*😢خدارا مغربی تہذیب نے عورت کی عزت کو کھلونا بنا دیا😢*
مغربی تہذیب نے عورت کو کھیل کے میدانوں میں تماشائی بنا کر بٹھا دیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے غیر ضروری اختلاط سے بچنے اور نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا، مغربی تہذیب نے اسے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نعروں میں مشغول کر دیا، جبکہ قرآن نے مومن عورتوں کو اپنی نگاہوں اور عصمت کی حفاظت کا حکم دیا، مغربی تہذیب نے اسے فیشن شوز کی زینت بنا دیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی زینت ظاہر نہ کرنے کی تعلیم دی، مغربی تہذیب نے اسے اشتہارات کا چہرہ بنا دیا، جبکہ ربُّ العالمین نے اسے نمائش سے بچانے کے لیے پردے کا حکم دیا، *مغربی تہذیب نے اسے اسٹیج پر گانا گانے کی اجازت دی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آواز کی نزاکت کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے اذان و اقامت سے مستثنیٰ رکھا۔*
مغربی تہذیب نے اسے ڈراموں اور فلموں کا کردار بنا دیا، جبکہ شریعت نے اسے غیر محرم کے سامنے بناؤ سنگھار کے ساتھ آنے سے روکا، مغربی تہذیب نے اسے بیوٹی مقابلوں میں کھڑا کیا، جبکہ نبی کریم ﷺ نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا، مغربی تہذیب نے اسے مخلوط محفلوں میں شامل کیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں اور عورتوں کی صفیں جدا رکھنے کا حکم دیا، مغربی تہذیب نے اسے غیر محرم کے ساتھ لمبے سفروں پر بھیجا، جبکہ حدیث میں عورت کو محرم کے بغیر سفر سے منع کیا گیا، مغربی تہذیب نے اسے رات کی پارٹیوں اور تقریبات کی رونق بنا دیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے وقار کے ساتھ گھروں میں رہنے کی تلقین فرمائی، مغربی تہذیب نے اسے سوشل میڈیا کی نمائش بنا دیا، جبکہ قرآن نے اسے جلباب اوڑھنے کا حکم دیا تاکہ وہ پہچانی جائے اور محفوظ رہے، مغربی تہذیب نے اسے میک اپ اور فیشن کی صنعت کا ذریعہ بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے زینت کو چھپانے کا حکم دیا، *مغربی تہذیب نے اسے کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر جہاد فرض نہیں کیا تاکہ وہ فتنوں سے محفوظ رہے۔*
 مغربی تہذیب نے اسے بازاروں کی کشش بنایا، جبکہ حدیث میں آیا کہ عورت کے لیے بہترین جگہ اس کا گھر ہے، مغربی تہذیب نے اسے مخلوط تعلیم اور اجتماعات کا لازمی حصہ بنایا، جبکہ شریعت نے بے ضرورت اختلاط سے روکا، مغربی تہذیب نے اسے رقص گاہوں اور موسیقی کی محفلوں میں شامل کیا، جبکہ اسلام نے فتنہ کے اسباب سے دور رہنے کی تعلیم دی، مغربی تہذیب نے اسے ایوارڈ شوز کی نمائندگی دی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے سادگی اور حیا کا تاج پہنایا، مغربی تہذیب نے اسے سیاسی جلسوں کی زینت بنایا، جبکہ شریعت نے اسے فتنوں سے بچانے کا اہتمام کیا، مغربی تہذیب نے اسے میڈیا کی ریٹنگ کا سہارا بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت کو پردے میں رکھا۔
مغربی تہذیب نے اسے آزادی کے نام پر بے پردگی کا راستہ دکھایا، جبکہ قرآن نے حیاداری کو عزت کا معیار قرار دیا، مغربی تہذیب نے اسے مخلوط کھیلوں میں شریک کیا، جبکہ اسلام نے اسے غیر محرم کے سامنے نمایاں ہونے سے روکا، مغربی تہذیب نے اسے گلیمر کی دنیا میں داخل کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے وقار اور متانت کی تعلیم دی، مغربی تہذیب نے اسے تصاویر اور ویڈیوز کی تشہیر کا ذریعہ بنایا، جبکہ شریعت نے ستر کی حفاظت کو لازم قرار دیا، مغربی تہذیب نے اسے ریمپ واک کا حصہ بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے چال میں حیا اور سنجیدگی کا حکم دیا، مغربی تہذیب نے اسے اسٹیج کمپیئرنگ کا عنوان بنایا، جبکہ ربُّ العالمین نے اسے نرم گفتگو میں بھی احتیاط کی تعلیم دی، مغربی تہذیب نے اسے مخلوط دفاتر اور ماحول میں بے تکلفی سکھائی، جبکہ قرآن نے بات چیت میں بھی نرمی سے بچنے کا حکم دیا تاکہ دلوں میں کھوٹ پیدا نہ ہو، مغربی تہذیب نے اسے فلمی صنعت کی ضرورت بنایا، جبکہ شریعت نے اسے غیر محرم کے سامنے اظہارِ زینت سے روکا، *مغربی تہذیب نے اسے اولمپکس میں نمائش کا حصہ بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر جمعہ اور جماعت فرض نہ کی تاکہ وہ مشقت اور اختلاط سے محفوظ رہے* مغربی تہذیب نے اسے اسٹیڈیموں کی گیلریوں میں بٹھایا، جبکہ شریعت نے اسے وقار کے ساتھ رہنے کی تلقین کی، مغربی تہذیب نے اسے سیلفی کلچر میں مشغول کیا، جبکہ اسلام نے اسے عاجزی اور حیا کا درس دیا، مغربی تہذیب نے اسے پارکوں اور میلوں میں بے پردہ گھمایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جلباب کے ذریعے حفاظت کا حکم دیا۔
مغربی تہذیب نے اسے رات کی روشنیوں میں نمایاں کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت کو سادگی میں رکھا، مغربی تہذیب نے اسے اشتہاری بورڈز پر آویزاں کیا، جبکہ شریعت نے اسے ستر کی حفاظت کا پابند کیا، مغربی تہذیب نے اسے تفریحی پروگراموں کا مرکز بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ذکر و عبادت کی طرف متوجہ کیا، مغربی تہذیب نے اسے مقابلہ حسن کا عنوان بنایا، جبکہ اسلام نے حسن کو حیا کے پردے میں محفوظ رکھا، مغربی تہذیب نے اسے غیر محرم کے سامنے ہنسی مذاق میں شریک کیا، جبکہ شریعت نے وقار اور سنجیدگی کی تعلیم دی، مغربی تہذیب نے اسے آزاد خیالی کا نشان بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عفت کا پیکر بنایا، مغربی تہذیب نے اسے اسکرین کی چمک میں پیش کیا، جبکہ ربُّ العالمین نے اسے عزت کے حصار میں رکھا، مغربی تہذیب نے اسے مردوں کے شانہ بشانہ مخلوط دوڑ میں شامل کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے فتنہ سے بچانے کا اہتمام کیا، مغربی تہذیب نے اسے کھلے عام آرائش کی ترغیب دی، جبکہ قرآن نے زینت کو چھپانے کا حکم دیا، مغربی تہذیب نے اسے مخلوط تقریبات کی میزبان بنایا، جبکہ شریعت نے غیر محرم سے فاصلہ رکھنے کی تعلیم دی، مغربی تہذیب نے اسے ڈانس شوز میں شریک کیا، جبکہ اسلام نے حیا اور سنجیدگی کو عورت کا زیور قرار دیا، مغربی تہذیب نے اسے نام و نمود کی دوڑ میں لگا دیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت کی کامیابی کی طرف بلایا، مغربی تہذیب نے اسے گلیمر انڈسٹری کی علامت بنایا، جبکہ ربُّ العالمین نے اسے ماں، بیٹی اور بہن کے معزز مقام پر فائز کیا، مغربی تہذیب نے اسے آزادی کے نام پر گھروں سے نکالا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے سکون اور حفاظت کے لیے گھر کو بہترین قرار دیا، مغربی تہذیب نے اسے اظہارِ جسم کا ذریعہ بنایا، جبکہ شریعت نے اسے ستر ڈھانپنے کا حکم دیا، مغربی تہذیب نے اسے مخلوط محفلوں کی ہنسی بنایا، جبکہ اسلام نے اسے وقار اور خاموشی کی زینت عطا کی، مغربی تہذیب نے اسے بازارِ تجارت کا ہتھیار بنایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت و حرمت کا تاج پہنایا، مغربی تہذیب نے اسے آزادی کا نعرہ دیا، جبکہ درحقیقت اس سے اس کا وقار چھین لیا۔
مغربی تہذیب نے عورت کو عزت نہیں دی بلکہ اس سے عورت کا وقار چھین لیا، اسے تحفظ نہیں دیا بلکہ نمائش بنا دیا، اسے مقام نہیں دیا بلکہ استعمال کیا، واللہ العظیم! وہ عورت کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں، اے اللہ! ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کی حفاظت فرما اور انہیں ہر فتنے سے محفوظ رکھ آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ😥

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*