👑🌹👑🌹👑🌹👑🌹👑🌹
*کم عمری کا نکاح سماج کا اہم تقاضہ*
*نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد*
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ
قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم”اِعْلِنُوْا ہٰذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوہُ فِی الْمَسَاجِدِ“ (اوکما قال علیہ الصلاۃ والسلام)
معاشرت و معیشت کی بنیاد نکاح کی اینٹ پر جمائی جاتی ہے جس میں تولید و تعمیر کا اندازہ کچھ نہ سمجھ لوگ 18 سال کے عمر سے لگواتے ہیں جو کہ قابل فہم بات نہیں ہے ہمیں اس بات کا یقین نہیں مل جاتا کہ 18 سال سے کم عمر والی لڑکی تولید کی صلاحیت نہیں رکھتی اور 18 سال کی عمر والی لڑکی تولید کی صلاحیت رکھتی شرعی اور طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عورت کا بالغ ہونا ہی تولید کی صلاحیت والی ہونا معلوم اور متعین ہے جو لوگ 18 سال والی عمر کا تقاضا کر رہے ہیں یا 18 کی پیمائش کو ہی صحیح قرار دیتے ہیں وہ غیر مقبول اور نا سمجھ بات ہے اور
♦️دیکھنے کی بات سمجھنے کی بات اور تفکر و تدبر کی بات یہ ہے کہ جس ماحول میں بے حیائی زیادہ۔ گندی فلمیں زیادہ پھیلی ہوئی ہیں کھلم کھلا زنا کی ویڈیوز ہر بالغ و نابالغ کے زیر نظر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بالغ تو بالغ نابالغ کے بھی جذبات ابھر رہے ہیں بچہ بچہ ہسبینڈ وائف کا میننگ جاننے لگا ہے بچہ بچہ شادی کا عین معنی و مفہوم تک پہنچ چکا ہے بچہ بچہ لڑکی کا خوبصورت ہونا لڑکی کا بدصورت ہونا بھی جان لیا ہے
♦️ میری ماں اور بہنوں! ایک دور ایسا تھا کہ 15 سال کا لڑکا کسی انٹی یا لڑکی سے نظر اٹھا کر بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا لیکن آج کا دور لڑکی سے نظر ملا کر بات نہ کرنے میں شرم محسوس کر رہا ہے اس صورتحال میں نکاح کے لیے 18 سال کی قید لگانا *ظلم عظیم* کا مصداق ہے
ایسےپر فتن دور میں یہ جاہلانہ رواج سے حکومت کا اندھا پن ظاہر ہو رہا ہے سرکار کے جاہل ہونے کی دلیل ہے
♦️ اب سوال یہ ہے کہ ایسی بے راہ روی میں کیا بالغ لڑکی اور لڑکے کو نکاح کی اجازت نہ دینی چاہیے اس ماحول میں کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا جنسی تجربات زیادہ مضر ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے حالات کی بہتری کے لیے حاکم و سرکار کو جاگنا ہوگا اس مضر اثرات کا سد باب کرنا ہوگا یہ حکم لاگوکرنا ہوگا کہ تعلیم سے زیادہ تربیت کے میدان ہو تعلیم کے آڑ میں بچہ جنسی تسکین کا شکار ہو رہا ہے لڑکیاں اپنا حمل ساقط کرنے میں لگی ہوئی ہے وقتی چین وسکون میں مستقبل خراب کر رہی ہے حکومت اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ یہ غیر امن جنس پرستی کے طوفان کو دبایا جائے اور معاشرے کو ملک کواس گندگی سے اس گندے سیلاب سے بچایا جائے کیونکہ یہاں مسئلہ چلڈ میرج کا نہیں چلڈ سیکس کا ہے ہمارے سامنے امریکہ میں ریکارڈ کی گئی فہرست کھولا جائے تو بڑی شرمندگی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ 2450 لڑکوں سے979 لڑکیوں کو ناجائز حرام بچے پیدا کر چکی ہیں اگرچہ یہ شماریہ یہ تحقیق غیر ملکی ہے لیکن ہمارے ملک کا کوئی شمارہ تیار نہیں ہوا صورتحال سے تو ہمارے ملک کی کارکردگی بھی اس سے کم نہیں ہے
♦️ قابل فکر اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دن بدن کم عمری کے نکاح کا رجحان ختم ہو رہا ہے جب تک ماحول کے اعتبار سے فتنہ فساد کے خاتمے کا کوئی علاج اور پلاننگ نہیں کی جائے گی ملک میں بگاڑ اور فساد ختم نہیں ہوگا اور یہ کم عمری کے نکاح کا مسئلہ صرف مسلم سماج کا نہیں بلکہ مسلم سماج سے زیادہ ہندو سماج میں بھی پایا جاتا ہے کم سنی کے نکاح کا قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے *وابتلواالیتامی حتیٰ اذا بلغوا النکاح فان انستم رشدا* ہمیں قانونی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطۂ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے اسلام میں اخلاق کا بہت بڑا دخل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق* جنسی بے راہ روی سے جنسی جذبات کے بے قابو ہونے سے انسان اپنے اخلاق کا سودا کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے ملک ۔ شہر ۔ علاقہ متاثر ہوتا ہے ایک کا جرم سب کے لیے باعث شرم بھی ہوسکتا ہے باعث ہمت بھی ہو سکتا ہے انسان جس نظریے سے دیکھے گا اس کو اختیار کرے گا ہر جنسی بداخلاقی انسان کے اخلاق کے ساتھ جسمانی ہیئت کے لیے بھی نقصاندہ ہے شرعی حکم ہے قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ یتیموں کو آزماؤ اور جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور تم ان سے ہوش مندی محسوس کرو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو یہاں پر نکاح کو بالغ ہونے کے قریب بیان کیا گیا ہے جب وہ بالغ ہو جاؤ تو نکاح کے قابل سمجھو آیت شریفہ کا کھلا سبق یہی ہے کہ بالغ لڑکا بالغ لڑکی کا نکاح کر دینا چاہیے فتنہ و فساد بگاڑ و طوفان کے پیدا ہونے سے پہلے احتیاط برتنا ضروری ہے گندے دلدل میں پھنسنے سے پہلےہوش کی زندگی گزارنا عقلمند انسان کی نشانی ہے جب انسان بالغ ہوتا ہے تو نکاح کو شرعاً و قانوناً اختیار کرنے کا اہل ہوتا ہے اور ہم نبی کی زندگی کی طرف رخ کرتے ہیں تو نبی کے ازواج میں حضرت عائشہ کا نکاح بالغ لڑکی کے نکاح کے جواز میں ترغیب و ترہیب کے ساتھ فضیلت کا نشان معلوم ہوتا ہے اور نبی کی بنات بھی بلوغ کے فورا بعد نکاح میں باندھی گئی صحابہ نے بھی کم عمر میں نکاح کیے اور کم عمری میں نکاح کی بہت سی مسیحیتیں ہیں لیکن دو بنیادی مصلیحتیں قابل ذکر ہے
▪️ نمبر ایک اخلاق ہے حسنہ کا بچہ ہوا اور بداخلاق کا زہر ختم ▪️نمبر دو والدین ذمہ داری کو جلدی امانت داری سے ادا کر دیں گے اور اولاد کی گناہ میں مبتلا ہونے پر اس کے عذاب سے محفوظ ہو جائیں گے قرآن مجید میں مایوس حیض والی عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت رکھی ہے اور اس کی اور ان کی طلاق ہو سکتی ہے ان کی مدت تین حیض بتائی ہے حضرت عائشہ کا نکاح نابالغ عمر میں پڑھایا اور بالغ ہوتے ہی رخصتی کی گئی حضرت عمر نے اپنے فرزند کا نکاح نابالغ عمر میں پڑھایا
حضرت عروہ نے اپنی بھتیجی کا نکاح بھانجے سے کیا جبکہ دونوں نابالغ تھے
جب لڑکے لڑکیاں بالغ ہو جائیں تو ان کا نکاح جلدی کر دینا چاہیے تاکہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہو چنانچہ قرآن مجید میں غیر شادی شدہ بالغ لڑکی لڑکیوں کے نکاح کا حکم دیا گیا کہا گیا *وانکحواالایامی منکم* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نوجوانوں کا گروہ ہے تم میں سے جو بیوی کے مالی حقوق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے اس لیے کہ یہ نگاہوں کو پست رکھنے والا اور عصمت کا محافظ ہے
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تورات میں لکھا ہوا ہے کہ جس کی بیٹی 12 سال کی عمر کو پہنچ گئی اس نے اس کا نکاح نہ کیا اور وہ گناہ کی مرتکب ہوئی تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہوگا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو بیٹا ہو وہ اس کا اچھا نام رکھے اور بہتر تربیت کرے پھر جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کا نکاح کرے اگر بالغ ہو گیا اور اس کانکاح نہ کیا پھر اس نے کوئی گناہ کیا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر بھی ہوگا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کی پانچ سال سے 15 سال کی عمر میں جتنی صلاحیتیں اور زندگی کا جو شعور سکھلا سکتے ہیں مکمل جدوجہد کے ساتھ ضرور سکھلائیں بچے پانچ سال کی عمر سے اچھی بری سستی مہنگی مزیدار اور غیر لذت چیزوں کو جاننے کی صلاحیت کے مالک ہو جاتے ہیں چاہیے کہ تربیت میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑے محنت کریں بچوں کی جوانی بچائیں اور اپنا بڑھاپا بنائیں اچھی تربیت بوڑھے والدین کا سہارا بنتی ہے قابل لحاظ بات ہے کہ آغاز شباب میں جذبات کی شدت ہوتی ہے ایسے ماحول میں نکاح سے روکنا گناہ کی طرف قدم بڑھاتا ہے اور اللہ کے واسطے نکاح کی تاخیرجو آج کا اہم فیشن بن چکا ہے اس کو ختم کریں
نبی کی سنت کو
صحابہ کی سنت کو۔ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کو
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کو
صحابیات مطہرات کی سنت کو اپنائیں اور اس کو عام کریں
اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے شرعی احکام کے پابند بنائیں شریعت مطہرہ کی مکمل حفاظت فرمائیں اور اس پر عمل کرنے کی مکمل آزادی عطا فرمائے امین یا ربّ العٰلمین
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
جزاکم اللہ خیرا فی الدارین
بنوک قلم: فردوس جہاں مظاہری نعمانی
(خادمہ مدرسہ ھبۃ الرحمن للبنات)