غرض یہ کہ اگر خلیفہ یا امام نہ ہو تو اس کا جہاد غیر شرعی نہیں کہا جا ئے گا 
اگر انہیں شرائط کو مد نظر رکھا جائے تو پھر حماس کا جہاد۔صومالیہ مجاہدین کا جہاد ۔اور تمام عالم میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے مجاہدین کا جہاد جسے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی جائز کہاہو،اوراکابرین نے بھی اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہو۔اور شرعی ہونے کا کہا ہو تو اس پر معترضین کا کیا جواب ہوگا ؟
ہاں جو شرعی حدود کو چھوڑ دیں ۔نفس پرستی کو جہاد کہیں وہ ہر گز جہاد نہیں کہا جائے گا جیسا کہ داعش ۔ان کو البتہ خارجی اور انہیں جیسے لوگ جو اپنی ذاتی عناد کو یا زمین کی لڑائی کو جہاد کہتے ہیں ۔وہ ہر گز اسلامی نہ ہوگا۔
اگر قلم کے ساتھ تلوار نہ ہو تو وہ کبھی فتح یاب نہ ہوگی ۔اور اگر تلوار کے ساتھ قلم نہ ہو تو ظلم ہو سکتا ہے ۔
اور ایسے لوگوں کو آپ مجاہد نہیں کہہ سکتے ۔
اور جو مجاہدین کو دہشت گرد کہتے ہیں ،اور ان کو غیر اسلامی کہتے ہیں دراصل ان کے علم میں کمی ہے ۔
حلانکہ کفار پر رعب ڈالنا قرآن مجید سے ثابت ہے ۔
وأعدولھم ماستطعتم من قوہ ویمن رباط الخیل تر ھبون بہ عدواللہ الخ
دشمن اسلام پر رعب ڈالنے کا حکم دیا ہے ۔
اور مسلمان کو قتل تو دور کی بات ہے ،ڈرانے پر بھی وعید نازل ہوئی ہے ۔
سنن ابی داؤد ۔
واللہ اعلم باالصواب 
ختم شد