مسلسل تین ہفتوں سے غزہ میں تھرموبیرک اور حرارتی ہتھیاروں کے استعمال کا بڑا انکشاف

ایک تازہ تصدیق شدہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں میں پیچھلے تین چار ہفتوں سے ایسے انتہائی طاقتور ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں جن سے فلسطینیوں کے جسم کے کوئی ٹھوس آثار باقی نہیں رہے یہ رپورٹ الجزیرہ کی خصوصی انویسٹی گیشن “The Rest of the Story” پر مبنی ہے۔ 

 غزہ میں 2,842 کے قریب فلسطینی ایسے ہتھیاروں کے حملوں میں چند ہفتے قبل لاپتہ ہوئے ہیں جن کے جسم کے آثار تک نہیں ملے.
یہ اعداد و شمار غزہ کی سِول ڈیفنس ٹیموں کے فیلڈ ڈیٹا پر مبنی ہیں، نہ کہ محض اندازے پر۔ 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے صرف چھوٹے ٹکڑوں، خون کے دھبوں یا راکھ جیسے نشانوں کے ساتھ ملے ہیں یعنی جسم کے بڑے حصے نہیں ملے۔ 
 ان حملوں میں تھرمل اور تھرموبیرک (High-Temperature / Vacuum) ہتھیار استعمال کیے گئے، آور مزید ہو رہے ہیں جن میں بہت زیادہ حرارت اور دباؤ پیدا ہوتا ہے — اتنا کہ انسانی جسم کو تقریباً راکھ یا بخارات (vapour) میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ 

 رپورٹ میں ان ہتھیاروں میں امریکی ساختہ بم جیسے MK-84، BLU-109 اور GBU-39 شامل بتایا گیا ہے، جو انتہائی طاقتور ایکسپلوسیو مواد استعمال کرتے ہیں۔ 

مستند ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار عام دھماکوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہیں، اور ان سے جسم کے اندر موجود پانی اور ٹشوز انتہائی تیزی سے بخارات میں بدل سکتے ہیں یعنی جسم کا پتہ ہی نہیں 

کئی قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کا استعمال جہاں انسانی نشانات ختم کردے، وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنگی اصولوں کے ماتحت سوالات اٹھاتا ہے۔ 

ایک متاثرہ فلسطینی خاتون کہتی ہیں کہ اُس نے اپنے بیٹے کے جسم کی تلاش کی، لیکن نہ کوئی لاش ملی، نہ کوئی نمایاں نشان صرف خون کے نشانات ملے ہیں 

یہ معلومات درست تصدیق شدہ رپورٹ پر مبنی ہیں، سرکاری طور پر عالمی عدالت یا اقوام متحدہ نے اسے جنگی جرم قرار نہیں دیا ہے البتہ بہت سے ماہرین اور تنظیمیں رپورٹ کے نتائج پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
اور ہمارے نام نہاد مسلم حکمران جو اقوام متحدہ کوانصاف کا منبع  مانتے ہیں ۔
ان سے سوال ہے کہ کیا یہی انصاف ہے؟
انصاف کے رکھوالو! سنو انصاف کا سورج چمکے گا،اوراسلام کا سورج مکمل آب وتاب سے چمکے گا
آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔
انشاء اللہ ۔
ہم بھی پر امید ہیں ،اہل غزہ کی طرح ۔
ہم بھی حوصلے بلند رکھیں گے ۔
اہل غزہ کی طرح ۔
ہم بھی جہدوجہد کریں گے ۔
اہل غزہ کی طرح ۔