے اپنے عقیدے کی اصلاح کروائیں اپنے علاقے میں پنپنے والے فتنوں کی اطلاع فرمائیں جس سے ہمارے ایمان کو تحفظ مل سکے اللہ پاک ہم سب کی مدد فرمائیں اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائیں اللہ ہم سب کے دلوں کو ختم نبوت پر قائم رکھے اللہ پاک صحیح کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین جزاکم اللہ خیرا
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
بنوک قلم: فردوس جہاں مظاہری نعمانی