ویلنٹائن ڈے: محبت کا شرعی و اخلاقی معیار
12 فروری، 2026
ویلنٹائن ڈے کو عموماً محبت کے اظہار کا دن سمجھا جاتا ہے، مگر سنجیدہ فکر رکھنے والوں کے نزدیک یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ ہم کس محبت کو مناتے ہیں اور کس طریقے سے۔ محبت اگر محض جذبات کی تسکین بن جائے تو وہ دیرپا نہیں رہتی، لیکن اگر وہ ذمہ داری، احترام اور حدود کے ساتھ ہو تو انسانی معاشرے کو مضبوط کرتی ہے۔
اسلامی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے محبت کوئی ممنوع جذبہ نہیں، بلکہ وہ ایک فطری کیفیت ہے جسے ضابطے اور اخلاقی اصولوں کے اندر رکھا گیا ہے۔ ماں باپ سے محبت، شریکِ حیات سے وفاداری، استاد کا احترام اور انسانیت سے خیرخواہی—یہ سب محبت کی وہ صورتیں ہیں جو کردار بناتی ہیں، نہ کہ وقتی خوشی۔
ویلنٹائن ڈے کا المیہ یہ ہے کہ اسے اکثر commercial culture کے تحت پیش کیا جاتا ہے، جہاں جذبہ کم اور نمائش زیادہ ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ نوجوان نسل محبت کو ایک ذمہ دار عمل کے طور پر سمجھے، نہ کہ ایک دن کی رسم کے طور پر۔
اہلِ دانش کے نزدیک اصل سوال دن منانے کا نہیں، بلکہ محبت کے معیار کا ہے۔ اگر محبت انسان کو اخلاق، وفا اور ضبطِ نفس سکھائے تو وہ قابلِ قدر ہے، اور اگر وہ حدود توڑ دے تو وہ صرف فتنہ بن جاتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کو جذبات نہیں بلکہ کردار سے پہچانا جائے، کیونکہ جو محبت انسان کو بہتر انسان بنائے، وہی حقیقی محبت کہلانے کی مستحق ہے۔ویلنٹائن ڈے: محبت کا شرعی و اخلاقی معیار