رمضان ا رہا ہے لوگ کہتے ہیں کہ بھکاریوں کو نہ دیں تو پھر کیا کریں؟
ہمیں سفید پوش نظر ہی نہیں آتے، اور معلوم بھی نہیں ہوتا کہ سفید پوش کون ہے؟
جو آپ کے گھر پانی سپلائی کرتا ہے، وہ سفید پوش ہے۔
بینک کے باہر کھڑا سیکیورٹی گارڈ سفید پوش ہے۔
آپ کے گھر کام کرنے والی خاتون سفید پوش ہے۔
گلی میں غبارے، غبارے یا کوئی معمولی چیز بیچنے والا سفید پوش ہے۔
چھان بورا یا کباڑ خریدنے والا سفید پوش ہے۔
درخت کے سائے یا تیز دھوپ میں بیٹھا بوڑھا سبزی فروش سفید پوش ہے۔
روزے کی حالت میں موٹر سائیکل پر فوڈ ڈیلیوری کرنے والا نوجوان سفید پوش ہے۔
چوک میں بیٹھ کر جوتے پالش کرنے والا، یا گانٹھنے والا سفید پوش ہے۔
گلی کا خاکروب سفید پوش ہے۔
قریبی پارک کا مالی سفید پوش ہے۔
مسجد کا وہ امام جو معمولی تنخواہ پر پورا گھر چلا رہا ہے، سفید پوش ہے۔
ورکشاپ میں کام کرنے والے بارہ تیرہ سال کے بچے سفید پوش ہیں۔
سارا دن دھوپ میں اینٹ، سیمنٹ اور لوہے کے ساتھ جدو جہد کرنے والا مزدور سفید پوش ہے۔
کسی گھر کا واحد کمانے والا فرد سفید پوش ہے۔
اور غور کیجیے…
آپ کے اپنے خاندان میں بھی کئی سفید پوش ہوں گے۔
انہیں تلاش کیجیے۔
چہرے پڑھنا سیکھئے۔
اور جب دل اجازت دے…
تو چپکے سے ان کے ہاتھوں میں، ان کے گھروں میں دے آئیے۔