اللہ ربّ العزت نے ہم انسانوں کو اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا اور ایک مقررہ مہلت دے کر اسے اس دنیا میں بھیجاہے، یہ دنیا سیر گاہ نہیں، تماشا گاہ نہیں، آرام گاہ نہیں اور نہ ہی مستقل قیام گاہ ہے، بلکہ یہ خالص امتحان گاہ ہے۔ افسوس کہ ہم نے اسے امتحان گاہ کے بجائے چراگاہ بنا لیا ہے۔
ہمیں آزمائش کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ "الدنیا دارُ المحن" یعنی دنیا آزمائشوں کا گھر ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی صورت میں آزمایا جا رہا ہے۔ حالات سب کے مختلف ہیں؛ کسی کو اللہ ربّ العالمین عطا کرکے آزماتے ہیں اور کسی سے چھین کر آزماتے ہیں۔ کوئی شخص اپنے بیٹے کا کفن خرید رہا ہے اور کوئی بیٹے کی شادی کے لیے لباس خرید رہا ہے۔ ایک نوجوان اپنی دلہن کو گھر لا رہا ہے اور دوسرا اپنی شریکِ حیات کا جنازہ کندھے پر اٹھائے ہوئے ہے۔ کسی کو کاروبار میں بے پناہ نفع ملا اور کسی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ کوئی صحت کی نعمت سے مالا مال ہے اور کوئی بیماری کی آزمائش میں مبتلا ہے۔
یہ دنیا واقعی امتحان گاہ ہے، یہاں حالات بدلتے رہتے ہیں اور دن گردش میں رہتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ بندہ شکر ادا کرتا ہے یا نہیں، اور جب وہ واپس لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ بندہ صبر کرتا ہے یا نہیں۔ شکر کرنے والا بھی کامیاب ہے اور صبر کرنے والا بھی سرخرو ہے، کیونکہ دونوں کے لیے جنت کی بشارت ہے۔
پس مؤمن کے لیے ہر حال میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ یہی وہ بنیادی سبق ہے جسے ہمیں سمجھنے اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔
🪶از:ح عائش✰