نقاب پوش کا اخلاص!!
نقاب پوش شہیدؒ کی پراسرار زندگی کی حیران کن باتیں ان کی شہادت کے بعد کھل رہی ہیں۔ ان کے بھائی ابراہیم الکحلوت لکھتے ہیں کہ 2021ء کی بات ہے کہ معرکہ سیف القدس سے چند روز قبل جبالیا میں ایک عسکری نمائش کا انعقاد ہوا۔ میں بھی بھائی جان کے ساتھ اس میں شریک تھا۔ وہ میرے برابر میں ہی عام سامعین کی طرح کھڑے ہو کر اسٹیج سے ہونے والی گفتگو سنتے رہے اور شہادت کی انگلی اٹھا کر نعروں کا جواب دیتے رہے۔ میں نے کئی بار ان کی تصویر بنانے کی کوشش کی، لیکن نہیں ہو سکا۔
اس دوران لوگ کمانڈر انچیف کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ پھر ابو عبیدہ زندہ باد کے نعرے لگنے لگے۔ میں نے بھائی جان کی طرف دیکھا، وہ ہلکا سا سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ کسی انہیں پہچانا تو نہیں۔ پھر وہاں سے چل پڑے۔ میں جانتا تھا کہ وہ مخلص تھے، اس لیے نہیں گئے کہ لوگوں کی نظروں میں آئیں، بلکہ وجہ یہ تھی کہ کہیں ان کی نیت اور اخلاص میں کوئی فتور نہ آئے۔
مجھے یاد ہے ایک مرتبہ ہم سب گھر میں بیٹھے تھے۔ میری والدہ میرے بھائی حذیفہ کے پاس بیٹھی تھیں اور بڑے فخر سے انہیں بتا رہی تھیں کہ میری سہیلیاں ان کے بارے میں کیا کہتی ہیں، وہ ان کی شخصیت سے کتنی متاثر ہیں، ان کے خطابات کتنے خوبصورت ہوتے ہیں، ان کی بات میں کیسی تاثیر اور الفاظ میں کیسی قوت ہے اور وہ سب ان پر کتنا فخر محسوس کرتی ہیں۔
میں نے دیکھا کہ یہ سب سن کر میرے بھائی کے چہرے پر خوشی کے بجائے ہلکی سی ناگواری اور بیزاری کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے، پھر آہستہ سے اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے۔
کچھ دیر بعد انہوں نے امی کو فون پر ایک پیغام بھیجا، جسے میں نے اپنی آنکھوں سے پڑھا۔ لکھا تھا:
"امی جان! میرے خلاف شیطان کی مدد نہ کیجیے۔"
یہ الفاظ ان کی عاجزی، خوفِ خدا اور نفس کے فتنے سے بچنے کی فکر کا آئینہ تھے۔
آہ دل غمگین ہے تیری شہادت پر ،مگر امتحان تو ہمارے لئے ہے۔
رحمہ اللہ تعالیٰ و اسکنہ فی الفردوس الاعلیٰ۔ آمین