مکّہ مکرّمہ: محورِ عالم، مظہرِ قدرت اور قلعہء توحید
مطالعہ و مشاہدہ: سلیمان قریشی
روئے زمین پر کچھ خطے ایسے ہیں جنہیں خالقِ کائنات نے محض جغرافیائی وجود نہیں، بلکہ ایک روحانی حقیقت بنا کر اتارا ہے۔ ان میں سرِفہرست، بلاشبہ، ام القریٰ مکّہ مکرّمہ ہے۔ یہ شہرِ بے مثال محض پتھروں اور پہاڑوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ کائناتِ ارضی کا وہ نقطہء ماسکہ ہے جہاں تاریخِ انسانی کا رخ متعین ہوا، جہاں قدرت نے اپنے جلال و جمال کے نشانات ثبت کیے، اور جہاں سے توحیدِ خالص کی شعاعیں پھوٹ کر عالمِ انسانیت کو منور کر گئیں۔ یہ وادیِ غیر ذی زرع، درحقیقت، انسانیت کی روحانی کھیتی کا سب سے زرخیز قطعہ ہے۔
مرکزیتِ ارضی اور کششِ روحانی
مکّہ مکرّمہ کی حیثیت محض ایک شہر کی نہیں، بلکہ یہ عالمِ اسلام کا دھڑکتا ہوا دل اور روحانی ثقل کا مرکز (Center of Gravity) ہے۔ جس طرح نظامِ شمسی میں سیارے ایک متعین مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں، اسی طرح دنیائے انسانیت کے قلوب و اذہان کا طواف اسی بیتِ عتیق کے گرد جاری ہے۔ یہ وہ مقناطیسی مرکز ہے جو ہر صاحبِ ایمان کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ جدید جغرافیائی تحقیقات اگر اسے زمین کا خشکی کا مرکز قرار دیتی ہیں تو یہ اس روحانی حقیقت کا ایک مادی ثبوت محض ہے کہ یہ مقام فطری طور پر اس لائق تھا کہ اسے انسانیت کا قبلہ قرار دیا جائے۔ مشرق و مغرب میں بسنے والے کروڑوں انسان جب دن میں پانچ مرتبہ اپنی پیشانیاں اسی ایک نقطے کی جانب جھکاتے ہیں، تو یہ اس بات کا عملی اعلان ہوتا ہے کہ ہماری وفاداریوں کا مرکز اور ہماری اطاعتوں کا محور صرف اور صرف یہی ایک مقام ہے جو ربِ کائنات کا مقرر کردہ ہے۔
قدرتِ کاملہ کے محیّر العقول اشارے
اس وادیِ مکہ پر نظر ڈالیے، جہاں ظاہری اسبابِ زیست مفقود تھے، جہاں زندگی کا تصور محال تھا۔ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا اپنی اہلیہ اور شیر خوار فرزند کو اس بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑ جانا، بظاہر عقلِ انسانی کے لیے ایک ناقابلِ فہم معمہ تھا، مگر درحقیقت یہ "قدرت کا ایک عظیم اشارہ" تھا۔ اللہ تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جہاں اس کا حکم اور اس کی رضا شاملِ حال ہو، وہاں ریگزاروں کے سینے سے زمزم کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
یہاں کے در و دیوار پر تاریخِ الٰہی کے نقوش ثبت ہیں۔ صفا و مروہ کی سعی، ایک ماں کی تڑپ اور پھر اللہ کی رحمت کے نزول کی زندہ یادگار ہے۔ یہ مقامات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہاں مادی اسباب کی حکمرانی نہیں، بلکہ مسبب الاسباب کی براہِ راست کارفرمائی ہے۔ تاریخ کے بدترین طوفانوں، حوادث اور دشمنوں کی یلغاروں کے باوجود اس گھر کا اپنی اصل بنیادوں پر قائم رہنا خود ایک بہت بڑی آیتِ الٰہی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس گھر کا محافظ کوئی انسان نہیں، بلکہ خود ربِ کعبہ ہے۔
عقیدہء توحید کا عملی اور زندہ مظہر
مکّہ مکرّمہ کی سب سے بڑی اور بنیادی شناخت "عقیدہء توحید" ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے شرک کے تمام بتوں کو پاش پاش کر کے خدائے واحد کی پرستش کا علم بلند کیا۔ بیت اللہ، درحقیقت، روئے زمین پر توحید کا پہلا اور سب سے مضبوط قلعہ ہے۔
حج کا عظیم الشان اجتماع اس عقیدہء توحید کی ایک ایسی عملی تصویر پیش کرتا ہے جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں ملنا محال ہے۔ جب دنیا بھر سے مختلف رنگ، نسل، زبان اور طبقات کے لوگ اپنے تمام دنیوی امتیازات کو تج کر، ایک ہی لباس (احرام) میں ملبوس، دیوانہ وار "لَبَّیْكَ اللَّهُمَّ لَبَّیْكَ" کی صدائیں بلند کرتے ہیں، تو یہ نظارہ اس بات کا بین ثبوت ہوتا ہے کہ یہاں بادشاہ اور فقیر، آقا اور غلام کی کوئی تفریق نہیں۔ یہاں سب کے سب صرف ایک رب کے بندے ہیں۔
طواف کا منظر کائنات کی فطری گردش کی عکاسی کرتا ہے۔ جس طرح ہر ذرہ اپنے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے، اسی طرح انسان بھی اپنے حقیقی مرکزِ بندگی یعنی اللہ وحدہٗ لا شریک کے گرد محوِ طواف ہے۔ یہ مقام انسان کو درس دیتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد غیر اللہ کی غلامی سے نکل کر صرف ایک اللہ کی بندگی میں آنا ہے۔ یہاں آکر انسان اپنی خودی کو مٹا کر خدا کی کبریائی کا اقرار کرتا ہے۔
مکّہ مکرّمہ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک کیفیت کا نام ہے، ایک نظریے کا نام ہے، اور ایک تحریک کا نام ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جو بھٹکی ہوئی انسانیت کو اس کے اصل خالق و مالک سے جوڑتا ہے۔ یہ قدرت کا وہ نشان ہے جو مادیت پرست دنیا میں روحانیت کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ توحید کا وہ ابدی مرکز ہے جو قیامت تک انسانوں کو پکارتا رہے گا کہ تمہاری نجات، تمہاری فلاح اور تمہارا سکون صرف اور صرف سر جھکا دینے میں ہے—اس رب کے آگے۔ جو اس گھر کا رب ہے۔
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ